پاکستان سمیت تیئس اسلامی ممالک اور اوآئی سی نے اسرائیلی اہلکار کے "صومالی لینڈ" کے غیر قانونی دورے کی مذمت کر دی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق دفترخارجہ نے 23 اسلامی ممالک اوراوآئی سی کا مشترکہ بیان جاری کر دیا جس میں اسرائیل کے ایک اہلکار کے 6 جنوری کو "صومالی لینڈ" کے غیر قانونی دورے کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ دورہ صومالیہ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی صریحاً خلاف ورزی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے منافی ہے۔

اسلامی ممالک نے صومالیہ کی وفاقی جمہوریہ کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ صومالیہ کی خودمختاری، قومی اتحاد اور علاقائی سا لمیت کا احترام کرے اورصومالی لینڈ کی تسلیم کرنے کا فیصلہ واپس لے۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ علیحدگی پسند ایجنڈے کی حوصلہ افزائی ناقابل قبول ہے جو پہلے سے کشیدگی کے شکار خطے میں تناوٴ کومزید بڑھا سکتی ہے۔

مشترکہ بیان الجزائر، بنگلہ دیش، کوموروس، جبوتی، مصر، گیمبیا، انڈونیشیا، ایران، اردن، کویت، لیبیا ، مالدیپ، نائجیریا، عمان، پاکستان، فلسطین، قطر، سعودی عرب، صومالیہ، سوڈان، ترکی، یمن اور او آئی سی کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اسلامی ممالک

پڑھیں:

علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق

ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔

متعلقہ مضامین

  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے