پنجاب اسمبلی، بریت کے خلاف اپیل کا اختیار تبدیل، ضابطہ فوجداری پنجاب ترمیم بل 2025 منظور
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
پنجاب اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے ضابطہ فوجداری (پنجاب ترمیم) بل 2025 کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت ملزمان کی بریت کے خلاف اپیل دائر کرنے کے طریقۂ کار میں اہم تبدیلی کی گئی ہے۔ ترمیم کا مقصد اپیل کے عمل کو تیز، مؤثر اور غیر ضروری سرکاری تاخیر سے پاک بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ون کے اجلاسوں کا شیڈول جاری
پنجاب اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے ضابطہ فوجداری پنجاب ترمیم بل 2025 کی منظوری دے دی، جس کے تحت ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 417 میں ترمیم کی گئی ہے۔ اس ترمیم کا تعلق ملزمان کی بریت کے خلاف اپیل دائر کرنے کے اختیار سے ہے۔
بل کے متن کے مطابق اب بریت کے خلاف اپیل دائر کرنے کی منظوری صوبائی حکومت کے بجائے حکومتِ پنجاب کے محکمہ پبلک پراسیکیوشن کے سیکریٹری دیں گے۔ ترمیم کے بعد سیکریٹری پبلک پراسیکیوشن کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ پبلک پراسیکیوٹر کو براہ راست بریت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کی ہدایت جاری کر سکیں۔
بل میں کہا گیا ہے کہ اس ترمیم کا بنیادی مقصد اپیل دائر کرنے کے عمل کو تیز کرنا اور اجازت کے طویل، پیچیدہ اور وقت طلب سرکاری طریقۂ کار کو ختم کرنا ہے۔ ماضی میں اکثر کیسز میں سرکاری منظوری میں تاخیر کے باعث قانونی مدت ختم ہو جاتی تھی، جس کے نتیجے میں بریت کے خلاف اپیل دائر نہیں ہو پاتی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 289 میں ن لیگ کے امیدوار اسامہ عبدالکریم بلامقابلہ منتخب
ضابطہ فوجداری (پنجاب ترمیم) بل 2025 کے اسٹیٹمنٹ آف آبجیکٹس اینڈ ریزنز کے مطابق دفعہ 417 میں ترمیم کے ذریعے محکمہ پبلک پراسیکیوشن کے سیکریٹری کو یہ اختیار دیا جا رہا ہے کہ وہ براہ راست پبلک پراسیکیوٹر کو اپیل دائر کرنے کی ہدایت دے سکیں، تاکہ قانونی مدت کے اندر مؤثر کارروائی ممکن ہو سکے۔
یہ بل پنجاب اسمبلی سے حتمی منظوری کے بعد گورنر پنجاب کو ارسال کیا جائے گا، جس کے بعد اس کا اطلاق فوری طور پر ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔