Express News:
2026-07-24@01:31:41 GMT

امریکا کا گرین لینڈ کی خریداری کا ممکنہ منصوبہ

اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کی خریداری کے ممکنہ منصوبوں پر غور جاری ہے۔

گرین لینڈ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے۔ اس کی جغرافیائی پوزیشن اور وسائل اسے عالمی توجہ مرکز بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ گرین لینڈ کو خریدنے کے امکان پر باضابطہ غور کر رہی ہے۔

وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ گرین لینڈ کی خریداری کا خیال ایک فعال موضوع ہے اور اس پر بات چیت ہو رہی ہے۔ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا ڈنمارک سے گرین لینڈ خریدنا چاہتا ہے۔

حالیہ رپورٹس کے مطابق امریکی حکام یہ بھی سوچ رہے ہیں کہ وہ گرین لینڈ کے ہر باشندے کو 10,000 سے 100,000 ڈالرز تک ادائیگی پیش کر سکتے ہیں تاکہ ان کا مستقبل محفوظ بنایا جاسکے یا وہ امریکا کے ساتھ مل جانے پر غور کریں۔

بعض سرکاری بیانات میں ملٹری آپشنز کو بھی ’ہمیشہ ایک امکان‘ کے طور پر کہا گیا ہے لیکن امریکی حکومت نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ وہ اس پر عمل کرے گی یا نہیں۔ تاہم عالمی برادری اور خاص طور پر ڈنمارک نے اس خیالی فوجی کارروائی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: گرین لینڈ

پڑھیں:

’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔

قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔

بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران