Express News:
2026-06-03@00:53:21 GMT

امریکا کا گرین لینڈ کی خریداری کا ممکنہ منصوبہ

اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کی خریداری کے ممکنہ منصوبوں پر غور جاری ہے۔

گرین لینڈ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے۔ اس کی جغرافیائی پوزیشن اور وسائل اسے عالمی توجہ مرکز بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ گرین لینڈ کو خریدنے کے امکان پر باضابطہ غور کر رہی ہے۔

وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ گرین لینڈ کی خریداری کا خیال ایک فعال موضوع ہے اور اس پر بات چیت ہو رہی ہے۔ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا ڈنمارک سے گرین لینڈ خریدنا چاہتا ہے۔

حالیہ رپورٹس کے مطابق امریکی حکام یہ بھی سوچ رہے ہیں کہ وہ گرین لینڈ کے ہر باشندے کو 10,000 سے 100,000 ڈالرز تک ادائیگی پیش کر سکتے ہیں تاکہ ان کا مستقبل محفوظ بنایا جاسکے یا وہ امریکا کے ساتھ مل جانے پر غور کریں۔

بعض سرکاری بیانات میں ملٹری آپشنز کو بھی ’ہمیشہ ایک امکان‘ کے طور پر کہا گیا ہے لیکن امریکی حکومت نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ وہ اس پر عمل کرے گی یا نہیں۔ تاہم عالمی برادری اور خاص طور پر ڈنمارک نے اس خیالی فوجی کارروائی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: گرین لینڈ

پڑھیں:

بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا

اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان