امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو وینزویلا میں مزید فوجی اقدامات کیلئے کانگریس سے منظوری درکار ہوگی، امریکی سینیٹ نے ٹرمپ کو وینزویلا میں مزید فوجی کارروائی سے روکنے کیلئے پیش کی گئی قرارداد بحث کیلئے منظور کرلی۔

یہ اقدام وینزویلا کے طاقتور رہنما نکولس مادورو کی گرفتاری کے محض پانچ روز بعد سامنے آیا ہے۔

سینیٹ میں 52 کے مقابلے میں 47 ووٹوں سے وار پاورز ریزولوشن پر بحث کی منظوری دی گئی، جس کا مقصد صدر کو کانگریس کی اجازت کے بغیر فوجی کارروائی جاری رکھنے سے روکنا ہے۔ یہ قرارداد اب بھی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان سے مکمل منظوری کی محتاج ہے تاکہ قانون بن سکے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ پانچ ریپبلکن سینیٹرز نے پارٹی لائن سے ہٹ کر ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا، جسے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک سیاسی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے سینیٹ کے اس اقدام پر شدید ردعمل دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر کہا کہ یہ ووٹ امریکا کے دفاع اور قومی سلامتی کو کمزور کرتا ہے اور صدر کے بطور کمانڈر اِن چیف اختیارات میں مداخلت ہے۔ ٹرمپ نے وار پاورز ایکٹ کو بھی غیر آئینی قرار دیا۔

دوسری جانب قرارداد کے حامی سینیٹرز کا مؤقف ہے کہ امریکہ کو وینزویلا میں ’لامتناہی جنگ‘ کی طرف نہیں دھکیلا جا سکتا۔

ڈیموکریٹ سینیٹر ٹم کین نے کہا کہ کانگریس کا آئینی فرض ہے کہ وہ جنگ اور امن کے فیصلوں میں کردار ادا کرے۔

خیال رہے کہ وار پاورز ایکٹ کے تحت کانگریس سادہ اکثریت سے صدر کو کسی فوجی تنازع میں مداخلت سے روک سکتی ہے۔

وائٹ ہاؤس نے اس قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ صدر نے امریکی شہریوں کے تحفظ کے لیے اپنے آئینی اختیارات کے تحت کارروائی کی۔

سینیٹ میں بحث کیلئے لائی گئی قرارداد کے حق میں 52 اور مخالفت میں 47 ووٹ آئے، ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی کے پانچ ارکان نے بھی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، ایک ری پبلکن سینیٹر نے ووٹ نہیں دیا۔

امریکی صدر ٹرمپ نے سینیٹ میں قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے ریپبلکن ارکان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے ری پبلکنز کو دوبارہ کبھی منتخب نہیں ہونا چاہیے۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال سینیٹ میں اسی نوعیت کی قراردادوں کو آگے بڑھانے کی دو سابقہ کوششوں کو ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی نے روک دیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: قرارداد کے حق میں کو وینزویلا میں سینیٹ میں

پڑھیں:

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ

پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا گیا۔ پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا، جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لٹر ہو گئی ہے۔

پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں کا تعین اوگرا کی جانب سے کیا گیا ہے جو آج رات 12 بجے سے کل رات 12 بجے تک نافذ العمل ہوگا۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لٹر جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 83 پیسے کا بڑا اضافہ کیا گیا تھا۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل