لاہور میں 20 سال بعد بسنت، شہر کو تین زونز میں تقسیم کر کے سکیورٹی انتظامات سخت
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
سٹی42: لاہور میں 20 سال بعد بسنت کی تقریبات کے لیے انتظامات زور و شور سے شروع ہو گئے ہیں۔ شہر کو ریڈ، ییلو اور گرین زون میں تقسیم کر کے سکیورٹی اور حفاظتی اقدامات کیے جائیں گے تاکہ بسنت کے دن منظم اور محفوظ رہیں۔
ریڈ زون میں اندرون شہر کے 47 مقامات شامل کیے گئے ہیں جبکہ ییلو زون میں اندرون شہر سے 10 کلومیٹر کے دائرے کے 32 مقامات کا انتخاب کیا گیا ہے۔ دونوں زونز میں پولیس، ریسکیو، اور انٹینا لگانے والے مکینکس کے کیمپس قائم کیے جائیں گے۔ غیر قانونی موٹر سائیکل سوار یا بغیر ہیلمٹ والے افراد ریڈ اور ییلو زون میں داخل نہیں ہو سکیں گے۔
پنجاب کے اسکولز 12 جنوری سے کھلیں گے، وزیر تعلیم نے افواہوں کی تردید کر دی
بسنت کے دوران سرکاری سکولوں کی چھتیں بھی استعمال کی جائیں گی۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی نے پکی لینٹر والی چھتوں کا ڈیٹا مرتب کرنا شروع کر دیا ہے، اور زونل ہیڈز کو دو روز میں کنکریٹ چھتوں کا ڈیٹا مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ چھتیں کرائے پر دی جائیں گی، جس سے سکول کے طلباء بھی بسنت میں حصہ لے سکیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔