سام سنگ کا فولڈ ایبل فون، موبائل سے منی لیپ ٹاپ تک کا نیا تجربہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سام سنگ نے حال ہی میں ایک ایسا فولڈ ایبل موبائل فون پیش کیا ہے جو اپنی لچکدار اسکرین کی بدولت صارفین کو موبائل اور منی لیپ ٹاپ دونوں کا تجربہ فراہم کرتا ہے۔
یہ فون متعدد زاویوں سے فولڈ ہو کر ایک کشادہ ڈیجیٹل ورک اسپیس بن جاتا ہے، جس میں صارف بیک وقت کئی ایپس چلا سکتا ہے اور بلوٹوتھ کی بورڈ اور ماؤس کے ذریعے اسے لیپ ٹاپ کی طرح استعمال کر سکتا ہے۔
فون میں گوگل جمینی اسمارٹ اسسٹنٹ شامل ہے جو ملٹی ٹاسکنگ اور کام کی ترتیب کو آسان بناتا ہے۔ مکمل کھلے ہونے پر یہ انتہائی پتلا اور فولڈ ہونے پر قدرے موٹا محسوس ہوتا ہے۔
کیمرہ کے شوقین صارفین کے لیے بھی یہ فون خوشخبری ہے کیونکہ اس کے کیمرے Galaxy S25 Ultra جیسے معیار کے ہیں، جو پہلے فولڈ ایبل فونز میں کمی سمجھے جاتے تھے۔
سام سنگ کے مطابق یہ فون خاص طور پر ان صارفین کے لیے بنایا گیا ہے جو موبائل کو صرف تفریح نہیں بلکہ کام، تخلیق اور پروڈکٹیوٹی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
ٹیک ماہرین کے مطابق فون کی قیمت 2000 سے 2500 امریکی ڈالر کے درمیان متوقع ہے، اور اسے حال ہی میں لاس ویگاس میں منعقد ٹیکنالوجی شو میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔