انور مسعود اردو اور پنجابی کے اُن منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے مزاح کو محض ہنسی تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے سماجی شعور کی ایک مضبوط صورت بنا دیا۔ ان کی شاعری اور گفتگو میں عام آدمی کی زندگی، اس کے دکھ، اس کی محرومیاں اور اس کی معصوم خواہشات نہایت سادہ مگر گہری زبان میں جلوہ گر ہوتی ہیں۔ انور مسعود کا فن بناوٹ سے پاک، دل کے قریب اور زمین سے جڑا ہوا ہے۔ ان کی فکر کا مرکز انسان ہے۔ خاص طور پر وہ انسان جو شور میں دب جاتا ہے، جس کی بات کوئی نہیں سنتا۔ وہ نوجوانوں کو یہ سبق دیتے ہیں کہ سچ بات کہی جا سکتی ہے، مسکرا کر بھی اور معاشرے کی اصلاح تلخی کے بغیر بھی ممکن ہے۔ ان کا کام یہ سکھاتا ہے کہ مزاح کمزوری نہیں بلکہ دانش کی ایک طاقتور شکل ہے۔ انور مسعود کا اصل کمال یہ ہے کہ انہوں نے لفظ کو وقار دیا، ہنسی کو مقصد دیا اور شاعر کو معاشرے کا ذمہ دار فرد بنا کر پیش کیا۔ وہ ہمارے ادبی منظرنامے کا ایسا اثاثہ ہیں جنہوں نے نسلوں کو ہنسایا بھی، جگایا بھی اور سوچنے پر مجبور بھی کیا۔ اردو اور پنجابی ادب ان کے بغیر ادھورا سا محسوس ہوتا ہے، اور ان کا کام آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا چراغ ہے۔ اسی فکری تسلسل میں یہ بات نہایت خوش آئند ہے کہ لاہور آرٹس کونسل الحمرا میں جشنِ انور مسعود کا شاندار انعقاد کیا گیا، جو ان کی سالگرہ کے موقع پر ایک خوبصورت ادبی خراجِ تحسین تھا۔ اس موقع پر منعقد ہونے والا مشاعرہ محض ایک رسمی تقریب نہیں بلکہ انور مسعود کی فکر، مزاح اور سماجی شعور کا زندہ اظہار تھا۔ الحمرا کا پلیٹ فارم ایک بار پھر ادب، دانش اور وقار سے سجا نظر آیا، جہاں لفظ نے معنی پہنے اور ہنسی نے سوچ کو جنم دیا۔ یہ ادبی شام دراصل مشہور و معروف شاعر اور مجلسِ ترقی ادب کے ڈائریکٹر عباس تابش صاحب کی تخلیقی سوچ کا ایک حسین عکس تھی۔ ان کا یہ تصور کہ ایک عہد ساز شاعر کو اس کے اپنے لہجے، اپنے رنگ اور اپنی زبان میں خراج پیش کیا جائے، نہایت بامعنی ثابت ہوا۔ مشاعرے میں شریک شعرا اور سامعین سب اس بات کے گواہ تھے کہ یہ تقریب انور مسعودکی شخصیت، ان کے فن اور ان کی معاشرتی خدمات کا سچا اعتراف تھی۔ ایک ایسا اعتراف جو دل سے نکلا اور دلوں تک پہنچا۔
مشاعرے کی وقار اور معنویت میں اُس وقت مزید اضافہ ہوا جب اس کی صدارت ملک کے ممتاز اور قد آور شاعر افتخار عارف صاحب نے کی۔ انہوں نے اپنے صدارتی کلمات میں انور مسعود کے فن، فکری سادگی اور تہذیبی شعور کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر خورشید رضوی، اصغر ندیم سید اور صغری صدف صاحبہ نے بھی اظہارِ خیال میں انور مسعودکی شاعری کو عہدِ حاضر کا معتبر سماجی بیانیہ قرار دیا۔ مشاعرے میں افتخار عارف، ڈاکٹر خورشید رضوی، محمد اظہار الحق، یاسمین حمید، ڈاکٹر نام الحق جاوید، حماد غزنوی، سجاد بلوچ، صوفیہ بیدار اور صائمہ کامران سمیت دیگر شعراء کرام کی شرکت نے محفل کو فکری گہرائی اور ادبی حسن بخشا۔ ہر شاعر کے کلام میں لفظوں کی تازگی، خیال کی پختگی اور انور مسعود کی فکر سے جڑا ہوا ایک داخلی احترام نمایاں تھا، جس نے مشاعرے کو واقعی چار چاند لگا دیے۔ یہ محفل دیر تک یاد رکھی جانے والی ایسی ادبی شام ثابت ہوئی جس میں روایت، احترام اور تخلیق ایک ہی دائرے میں سمٹ آئے۔ یہ تقریب واقعی غیر معمولی تھی۔ عوام کی ایک بڑی تعداد ۔خصوصاً نوجوانوں کی نمایاں موجودگی اس بات کا ثبوت تھی کہ ادب آج بھی نئی نسل کو اپنی طرف کھینچنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ روایتی میڈیا کے ساتھ ساتھ بلاگرز اور بلاگ لکھنے والے بھی موجود تھے، جو اس ادبی شام کو اپنے اپنے زاویوں سے لفظوں میں محفوظ کریں گے۔ بلا شبہ یہ محفل یادوں میں بسنے والی ہے اور مختلف پلیٹ فارمز پر اس کی بازگشت سنائی دے گی۔ مجلسِ ترقی ادب کے ڈائریکٹر عباس تابش نے اپنی تقرری کے بعد جس سنجیدگی، تخلیقی جرات اور اصل ادبی و ثقافتی روح کے ساتھ کام کا آغاز کیا ہے، وہ قابلِ تحسین ہے۔ وہ ادب کو محض روایت کے طور پر نہیں بلکہ ایک زندہ تجربے کے طور پر ایکسپلور کر رہے ہیں، خصوصاً نوجوانوں کے ساتھ مضبوط اور بامعنی رشتہ قائم کرکے۔ وزیرِ اطلاعات وثقافت عظمیٰ بخاری اور سیکرٹری ثقافت پنجاب سید طاہر رضاہمدانی کی قیادت میں محکمہ ثقافت مجموعی طور پر نہایت خوش اسلوبی سے اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔
لاہور آرٹس کونسل الحمرا بھی اپنے فعال اور متحرک کردار کے ذریعے ثقافتی منظرنامے میں نمایاں ہے۔ اس کی قیادت آج کل ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد نواز گوندل کر رہے ہیں۔ ایک دھیمے مزاج، محبّت بھرے رویّے اور گہری سمجھ بوجھ رکھنے والی شخصیت۔ ان کی قیادت میں الحمرا میں معیاری، بامقصد اور خوبصورت پروگرام تسلسل سے ہو رہے ہیں، جو اس ادارے کو نہ صرف زندہ رکھتے ہیں بلکہ اسے زمانے کے ساتھ ہم قدم بھی بناتے ہیں۔ بلا شبہ یہ تقریب وقت گزرنے کے ساتھ ایک تاریخی باب کی صورت اختیار کرے گی۔ ایسا باب جو ہماری ادبی تاریخ، سماجی شعور اور تہذیبی تسلسل کی قرطاس پر روشن حروف میں درج ہوگا۔ یہ محفل محض ایک یادگاری اجتماع نہیں تھی بلکہ اس بات کا اعلان تھی کہ زندہ ادب آج بھی زندہ دلوں میں سانس لیتا ہے۔ انور مسعود کا کام بلا تردد وہ کام ہے جس کے اندر زندگی کی دھڑکن موجود ہے۔ ان کی شاعری اور فکر کسی ایک لمحے یا ایک عہد تک محدود نہیں، بلکہ وہ ہر دور کے انسان سے مکالمہ کرتی ہے۔ ان کا کلام ہنسا کر چونکا دیتا ہے، مسکرا کر سچ کہہ جاتا ہے اور سادگی میں ایسی گہرائی رکھتا ہے جو دل میں اتر کر دیر تک ٹھہری رہتی ہے۔ یہی ان کا جوہر ہے۔ لفظ کو آئینہ بنا دینا اور معاشرے کو خود سے روبرو کردینا۔
انورمسعود کی فکر ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ مزاح سنجیدگی کی نفی نہیں بلکہ اس کی سب سے مہذب شکل ہے۔ ان کا پیغام انسان دوستی، شائستگی اور شعور پر مبنی ہے۔ وہ طنز کرتے ہیں مگر توہین نہیں کرتے، نشتر چلاتے ہیں مگر زخم کو زہر آلود نہیں ہونے دیتے۔ یہی سبب ہے کہ ان کے کام کے ساتھ ہمارا رشتہ محض پسندیدگی کا نہیں بلکہ حرمت، قدسیت اور خوبصورتی کا رشتہ بن جاتا ہے۔ ایسی شخصیات پر ہونے والی تقریبات دراصل معاشرے کو اپنی اصل پہچان یاد دلانے کا ذریعہ ہوتی ہیں۔ انور مسعود کے فن کو جتنا پڑھا، سنا اور سمجھا جائے، اتنا ہی یہ واضح ہوتا ہے کہ ان کا کلام محض ادب نہیں بلکہ ایک اخلاقی بیانیہ، ایک سماجی دستاویز اور ایک تہذیبی ورثہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کام کو نہ صرف سراہا جانا چاہیے بلکہ پوری قوت کے ساتھ آگے بڑھایا جانا چاہیے۔ تاکہ آنے والی نسلیں بھی لفظ کی حرمت، خیال کی سچائی اور مزاح کی شرافت سے روشناس ہوسکیں۔ الحمرا کے پلیٹ فارم پر منعقد ہونے والی اس بامعنی تقریب کی ایک خوبصورت اور یادگار جھلک انور مسعودکی سالگرہ کے کیک کا کٹنا بھی تھا۔ اس لمحے میں صرف خوشی نہیں بلکہ احترام، محبت اور اعتراف کی ایک فضا شامل تھی۔ ملک کے نامور شعرا اور جید دانشوروں نے اس موقع پر انور مسعود کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کی، جو اس بات کا ثبوت تھا کہ ان کا فن محض مقبول ہی نہیں بلکہ اہلِ علم کے نزدیک بھی قدر و منزلت رکھتا ہے۔
یہ بات ہمیشہ سے الحمرا کے وقار کا حصہ رہی ہے کہ وہ اپنے عہد کے بڑے شعرا، ادیبوں اور فکری رہنماؤں کو باقاعدہ ٹریبیوٹ پیش کرتا آیا ہے۔ یہ تقریب بھی اسی روشن روایت کی ایک خوبصورت کڑی ثابت ہوئی۔ ایک ایسی روایت جو تخلیق کار کو اس کی زندگی میں عزت دیتی ہے، اس کے کام کو مانتی ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے اس احترام کو مثال بنا دیتی ہے۔ یوں یہ محفل نہ صرف انور مسعود کی سالگرہ کی خوشی تھی بلکہ ادب، تہذیب اور شکرگزاری کے جذبے کا حسین اظہار بھی تھی۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انور مسعود کا نہیں بلکہ مسعود کی ہیں بلکہ یہ تقریب ہے کہ ان یہ محفل کے ساتھ بلکہ اس کی فکر پیش کی کی ایک اس بات
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔