انسانی صحت کا راز: محمد ؐ کے قدموں میں
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
(4)
اور آج جس چیز کا ذکر یہاں کررہے ہیں وہ شہد ہے۔ نبی کریمؐ شہد نہ صرف شوق سے تناول فرماتے تھے بلکہ اسے دوا کے طور پر بھی استعمال کرتے تھے۔ یہ محض غذائی عادت نہیں بلکہ ایک مکمل طبی حکمت تھی، جس کی تصدیق آج جدید میڈیکل سائنس کر رہی ہے۔ سیدہ عائشہؓ روایت کرتی ہیں: ’’کان رسولْ اللہؐ یحبّْ الحلواء والعسل‘‘۔ یعنی رسول اللہؐ مٹھاس اور شہد کو پسند فرمایا کرتے تھے۔ (بخاری) یہ پسند ناپسند ذاتی ذوق تک محدود نہیں تھی بلکہ انسانی صحت کے عین مطابق تھی۔ نبی کریمؐ نے شہد کو خاص طور پر پیٹ اور ہاضمے کی بیماریوں کے علاج کے لیے تجویز فرمایا۔ ایک مشہور حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص نے نبی کریمؐ سے اپنے بھائی کے پیٹ درد کی شکایت کی، تو آپؐ نے فرمایا: ’’اسے شہد پلاؤ‘‘۔ یہ عمل دہرایا گیا حتیٰ کہ مریض مکمل صحت یاب ہو گیا۔ (بخاری، مسلم)
یہاں ایک نہایت اہم نکتہ سامنے آتا ہے: نبی کریمؐ نے بیماری کی نوعیت دیکھ کر فطری دوا تجویز کی، جو آج کے جدید Gastroenterology کے اصولوں سے پوری طرح ہم آہنگ ہے۔ قرآنِ مجید میں شہد کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’اس میں لوگوں کے لیے شفا ہے‘‘۔ (سورہ النحل: 69) یہ قرآن کی وہ منفرد آیت ہے جس میں کسی غذائی شے کو براہِ راست شفا قرار دیا گیا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق شہد کھانسی اور گلے کی خراش میں بعض اوقات کیمیائی شربتوں سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے، خصوصاً بچوں میں رات کی کھانسی کم کرنے میں شہد کا کوئی نعم البدل نہیں۔ جدید نیورو سائنس یہاں تک کہتی ہے کہ شہد دماغ میں Melatonin کے اخراج میں مدد دیتا ہے، جو نیند، ذہنی سکون اور یادداشت کے لیے نہایت ضروری ہارمون ہے۔ یوں شہد صرف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی صحت کا بھی محافظ ہے۔ یہ تمام سائنسی حقائق اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ نبی کریمؐ کی سنت محض عبادات تک محدود نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی ہے۔ آپؐ نے جو چیزیں اختیار کیں، وہ انسانی فطرت، جسمانی ساخت اور حیاتیاتی گھڑی کے عین مطابق تھیں۔ یہ بات عام طور پر بیان کی جاتی ہے کہ، قرآن پاک کے بعد جو سب سے زیادہ پڑھی جانے والی جو مطبوعہ تحریر ہے وہ ریڈرز ڈائجسٹ ہے جو 1922 سے نیویارک، امریکا سے شائع ہورہا ہے اور آج کل دنیا کی مختلف زبانوں جن میں ہندی، فرنچ، جرمن، چینی وغیرہ شامل ہیں شائع ہوتا ہے اور ان کے مجموعی قارئین تقریباً 100 ملین لوگ ہیں۔ Reader’s Digest میگزین میں ایسے فیچرز شائع ہوتے ہیں جو عام قارئین کے لیے سائنسی تحقیق کے نتائج کو سادہ اور قابل ِ عمل انداز میں پیش کرتے ہیں یعنی سائنس کو روزمرہ زندگی کے تجربات کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ ریڈر‘ز ڈائجسٹ کے Health & Wellness سیکشن میں شہد کو Liquid Gold مائع سونا کہا گیا ہے، جیسے پٹرول کو دنیا بھر میں Black Gold کہا جاتا ہے اس طرح شہد کو دنیا کے اس مشہور رسالے نے Liquid Gold کا نام دیا ہے۔
دنیا میں کچھ نعمتیں ایسی ہیں جو نہ صرف قیمتی ہیں بلکہ زندگی بچانے اور صحت بخش بھی ہیں۔ شہد بھی ایسی ہی نعمت ہے، اور یہ قرآن، سنت اور جدید سائنس میں تینوں جگہ اہمیت رکھتا ہے۔ Multidisciplinary Digital Publishing Institut ایک مشہور زمانہ سائنسی اور تحقیقی جرنلز کی پبلشر کمپنی سوئٹزرلینڈ کی کمپنی ہے، اس نے اپنے ریویو میں لکھا ہے کہ شہد، عمر رسیدگی روکنے میں کردار ادا کرتا ہے جسے آج کے دور میں Anti-Aging کہا جاتا ہے یعنی آپ کو بوڑھا نہیں ہونے دے گا۔ اس کے علاوہ ریڈرز ڈائجسٹ کے ہیلتھ سیکشن میں یہ بھی لکھا ہے کہ شہد sore throat اور کھانسی کے لیے ایک مشہور گھریلو نسخہ ہے اسے گرم پانی یا لیموں کے ساتھ لینا سکون بخش ہو سکتا ہے۔ چربی، کولیسٹرول اور بلڈ شوگر کنٹرول میں رکھتا ہے۔ جدید استعمال میں شہد کو چینی کا صحت بخش متبادل سمجھا جا رہا ہے۔
سوال شہد کی غذائیت کا نہیں، سوال انسان کے یقین اور شعور کا ہے۔ کیا ہم سنت کو تب مانیں گے؟ جب لیبارٹری کی رپورٹ، ریسرچ پیپر اور WHO کی مہر لگ جائے؟ یا اس وحی پر اعتماد بحال کریں گے جس نے صدیوں پہلے انسان کو شفا کا راستہ دکھا دیا تھا؟ شہد صرف خوراک نہیں، یہ قرآن کی آیت ہے جو فطرت میں ڈھلی ہوئی نظر آتی ہے، یہ سنت ِ رسولؐ ہے جو انسانی بایولوجی سے ہم آہنگ ہے، اور یہ جدید سائنس ہے جو آج اسی حقیقت کو Anti-Inflammatory, Neuro-Protective اور Anti-Aging قرار دے رہی ہے۔
آج جب میڈیکل سائنس قدرتی علاج کی طرف واپس لوٹ رہی ہے، تو درحقیقت وہ اسی دروازے پر دستک دے رہی ہے جو محمدؐ نے چودہ سو سال پہلے کھول دیا تھا۔ شاید یہی انسانی صحت کا سب سے گہرا راز ہے: جو راستہ وحی نے دکھایا، وہی راستہ آج عقل، تحقیق اور سائنس کو بھی ماننا پڑ رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہیں بلکہ رہی ہے کے لیے شہد کو
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔