برطانیہ میں دہائی کی شدید ترین برفباری
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
برطانیہ اس وقت ایک طاقتور سرد موسم، شدید برفباری اور طوفانی ہواؤں کا سامنا کر رہا ہے جسے ملک کی سب سے شدید برفباریوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے خاص طور پر پچھلے دس سالوں میں۔
یورپ اور خصوصی طور پر برطانیہ کو طوفان گوریٹی نے نشانہ بنایا ہوا ہے جو اپنے ساتھ تیز ہوائیں تقریباً 99–100 میل فی گھنٹہ اور شدید برفباری لایا ہے۔ کچھ علاقوں میں 30 سینٹی میٹر تک برف پڑنے کی پیشگوئی ہے۔
ویسٹ مڈلینڈز سمیت متعدد علاقوں میں حالیہ برفباری دہائی کی شدید ترین مانی جا رہی ہے، جس سے روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ہزاروں گھرانوں کی بجلی منقطع ہو گئی ہے اور بجلی کی بندش عام ہوگئی ہے، خصوصاً ویسٹ مڈلینڈز اور جنوبی علاقوں میں۔
اسکول بند کیے جا چکے ہیں، ریلوے اور بس سروسز معطل یا متاثر ہو رہی ہیں جبکہ سڑکوں پر ٹریفک بھی شدید متاثر ہے۔ ہواؤں اور برف کی وجہ سے پروازوں میں تاخیر اور منسوخیاں بھی ہو رہی ہیں اور ہنگامی الرٹس بعض علاقوں میں جاری کیے گئے ہیں۔
طوفان گوریٹی نے برطانیہ کے میٹ آفس کی جانب سے ریڈ، ایمبر اور یلو وارننگز جاری کروائیں ہیں جو خطرناک موسم اور ممکنہ نقصان کی نشاندہی کرتی ہیں۔
موسمی ماہرین نے کہا ہے کہ یہ سرد لہر اور طوفان ایک موسمی بم کے طور پر شروع ہوا ہے جس کا مطلب ہے دباؤ میں اچانک شدید کمی اور موسمی تغیر۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: علاقوں میں
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔