اسلام آباد سمیت ملک بھر میں 5.8 شدت کے شدید زلزلے سے زمین لرز اٹھی
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
وفاقی دارالحکومت اور اس کے گرد و نواح میں زلزلے کے شدید جھٹکوں نے خوف و ہراس پھیلا دیا، جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 6.1 جبکہ اس کی گہرائی 159 کلو میٹر ریکارڈ کی گئی۔
زلزلے کے جھٹکے اسلام آباد، راولپنڈی، سوات، مالا کنڈ، مظفرآباد، گلگت، اسکردو اور ایبٹ آباد سمیت ملک کے دیگر علاقوں میں بھی واضح طور پر محسوس کیے گئے، جس سے لوگوں میں شدید خوف پھیل گیا۔
کراچی زلزلہ، لیاری کی رہائشی عمارت میں خطرناک دراڑیں پڑ گئیں، مکین سڑکوں پر نکل آئے
آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔
دوسری جانب بعض اداروں کے مطابق زلزلے کی شدت 5.
تاجکستان اور چین کے سرحدی علاقے سنکیانگ میں زلزلے کی شدت 6.1 تھی۔
Tagsپاکستان
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔