عمران خان کی ہدایت پر پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان رابطوں میں سہولت کاری کر رہا ہوں، بیرسٹر سیف
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
اسلام آباد میں پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر محمد علی سیف نے انکشاف کیا ہے کہ وہ عمران خان کی جانب سے دی گئی آخری ہدایت کے مطابق پاکستان تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان رابطوں میں سہولت کاری کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
بیرسٹر سیف نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی دونوں کی رہائی ممکن ہو اور اس مقصد کے لیے وہ ہر ممکن کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ان کے روابط کئی دہائیوں پر محیط ہیں اور وہ ان تعلقات کو صرف اپنے قائد اور پارٹی کی مدد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
بیرسٹر سیف نے بتایا کہ عمران خان سے ان کی آخری ملاقات گزشتہ برس 4 نومبر کو اڈیالہ جیل میں ہوئی تھی۔ اگرچہ پی ٹی آئی کے اندر سخت موقف رکھنے والے اور مفاہمت کے حامی دھڑوں کی موجودگی کی بات کی جاتی ہے، تاہم بیرسٹر سیف ان رہنماؤں میں شامل ہیں جو محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات اور مفاہمت کو ترجیح دیتے ہیں۔
گزشتہ ماہ سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں بیرسٹر سیف نے واضح کیا تھا کہ پی ٹی آئی اور دفاعی اداروں کے درمیان کشیدگی ملک و قوم کے مفاد میں نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسائل کا پائیدار حل باہمی مذاکرات، تحمل اور سیاسی دانائی میں ہے جبکہ مسلسل تنقید اور محاذ آرائی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔
انہوں نے زور دیا تھا کہ موجودہ معاشی اور سیاسی چیلنجز کے پیش نظر اتحاد، اتفاق رائے اور یکجہتی ناگزیر ہے، جبکہ سڑکوں پر تصادم اور باہمی دشمنی سے صرف پاکستان کو نقصان پہنچے گا۔ بیرسٹر سیف کے مطابق نفرت انگیز بیانیے کے بجائے مفاہمت اور تعاون ہی ملک کو بحرانوں سے نکالنے کا واحد راستہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل بیرسٹر سیف پی ٹی ا ئی تھا کہ سیف نے
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔