پنجاب میں چینی کی قیمتیں بڑھنے کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
پنجاب حکومت کی جانب سے شوگر سیس نافذ کرنے کے بعد صوبے میں چینی کی قیمت بڑھنے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت نے 40 کلو چینی پر 5 روپے شوگر سیس نافذ کیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ ڈھائی روپے سیس شوگر مل اور ڈھائی روپے کسان ادا کریں گے، یکم جنوری سے شوگر سیس کے نفاذ سے اوپن مارکیٹ میں چینی کی قیمتیں بڑھنے کا خدشہ ہے، اکبری منڈی میں چینی کا 50 کلو کا تھیلا 7 ہزار 500 روپے کا ہوگیا، چینی کے تھیلے کا ایکس مل ریٹ 6 ہزار750 ہے۔
ذرائع کے مطابق چینی کا ایکس مل ریٹ 135روپے فی کلو ہے جبکہ اوپن مارکیٹ میں چینی کی فی کلو قیمت 160روپے ہے، اوپن مارکیٹ میں چینی کی قیمت 10روپے بڑھا دی گئی ہے، چینی کی قیمت 150روپے ہونی چاہیے تھی۔
کریانہ مرچنٹ ایسوسی ایشن کے مطابق چینی عام دکانوں پر 150روپے پڑتی ہے اور چینی وافر مقدار میں مارکیٹ میں موجود ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: میں چینی کی قیمت مارکیٹ میں
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔