افغان طالبان رجیم کے 4 سالہ دور میں ہونے والی گرفتاریوں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کی رپورٹ جاری WhatsAppFacebookTwitter 0 9 January, 2026 سب نیوز

اقوام متحدہ نے افغان طالبان رجیم کے 4 سالہ دور میں ہونے والی گرفتاریوں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کی رپورٹ جاری کردی۔

یواین رپورٹ کے مطابق افغانستان میں2025 کے دوران 123سابق فوجی اہلکار قتل اور 131 افرادکو تشددکانشانہ بنایا گیاہے جب کہ سابق افغان کمانڈر کو 24 دسمبر کو تہران میں فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق افغان میڈیا کا بتانا ہےکہ افغان انٹیلی جنس اہلکار نے اعتراف کیا ہےکہ وہ متعددحملوں میں ملوث رہا ہے۔

کابل: افغان خواتین کا طالبان کے ہاتھوں سابق افغان فوجیوں کو ہلاک کرنے کیخلاف مارچ
اس حوالے سے یو این امدادی مشن برائے افغانستان نے بتایا کہ 2021 کے بعد سے بلا جواز گرفتاریاں، جبری گمشدگیاں اور قتل کی وارداتیں معمول بن گئی ہیں، 2023 میں تقریباً 200 سابق افغان فوجیوں کو قتل کیا گیا۔

ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹس بھی2021کے بعد افغانستان میں جبری گمشدگی اور قتل کے کئی واقعات کی تصدیق کی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق ستمبر 2025 کے آخر میں قندھار شہر میں طالبان فورسز نے سابق فوجی اہلکار باز محمد کو گرفتار کیا، کچھ دن بعد باز محمد کی لاش ان کے ورثا کو ملی، اقوام عالم کو افغان طالبان رجیم کے انسانیت سوزمظالم پرفوری اقدامات کرنے چاہئیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان کی معاشی صورتحال پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طویل المدتی اسٹریٹجک شراکت داری پر اتفاق پاک امریکا تعلقات تاریخ کی مضبوط ترین سطح پر، اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری جلد متوقع کینسر کے مریضوں کیلئے امید کی نئی کرن، ادویات مفت دستیاب ہوں گی، وفاقی وزیر صحت پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت میں اماراتی سرمایہ کاروں کی دلچسپی خوش آئند ہے، وزیراعظم وزیراعظم کی رمضان المبارک میں عوام کیلیے سودمند پیکیج تیار کرنے کی ہدایات کسی قانون کو نہیں مانتا، ہر ملک میں فوجی کارروائی کرنے کے لیے آزاد ہیں: ٹرمپ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: افغان طالبان رجیم کے کی رپورٹ

پڑھیں:

وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان

اسلام آباد:

نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔

وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد