مسٹر بیسٹ سب سے کم عمر ارب پتی کیسے بنے؟
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
معروف امریکی فوربز میگزین کے مطابق مسٹر بیسٹ سب سے زیادہ معاوضہ کمانے والے یوٹیوبر ہیں۔
مسٹر بیسٹ کا اصل نام جمی ڈونلڈسن ہے۔ اُنہوں نے 2012ء میں ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم یوٹیوب پر اپنا چینل بنایا اور بہت کم وقت میں مقبولیت حاصل کرلی۔
اُنہوں نے ٹائم میگزین کو دیے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ وہ یوٹیوب سے سالانہ 600 سے 700 سو ملین ڈالرز کماتے ہیں۔
فوربز میگزین کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال جون تک مسٹر بیسٹ کی آمدنی 85 ملین ڈالرز تھی تاہم ان کی مجموعی مالیت اس سے بھی زیادہ ہے۔
رپورٹ میں ان کے نومبر 2024ء میں دیے ان کے انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنی میڈیا کمپنی بیسٹ انڈسٹریز کے نصف سے کچھ زیادہ شیئرز کے مالک ہیں۔
بزنس انسائیڈر نے رپورٹ کیا کہ مسٹر بیسٹ کے برانڈ کی قیمت تقریباً 5 بلین ڈالرز ہےتو اس حساب سے ان کے شیئرز کی قدر تقریباً 2.
اگرچہ بیسٹ انڈسٹریز کی آمدنی 2024ء میں 400 ملین ڈالرز سے زیادہ تھی لیکن مسٹر بیسٹ کے مطابق پروڈکشن کی لاگت زیادہ ہونے کی وجہ سے کمپنی کو زیادہ منافع نہیں ہوا۔
مسٹر بیسٹ کو چاکلیٹ برانڈ سے حاصل ہونے والی آمدن کتنی ہے؟
زیادہ تر لوگ مسٹر بیسٹ کو بطور یوٹیوبر ہی جانتے ہیں اس لیے یہ بات بہت کم لوگ ہی جانتے ہیں کہ ان کی آمدن کا بنیادی ذریعہ ان کا چاکلیٹ برانڈ ہے۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، مسٹر بیسٹ نے 2022ء میں ایک فیسٹ ایبلز نامی چاکلیٹ برانڈ کا آغاز کیا تھا، 2024ء میں اس برانڈ کی فروخت تقریباً 250 ملین ڈالرز تھی جس میں برانڈ کو 20 ملین ڈالرز سے زیادہ کا منافع ہوا۔
مسٹر بیسٹ خیراتی اداروں کو کتنا عطیہ دیتے ہیں؟
امریکی میگزین فارچیون کی 2025ء کی رپورٹ کے مطابق مسٹر بیسٹ نے یوکرینی پناہ گزینوں کے لیے 5 ملین ڈالرز عطیہ کیے۔
اُنہوں نے 300 ملین ڈالرز سے زیادہ کی خوراک اور 500 ملین ڈالرز اسکول کے سامان اور ٹیکنالوجی کے لیے عطیہ کیے۔
مسٹر بیسٹ نے تالو کی 100 سرجریوں، 600 ای بائیکس اور ضرورت مند لوگوں کے لیے 2 ہزار مصنوعی آلات خریدنے کے لیے بھی مالی اعانت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ملین ڈالرز سے زیادہ کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
فوٹو: فائلکفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی نے مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔
اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔