پی ایس ایل کی شمع پہلے سے کہیں زیادہ روشن ہو چکی ہے، محسن نقوی کی 2 نئی فرنچائزز کو مبارکباد
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی نئی ٹیموں کی نیلامی کو پاکستان کرکٹ کے لیے ایک تاریخی اور یادگار دن قرار دیا ہے۔
محسن نقوی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایچ بی ایل پی ایس ایل کی نئی ٹیموں کی نیلامی غیر معمولی طور پر شاندار رہی، جس میں ریکارڈ توڑ بولیاں لگیں، پرجوش سرمایہ کار سامنے آئے اور دو نئی فرنچائزز لیگ کے خاندان کا حصہ بنیں۔
یہ بھی پڑھیے: پی ایس ایل فرنچائز کی سالانہ فیسیں کتنی ہیں؟ تفصیلات سامنے آگئیں
چیئرمین پی سی بی کے مطابق ایف کے ایس گروپ نے حیدرآباد کی فرنچائز 17.
What a historic, heart-pounding day for Pakistan cricket!
HBL PSL New Teams Auction has been nothing short of spectacular – record-breaking bids, passionate investors, and two incredible new franchises joining our family!
FKS Group takes Hyderabad for PKR 17.5 billion, OZ…
— Mohsin Naqvi (@MohsinnaqviC42) January 8, 2026
محسن نقوی نے کہا کہ یہ سرمایہ کاری پاکستانی کرکٹ سے محبت، اعتماد اور خلوص کے جذبات کی عکاس ہے۔ انہوں نے حیدرآباد اور سیالکوٹ کو پی ایس ایل میں خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ ان شہروں کی شمولیت نے پوری قوم کو فخر اور جذباتی کر دیا ہے۔
چیئرمین پی سی بی کا کہنا تھا کہ ایچ بی ایل پی ایس ایل کی شمع پہلے سے کہیں زیادہ روشن ہو چکی ہے اور اس تاریخی پیش رفت کے ساتھ لیگ کے ایک نئے دور کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
PSL پی ایس ایل محسن نقوی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ایس ایل محسن نقوی پی ایس ایل محسن نقوی
پڑھیں:
انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔
ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔