امریکا سے تعلقات،سفیر پاکستان کی معاشی و سیکیورٹی تعاون کے فروغ پر اہم ملاقاتیں
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
امریکا سے تعلقات،سفیر پاکستان کی معاشی و سیکیورٹی تعاون کے فروغ پر اہم ملاقاتیں WhatsAppFacebookTwitter 0 8 January, 2026 سب نیوز
واشنگٹن (آئی پی ایس )امریکا میں سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ نے نئے سال کے آغاز پر اعلی امریکی قیادت سے اہم ملاقاتوں کا مثبت سلسلہ شروع کردیا ہے۔امریکی کانگریس کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین برائن ماسٹ سے ملاقات کے دوران دونوں رہنماوں نے ایک دوسرے کو سال نو کی مبارکباد دی اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔سفیر پاکستان نے پاک امریکا تعلقات کے فروغ کے حوالے سے چیئرمین برائن ماسٹ کی قیادت، کاوشوں اور مسلسل حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے اس عزم کا حوالہ دیا کہ دوطرفہ تعلقات کو اقتصادی تعاون پر مبنی طویل مدتی اور پائیدار شراکت داری میں ڈھالا جائے ۔ اس مقصد کے حصول کے لیے سال 2026 کو عمل کا سال قرار دیا جانا چاہیے۔ملاقات میں سفیر پاکستان نے دونوں ممالک کے مابین اعلی سطح کا معاشی مکالمہ جلد از جلد شروع کیے جانے پر زور دیا۔ انہوں نے توانائی، ڈیفنس، معدنیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے شعبہ جات میں جامع اور فوری ڈائیلاگ کی اہمیت کو اجاگر کیا اور کہا کہ کم لاگت اور اعلی معیار کی صلاحیت سے مزین پاکستان امریکی منڈی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔رضوان سعید شیخ نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان میں تیار شدہ سرجیکل آلات اور مصنوعات اپنے معیار کی بدولت دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ اسی طرح موافق تجارتی ماحول اور مناسب توجہ ٹیکسٹائل اور دیگر پاکستانی برآمدات میں یقینی اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ 5 فیفا ورلڈ کپ کے میچز میں سیالکوٹ میں تیار شدہ فٹ بالوں کا لگاتار استعمال اسپورٹس گڈز کے شعبے میں پاکستان کی صلاحیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ملاقات میں علاقائی صورتحال پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں سفیر پاکستان نے کہا کہ افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی سے پاکستان کی سیکیورٹی صورتحال اور علاقائی و بین الاقوامی امن کو سنجیدہ خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ افغانستان میں پناہ لینے والے دہشت گردوں کی کارروائیوں کے باعث سال 2024 میں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں 40 فیصد جب کہ سال 2025 میں مزید 25 فیصد اضافہ ہوا۔سفیر پاکستان نے افغانستان سے انخلا کے وقت چھوڑے گئے اسلحے کے مسلسل غلط اور جارحانہ استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے امریکی کانگریس کی امور خارجہ کمیٹی کے چیئرمین برائن ماسٹ کو دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی اور کہا کہ یہ دورہ پارلیمانی اور عوامی روابط کو مزید مستحکم بنائے گا۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں ممالک کے مابین اقتصادی، سیکیورٹی اور دیگر شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرطلال چوہدری کیخلاف شواہد ہیں لیکن اثرورسوخ کے باعث انہیں صرف وارننگ جاری کی گئی،حکام الیکشن کمیشن طلال چوہدری کیخلاف شواہد ہیں لیکن اثرورسوخ کے باعث انہیں صرف وارننگ جاری کی گئی،حکام الیکشن کمیشن طارق فضل چوہدری کی پی ٹی آئی کو ایک بار پھر مذاکرات کی پیشکش سی ڈی اے کا انسدادِ تجاوزات آپریشن ، سید پور میں320کنال سرکاری اراضی واگزار پرائس کنٹرول مجسٹریٹ فتح جنگ کا ایکشن ، ناقص صفائی اور غیر معیاری کھانوں کی فراہمی پر ہوٹل اور ٹک شاپ سیل پی ایس ایل کی ساتویں ٹیم حیدرآباد 175کروڑ روپے میں فروخت نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف سے بنگلہ دیشی ایئرچیف حسن محمود کی ملاقاتCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سفیر پاکستان پاکستان کی
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔