ہوٹل ملازم کی روٹیوں پر تھوکنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
بھارتی شہر غازی آباد سے سامنے آنے والی ایک وائرل ویڈیو نے کھانے پینے کے مراکز میں صفائی اور خوراک کی حفاظت کے نظام پر شدید خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اس ویڈیو میں ایک ہوٹل ملازم کو روٹیاں تیار کرتے ہوئے ان پر تھوکتے اور بعد ازاں انہیں تندور میں پکانے کے لیے لگاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
UP | Ghaziabad police arrested Javed Ansari on charges of spitting on rotis while making them at A-One Chicken Point !!
pic.
— Ghar Ke Kalesh (@gharkekalesh) January 8, 2026
ذرائع کے مطابق یہ واقعہ غازی آباد کے علاقے میں واقع ایک ریسٹورنٹ اے-ون چکن پوائنٹ کا بتایا جا رہا ہے۔ ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد عوامی سطح پر شدید ردِعمل سامنے آیا اور شہریوں نے فوڈ سیفٹی کے ناقص انتظامات پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔
صارفین نے اس عمل کو نہایت قابلِ مذمت اور انسانی صحت کے لیے خطرناک قرار دیا جبکہ متعدد افراد نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات چھوٹے کھانے پینے کے مراکز میں صفائی کے مؤثر نظام کی عدم موجودگی کو ظاہر کرتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈیا انڈیا میں کھانا کھانے کی ویڈیو کھانے میں تھوک ویڈیو وائرل
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انڈیا انڈیا میں کھانا کھانے کی ویڈیو ویڈیو وائرل
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔