دعوے سے کہتا ہوں پی ٹی آئی ہرچیز پر وفاق اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ آن بورڈ ہے،شیرافضل مروت
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
اسلام آباد(آئی این پی )رکن قومی اسمبلی شیرافضل مروت نے کہا ہے کہ دعوے سے کہتا ہوں پی ٹی آئی ہرچیز پر وفاق اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ آن بورڈ ہے، نئی کے پی حکومت آنے کے بعد کبھی سنا کہ کسی ڈرون کی مذمت کررہی ہو؟ ۔
ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی میں کسی ایک شخص کی زبان یا بولی پوری جماعت کا بیانیہ نہیں ہے، کے پی میں دہشتگردی 25سالوں سے ہے، دعوے سے کہتا ہوں کہ پی ٹی آئی مکمل طور پرتمام چیزوں پر وفاق اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ آن بورڈ ہے، نئی کے پی حکومت آنے کے بعد کبھی سنا کہ کسی ڈرون کی مذمت کررہی ہو؟کے پی سے سارے افغانیوں کو بھی چلتا کردیا ہے، وادی تیراہ میں آپریشن ہورہا ہے لیکن صوبائی حکومت غلط بیانی کررہی ہے کہ کوئی آپریشن نہیں ہورہا ہے، باجوڑ اور دو تین علاقوں میں آپریشن کی تیاریاں ہورہی ہیں، کے پی حکومت کا وفاق اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ آن بورڈ ہونا اچھی بات ہے، لیکن پی ٹی آئی سوشل میڈیا کے ڈر سے اور عوام کو اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ دینے کیلئے ہر اس چیز کی مذمت کرتے ہیں جو ریاست کو درکار ہوتی ہے۔
خیبر پختونخوا کے غیرت مند عوام پر ایسی حکومت مسلط ہے جسکی سوچ محدود رویہ افسوسناک ہے: عطاء تارڑ
انہوں نے کہا عمران خان کے الفاظ ہیں کہ شہبازگل نے میرا موبائل فون سافٹ ویئر لگوا کے انٹیلی جنس ایجنسی کو دیا اور مجھے پتا بھی نہیں تھا، خان کے دونوں موبائل چوری کرکے فیض حمید کے حوالے کئے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔