مظاہرین ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے احتجاج کررہے ہیں، آیت اللہ خامنہ ای کا ایران میں مظاہروں پر بیان
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے جمعے کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مشورہ دیا کہ وہ ایران کے معاملات پر تبصرے کرنے کے بجائے اپنے ملک کے مسائل پر توجہ دیں۔
اس سے قبل امریکی صدر نے کہا تھا کہ امریکا ایران کی صورتحال پر بہت گہری نظر رکھے ہوئے ہے، اور خبردار کیا تھا کہ اگر ایران میں ماضی کی طرح لوگوں کو قتل کیا گیا تو امریکا سخت ردعمل دے سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ کا ایرانی اپوزیشن رہنما رضا پہلوی سے ملاقات سے انکار
آیت اللہ خامنہ ای نے ٹی وی پر اپنے بیان میں مظاہرین پر الزام عائد کیا کہ وہ صدر ٹرمپ کے ایما پر انہیں خوش کرنے کے لیے مظاہرے کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہنگامہ آرائی کرنے والے عوامی املاک کو نشانہ بنا رہے ہیں اور تہران غیر ملکی طاقتوں کے ‘کرائے کے ایجنٹوں’ کے طور پر کام کرنے والوں کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔
ایرانی سپریم لیڈر نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ کے ہاتھ ‘ایک ہزار سے زائد ایرانیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں’ اور پیش گوئی کی کہ متکبر امریکی رہنما کو بھی اس شاہی خاندان کی طرح اقتدار سے ہٹا دیا جائے گا جو 1979 کے انقلاب سے قبل ایران پر حکمران تھا۔
دوسری جانب ایران میں تقریباً 2 ہفتوں سے جاری احتجاجی تحریک کے دوران اب تک کے سب سے بڑے مظاہرے دیکھنے میں آئے، جو مہنگائی اور بڑھتی ہوئی زندگی کی لاگت کے خلاف شروع ہوئے۔ مظاہرین نے ‘ڈکٹیٹر مردہ باد’ کے نعرے لگائے اور سرکاری عمارتوں کو نذرِ آتش کیا۔
یہ بھی پڑھیے: دشمن کے سامنے نہیں جھکیں گے، ایران کا صدر ٹرمپ کی دھمکیوں پر سخت ردعمل
انٹرنیٹ مانیٹر نیٹ بلاکس کے مطابق حکام نے جمعرات کی شب ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر بند کر دی، اور جمعے کی صبح بتایا گیا کہ احتجاج کو دبانے کی کوشش میں ایران 12 گھنٹوں سے مکمل طور پر آف لائن ہے۔
امریکا میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق بدامنی کے دوران کم از کم 34 مظاہرین اور 4 سیکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ 2,200 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
حکام نے بے چینی سے نمٹنے کے لیے دوہرا مؤقف اختیار کیا ہے، جس کے تحت معاشی مسائل پر احتجاج کو جائز قرار دیتے ہوئے بات چیت کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، تاہم بعض مظاہروں کے دوران پرتشدد جھڑپوں میں آنسو گیس کا استعمال بھی کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
احتجاج ایران ٹرمپ تہران مظاہرے مہنگائی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایران ٹرمپ تہران مظاہرے مہنگائی کے لیے
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔