میرے ہوتے ہوئے چین تائیوان پر حملہ نہیں کرے گا، ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
میرے ہوتے ہوئے چین تائیوان پر حملہ نہیں کرے گا، ٹرمپ WhatsAppFacebookTwitter 0 9 January, 2026 سب نیوز
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ چین میرے دورِ صدارت میں تائیوان پر حملہ نہیں کرے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے کہا ہے کہ چین تائیوان پر فوجی کارروائی نہیں کرے گا جب تک وہ امریکی صدر ہیں اور وہ خود بھی یقین رکھتے ہیں کہ چین حملہ نہیں کرے گا۔
ٹرمپ نے کہا کہ فیصلہ آخرکار چینی قیادت پر ہے لیکن ان کو امید ہے کہ چین اس اقدام سے گریز کرے گا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر چین تائیوان کی حیثیت کو تبدیل کرتا ہے تو وہ بہت ناخوش ہوں گے۔
واضح رہے کہ چین تائیوان کو اپنا حصہ سمجھتا ہے اور اس نے بارہا کہا ہے کہ وہ گزشتہ 1979 کی امریکا چین معاہدوں کے تحت ’ایک چین‘ پالیسی پر عمل کرتا ہے لیکن اس نے طاقت کے استعمال کا اختیار کبھی نہیں چھوڑا۔
دوسری جانب امریکا تائیوان کا اہم دفاعی حامی ہے تاہم اس کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم نہیں ہیں اور امریکی قانون تائیوان ریلیشنز ایکٹ کے تحت امریکا کو تائیوان کو دفاعی صلاحیت فراہم کرنی ہوتی ہے
ماہرین کے مطابق چین کے فیصلے اپنے اندرونی سیاسی اور فوجی حالات پر منحصر ہیں اور صرف ایک فرد یعنی ٹرمپ کی موجودگی اس معاملے پر محدود اثر رکھتی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرنوازشریف صاحب آپ جانتے ہوئے بھی غلط کر رہے ہیں، محمود خان اچکزئی نوازشریف صاحب آپ جانتے ہوئے بھی غلط کر رہے ہیں، محمود خان اچکزئی عمران خان کو جیل سے نکالیں گے، پورا پاکستان بند کریں گے، نہیں چلنے دیں گے، علیمہ خان افغان طالبان رجیم کے 4 سالہ دور میں ہونے والی گرفتاریوں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کی رپورٹ جاری پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طویل المدتی اسٹریٹجک شراکت داری پر اتفاق پاک امریکا تعلقات تاریخ کی مضبوط ترین سطح پر، اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری جلد متوقع کینسر کے مریضوں کیلئے امید کی نئی کرن، ادویات مفت دستیاب ہوں گی، وفاقی وزیر صحتCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: حملہ نہیں کرے گا چین تائیوان تائیوان پر
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔