نہیں معلوم کہ یہ شادی چلے گی یا نہیں، یوٹیوبر رجب بٹ کا شادی کے مستقبل پر حیران کن انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
معروف پاکستانی یوٹیوبر رجب بٹ نے سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے اپنی فیملی اور نجی معاملات کے حوالے سے پھیلنے والی افواہوں اور تنقید پر خاموشی توڑ دی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر اپنے سالے شیخ عون پر سخت تنقید کی ہے اور کہا کہ ان کے پاس متعدد ریکارڈنگز اور اسکرین شاٹس موجود ہیں جو صورتحال کی مکمل وضاحت کر سکتے ہیں۔
فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر اسٹوری شیئر کرتے ہوئے انہوں نے اپنے سالے شیخ عون کی چیٹ شیئر کی ہے اور کہا ہے کہ میں خاموشی توڑ رہا ہوں۔ میں کبھی نہیں چاہتا تھا کہ یہ معاملہ اس طرح سوشل میڈیا پر لاؤں لیکن اب بہت ہو چکا۔
یہ بھی پڑھیں: رجب بٹ کی سالگرہ، اہلیہ کی غیر موجودگی نے سوشل میڈیا پر سوالات کھڑے کر دیے
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ مہینوں کے دوران ان کے خاندان کے افراد بشمول والدہ، بہن، اور نو ماہ کے بچے کو بلاوجہ الزام تراشی، تنقید اور نفرت کا سامنا کرنا پڑا، صرف اس لیے کہ وہ حقیقت کے ساتھ کھڑے رہے، سچ کا ساتھ دیا اور خاموشی اختیار کی۔ مجھے اکیلا نہیں چھوڑا جیسے دوسروں نے چھوڑ دیا۔
رجب بٹ نے اپنے سالے شیخ عون پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تمہاری پرورش کیا ہے؟ اپنے ہی خاندان کے افراد کے لیے ایسے الفاظ استعمال کرنا؟ فین پیجز سے باتیں کرنا، گروپس بنانا، جھوٹی ذاتی معلومات پھیلانا، لوگوں کو گمراہ کرنا اور ہمدردی کا کارڈ کھیلنا۔ یہ سب بند ہونا چاہیے۔ میری بیوی اور میرا بیٹا تمہارا ہمدردی کا کھیل نہیں ہیں۔
انہوں نے اس الزام کی بھی وضاحت کی کہ کیوان کو ولاگز میں نہ لانے کے بارے میں ان پر سوال اٹھایا گیا۔ رجب نے کہا کہ کیوان کی والدہ نے خود سختی سے منع کیا تھا کہ اس کا نام ولاگز میں نہ لیا جائے اور یہی وجہ ہے کہ ان کے ولاگز میں کبھی بھی کیوان کا ذکر نہیں ہوا۔ اور اس پر بھی انہوں نے بلاوجہ نفرت برداشت کی کس کے لیے؟ میرے لیے، میرے رشتے کے لیے، میری شادی کے لیے، میرے بیٹے کے لیے۔
یہ بھی پڑھیں: 60 بندوں نے مارا مگر معافی نہیں مانگی، تشدد کے بعد رجب بٹ نے خاموشی توڑ دی
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ بات آخری بار سامنے لا رہا ہوں۔ پوڈکاسٹ اینکرز کو ذاتی معلومات کون دیتا ہے؟ لوگ صرف ایمان اور رجب پر بات کیوں کر رہے ہیں؟ انہیں یہ سب مواد کون فراہم کرتا ہے؟ میرے پاس تمام ریکارڈنگز اور اسکرین شاٹس موجود ہیں۔ اللہ سے ڈرو۔
بیان میں انہوں نے اپنی شادی کے مستقبل پر بھی اظہار خیال کیا اور کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ یہ شادی چلے گی یا نہیں۔ اگر چلی تو صرف اللہ کے حکم سے چلے گی۔ لیکن اپنی ہی بہن کے شوہر، اس کے خاندان کے افراد اور اس کے دوستوں کو ’بلاتکاری‘ کہنا، کیا یہ تمہاری اخلاقیات ہیں؟ کیا یہی تمہاری تربیت ہے؟
یہ بھی پڑھیں: رجب بٹ نے صرف ایک ماہ میں ٹک ٹاک لائیو سے کتنے کروڑ روپے کمالیے؟
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی عون نے کہا تھا کہ ایمان پر سوشل میڈیا پر آںے کے حوالے پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ جس پر رجب بٹ نے عون کو دھمکی آمیز پیغام میں کہا کہ یہ میرا اور میری بیوی کا مسئلہ ہے جب تک وہ میری بیوی ہے آپ نے اس کو ٹک ٹاک پر نہیں لے کر آنا لیکن آپ کی حرکتیں ایسی نہیں کہ وہ میری بیوی رہے۔ آپ بھائی بنیں سانپ نہ بنیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایمان میری بیوی ہے اگر وہ مجھ سے ناراض ہے تو میں منا لوں گا وہ میری ٹینشن ہے۔ ہم اس مسئلے کو حل کر لیں گے کسی اور کا بولنا نہیں بنتا۔ ایمان سے مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے اگر وہ مسئلہ حل کرنا چاہے تو ہم کر لیں گے اور اگر نہ چاہے تو چیزیں بربادی کی طرف جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: یوٹیوبر رجب بٹ کا بگ برادر کون ہے؟
واضح رہے کہ رجب بٹ کی شادی دسمبر 2024 میں ہوئی تھی، جو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوئی۔ کچھ عرصہ قانونی معاملات کے باعث بیرونِ ملک رہنے کے بعد وہ حال ہی میں پاکستان واپس آئے ہیں اور اپنے کیسز کا سامنا کر رہے ہیں،
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایمان رجب رجب بٹ رجب بٹ اہلیہ رجب بٹ چیٹ رجب بٹ ویڈیو عون شیخ ویڈیو وائرل یوٹیوبر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایمان رجب رجب بٹ اہلیہ رجب بٹ چیٹ رجب بٹ ویڈیو ویڈیو وائرل یوٹیوبر سوشل میڈیا پر یہ بھی پڑھیں میری بیوی انہوں نے تھا کہ اور اس کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔