آزاد کشمیر میں صحافت کا ادارہ جاتی بحران، جسمانی عدم تحفظ، مالی دباؤ اور کمزور نمائندگی
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
آزاد جموں و کشمیر میں صحافت بظاہر ایک منظم ڈھانچے کے تحت کام کرتی دکھائی دیتی ہے، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ صحافیوں کو یہاں سب سے پہلے جسمانی اور قانونی عدم تحفظ کا سامنا ہے، جس کے بعد مالی دباؤ اور ادارہ جاتی کمزوری آزادیِ صحافت کو مزید محدود کر دیتی ہے۔ پریس کلبز اور صحافی یونینز، جو ایسے حالات میں صحافیوں کے لیے حفاظتی ڈھال کا کردار ادا کر سکتی تھیں، خود انتشار، کمزور نمائندگی اور غیر فعالیت کا شکار ہیں۔
جسمانی اور قانونی عدم تحفظآزاد کشمیر میں صحافیوں پر حملوں اور ہراسانی کے متعدد واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صحافی نہ ریاستی اداروں سے محفوظ ہیں اور نہ ہی قانونی نظام انہیں مؤثر تحفظ فراہم کر پا رہا ہے۔
یکم اور دو مارچ 2021 کی درمیانی شب ایک کرین حادثے کی کوریج کے دوران صحافی سردار نعیم چغتائی اور سید تقی الحسن کو پولیس کارروائی کا سامنا کرنا پڑا اور دونوں کو گرفتار کیا گیا۔ سات سال گزرنے کے باوجود نہ نعیم چغتائی کا ضبط شدہ سامان واپس مل سکا اور نہ ہی مقدمہ کسی منطقی انجام تک پہنچا۔ اسی واقعے میں سید تقی الحسن پر حملے کے بعد پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کیا، جو بعد ازاں عدالتی حکم پر درج تو ہوئی مگر مقدمہ تاحال التوا کا شکار ہے۔
اسی طرح صحافی احتشام الحق کو پولیس گاڑی کی غلط پارکنگ کی رپورٹنگ کے ایک سال بعد گرفتار کیا گیا اور دورانِ حراست تشدد کا نشانہ بنایا گیا، تاہم اس واقعے کی انکوائری رپورٹ آج تک منظرِ عام پر نہیں آ سکی۔ یہ واقعات واضح کرتے ہیں کہ آزاد کشمیر میں صحافت کی قیمت بعض اوقات تشدد، گرفتاری اور طویل قانونی پیچیدگیوں کی صورت میں ادا کرنی پڑتی ہے۔
فریڈم نیٹورک کی رپورٹ 2024–25 کے مطابق پاکستان بھر میں صحافیوں پر حملوں کے 82 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جن میں آزاد کشمیر سے صرف ایک کیس رپورٹ ہوا۔ ماہرین کے مطابق یہ کم تعداد خطرات کی کمی نہیں بلکہ اس حقیقت کی عکاس ہے کہ یہاں صحافی یا تو ایسے واقعات رپورٹ کرنے سے گریز کرتے ہیں یا انہیں خطرات کو دستاویزی شکل دینے کا طریقہ ہی معلوم نہیں۔
پیشہ ورانہ تربیت اور حفاظتی آگاہی کی کمی اس صورتحال کو مزید سنگین بنا دیتی ہے۔ فریڈم نیٹورک کے نمائندے فرحان جاوید کے مطابق آزاد کشمیر میں صحافی بنیادی فیلڈ سیفٹی اور ڈیجیٹل سیکیورٹی سے بڑی حد تک ناواقف ہیں، اور گزشتہ کئی برسوں میں باقاعدہ تربیت صرف ایک مرتبہ فراہم کی گئی۔
جسمانی خطرات کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر میں صحافیوں اور میڈیا اداروں کو شدید مالی دباؤ کا بھی سامنا ہے۔ گزشتہ پندرہ برسوں کے دوران میڈیا مسلسل معاشی عدم استحکام کا شکار رہا ہے، جبکہ 2019 کے بعد سرکاری اشتہارات کی معطلی اور غیر شفاف تقسیم نے صورتحال کو مزید بگاڑ دیا۔
چونکہ آزاد کشمیر میں زیادہ تر میڈیا ادارے سرکاری اشتہارات پر انحصار کرتے ہیں، اس لیے اشتہارات کی بندش یا تاخیر نے ادارتی آزادی، صحافیوں کی معاشی سلامتی اور رپورٹنگ کے معیار کو براہِ راست متاثر کیا۔
اپریل 2025 میں آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے مظفرآباد سے شائع ہونے والے اخبار ڈیلی جموں و کشمیر کے خلاف جعلی خبروں اور منفی پروپیگنڈے کے الزامات کے تحت پولیس کیس کا اندراج اسی مالی دباؤ کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ صحافی تنظیموں کے مطابق حکومت ایک طویل عرصے سے اس اخبار کو سرکاری اشتہارات سے بھی محروم رکھے ہوئے تھی۔
بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (IFJ) کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آزاد کشمیر حکومت نے گزشتہ دو برسوں کے دوران پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے اشتہارات روک کر اس اخبار پر مالی دباؤ ڈالا۔ اس طرزِ عمل نے واضح کر دیا ہے کہ اشتہارات کو پالیسی یا احتساب کے بجائے کنٹرول کے ایک مؤثر آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
کمزور نمائندگی اور بکھرا ہوا ادارہ جاتی ڈھانچہمحکمہ اطلاعات کے مطابق آزاد کشمیر میں 412 رجسٹرڈ صحافی موجود ہیں، تاہم خواتین کی تعداد دس فیصد سے بھی کم ہے۔ کئی اضلاع ایسے ہیں جہاں ایک بھی خاتون صحافی موجود نہیں، جس کے باعث صحافتی بیانیہ محدود اور غیر متوازن ہو جاتا ہے۔
ادارہ جاتی سطح پر پریس کلبز اور صحافی یونینز بھی اس بحران کا مقابلہ کرنے سے قاصر نظر آتی ہیں۔ سنٹرل پریس کلب مظفرآباد میں 55 فعال ممبران میں سے صرف دو خواتین شامل ہیں، جبکہ 2024 کے انتخابات کے دوران پیدا ہونے والے تنازعات نے کلب کو طویل عرصے تک دو دھڑوں میں تقسیم کیے رکھا۔
صحافی یونینز کی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔ بعض یونینز میں ایک ہی وقت میں دو صدور اور دو جنرل سیکریٹریز کی موجودگی ادارہ جاتی انتشار کی علامت ہے۔ سینئر صحافی سید شبیر شاہ کے مطابق 1994 میں قائم ہونے والی سنٹرل یونین آف جرنلسٹس گزشتہ ایک دہائی سے عملی طور پر غیر فعال ہے، اور یونینز کا کردار اب محض بیانات تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) کے ایگزیکٹو ممبر شکیل اقرار کے مطابق PFUJ کا مینڈیٹ آزاد کشمیر تک مؤثر انداز میں نہیں پہنچ پاتا، جس کے باعث یہاں کے صحافی قومی سطح پر نمائندگی اور قانونی معاونت سے محروم رہتے ہیں۔
ممکنہ اصلاحاتسینئر صحافی اور تجزیہ نگار زوالفقار علی کے مطابق آزاد کشمیر میں صحافت کو درپیش بحران کا حل مضبوط، خودمختار اور فعال پریس کلبز اور صحافی تنظیموں کے قیام میں مضمر ہے، جو صحافیوں کے تحفظ، قانونی معاونت، پیشہ ورانہ تربیت اور آزادیٔ اظہار کے فروغ میں حقیقی کردار ادا کر سکیں۔
مجموعی طور پر آزاد کشمیر میں صحافت ایک ایسے ماحول میں کام کر رہی ہے جہاں پہلے جسمانی اور قانونی خطرات صحافیوں کو خاموش کرتے ہیں، اور اس کے بعد مالی دباؤ انہیں مزید کمزور بنا دیتا ہے۔ اگر ان مسائل کا بروقت اور سنجیدہ حل تلاش نہ کیا گیا تو یہ بحران نہ صرف صحافیوں بلکہ عوام کے حقِ معلومات اور جمہوری عمل کے لیے بھی سنگین نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آزاد کشمیر میں صحافت میں صحافیوں اور قانونی ادارہ جاتی میں صحافی مالی دباؤ کے مطابق کے دوران کرتے ہیں اور دو کے بعد
پڑھیں:
وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس ) وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چین کی معروف کمپنی فیمسن کے چیف ایگزیکٹو افسر جیک چین کی قیادت میں وفد نے ملاقات کی، جس میں پاکستان میں غذائی تحفظ، جدید زرعی ٹیکنالوجی اور فوڈ اسٹوریج کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم نے چینی وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین مثالی دوست ہیں، جن کے درمیان معاشی شراکت داری اور دوستانہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس تعاون سے یہ دوستی مزید مستحکم ہوگی۔شہباز شریف نے فیمسن کی جانب سے پاکستان میں اجناس کے اسٹوریج مراکز کو جدید اسٹیٹ آف دی آرٹ مراکز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی متعارف ہوگی، غذائی تحفظ میں بہتری آئے گی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ان منصوبوں میں پاکستان کی افرادی قوت کی ہنرمندی اور پیشہ ورانہ تربیت کو بھی شامل کیا جائے تاکہ مقامی افرادی قوت جدید زرعی ٹیکنالوجی سے مستفید ہو سکے۔فیمسن کے چیف ایگزیکٹو جیک چین نے پرتپاک میزبانی پر وزیراعظم اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم کے حالیہ دور چین کے دوران ہونے والی ملاقات کے نتیجے میں وہ پاکستان آئے ہیں تاکہ غذائی تحفظ سے متعلق قابلِ عمل منصوبوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرپراسیکیوٹر جنرل کی تعیناتی اسلام آباد بار سے ہو گی:اعظم نذیر تارڑ اگلی خبرلاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم