پنجابی فلموں کے سلطان، لیجنڈری اداکار سلطان راہی کو دنیا سے رخصت ہوئے30 برس بیت گئے
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
پاکستانی فلم انڈسٹری کے لیجنڈ اداکار اور پنجابی فلموں کے سلطان ،، سلطان راہی کو دنیا سے رخصت ہوئے30سال بیت گئے۔سلطان راہی نے 40 سال کےدوران 800 سے زائد فلموں میں کام کیا۔راولپنڈی میں پیدا ہونے والے سلطان راہی نے 1956 میں “باغی” سے فلمی سفر کا آغاز کیا۔1975 میں ریلیز ہونے والی فلم وحشی جٹ نے انہیں شہرت کی بلندیوں تک پہنچادیا۔ مولا جٹ فن کے سلطان کی یادگارفلم ،شیر خان، چن وریام، بشیرا، خان چاچا،اوردیگر فلموں میں انہوں نے لازوال اداکاری کی۔ سلطان راہی نے 700سے زائد پنجابی اور100 سے زیادہ اردو فلموں میں کام کیا اور 160 سے زائد ایوارڈزحاصل کئے۔انہیں پاکستانی سینما کاکلائنٹ ایسٹ وڈ بھی کہا جاتا ہے۔انہیں9جنوری 1996 کو گوجرانوالہ میں قتل کر دیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سلطان راہی
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک