مداحوں نے پاکستانی اداکارہ کو ’کاجول‘ قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
پاکستانی ٹی وی اور فلم انڈسٹری کی باصلاحیت اداکارہ نمرہ شاہد نے 2016 میں اپنے فنی کیریئر کا آغاز کیا اور قلیل عرصے میں ناظرین کے دل جیت لیے۔
وہ ’شاہ رُخ کی سالیاں‘، ’شدت‘، ’بھولی بانو‘، ’ڈر خدا سے‘، ’رومیو ویڈز ہیر‘، ’کھٹی میٹھی لو اسٹوری‘ اور ’اے مشتِ خاک‘ جیسے مقبول ڈراموں میں اپنی اداکاری کے باعث پہچانی جاتی ہیں۔
حال ہی میں ڈرامہ ’موہرا‘ میں ان کی اداکاری کو بے حد سراہا گیا، جبکہ اس وقت وہ ڈرامہ سیریل ’معمہ‘ میں آسیہ کے کردار میں اپنی اداکاری پر تعریفیں سمیٹ رہی ہیں۔
نمرہ شاہد اداکاری کے علاوہ اپنی قدرتی خوبصورتی اور پراثر آنکھوں کے باعث بھی خاصی مقبول ہیں۔
حال ہی میں وہ نادیہ خان کے مارننگ شو شریک ہوئیں جہاں انہوں نے بالی ووڈ اداکارہ کاجول سے موازنہ کیے جانے پر کھل کر بات کی۔
اس حوالے سے نمرہ شاہد کا کہنا تھا کہ ڈرامہ ’معمہ‘ نشر ہونے کے بعد بہت سے لوگ انہیں کاجول سے مشابہ قرار دے رہے ہیں خاص طور پر آنکھوں کی وجہ سے۔
ان کے مطابق وہ خود نہیں جانتیں کہ یہ تعریف ہے یا نہیں، لیکن وہ سمجھتی ہیں کہ ایک اداکارہ کے لیے پر اثر آنکھیں ہونا ایک مثبت بات ہے۔
نمرہ نے اس موازنے کو خوش دلی سے قبول کیا اور مداحوں کی محبت کا شکریہ ادا کیا۔
https://www.facebook.com/rasalapk/videos/namra-shahid-reacts-to-kajol-comparisons-after-muamma-calls-expressive-eyes-is-a/4300525530159636/
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک