گوگل نے طاقتور ترین کوانٹم کمپیوٹرز میں سے ایک ’ولو‘ متعارف کرا دیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
گوگل نے امریکا کی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سانتا باربرا میں واقع اپنی تنصیب میں دنیا کے طاقتور ترین کوانٹم کمپیوٹرز میں سے ایک ولو متعارف کرا دیا ہے۔ یہ جدید نظام گوگل کے کوانٹم اے آئی لیب نے تیار کیا ہے اور اس کا مقصد ایسے پیچیدہ سائنسی مسائل حل کرنا ہے جنہیں روایتی کمپیوٹر مناسب وقت میں حل کرنے سے قاصر ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آئی بی ایم کا نیا کوانٹم کمپیوٹر کب لانچ ہوگا؟
روایتی کمپیوٹرز کے برعکس ولو میں نہ کی بورڈ ہے اور نہ ہی مانیٹر۔ یہ ایک جھاڑ نما ڈھانچے میں نصب ہے اور اسے تقریباً مطلق صفر درجہ حرارت پر رکھا جاتا ہے۔ اس کے مرکز میں 105 کیوبٹس پر مشتمل کوانٹم چِپ موجود ہے، جو معلومات کی پروسیسنگ میں عام کمپیوٹرز کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز ہے۔
گوگل کے مطابق ولو بعض پیچیدہ حسابی عمل چند منٹوں میں انجام دے سکتا ہے، جبکہ دنیا کے تیز ترین روایتی کمپیوٹرز کو یہی کام کرنے میں کھربوں سال لگ سکتے ہیں۔
گوگل ولو کی خصوصیات
گوگل کوانٹم اے آئی کے چیف سائنٹسٹ ہارتمٹ نیون کے مطابق ولو اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ کوانٹم کمپیوٹر ایسے مسائل حل کر سکتا ہے جو کلاسیکل کمپیوٹرز کے بس سے باہر ہیں۔ کوانٹم کمپیوٹنگ کو طبی تحقیق، توانائی کے مؤثر استعمال، زراعت اور موسمیاتی ماڈلنگ جیسے شعبوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے، جہاں پیچیدہ سمیولیشنز کی ضرورت ہوتی ہے۔
ولو نے پہلے ہی اہم سنگ میل عبور کر لیے ہیں، جن میں کوانٹم ایکوز الگورتھم جیسے بینچ مارک مسائل شامل ہیں۔ اس قسم کی کمپیوٹیشن مالیکیولز کے رویے کی نقل میں مدد دیتی ہے، جو طب میں ایم آر آئی سے متعلق طریقۂ علاج سے جڑی ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل نے نیا کوانٹم کمپیوٹنگ الگورتھم تیار کرلیا، آرٹیفیشل انٹیلیجنس میں انقلاب بپا کرنے کا اعلان
گوگل کے مطابق ولو میں جدید ترین ایرر کریکشن تکنیکیں شامل کی گئی ہیں اور یہ دنیا کا پہلا کوانٹم سسٹم ہے جس میں قابلِ تکرار ایرر کریکشن کی صلاحیت موجود ہے۔ کیوبٹس کی شور کے لیے غیر معمولی حساسیت کے باعث ایرر کریکشن کو طویل عرصے سے کوانٹم کمپیوٹنگ کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھا جاتا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل المدتی ہدف کوانٹم سسٹمز کو 1 ملین کیوبٹس تک پہنچانا ہے۔ برطانیہ کے نیشنل کوانٹم ٹیکنالوجی پروگرام کے پیٹر نائٹ کے مطابق ولو ایرر کریکشن اور کارکردگی کے حوالے سے ایک بڑی پیش رفت کی نمائندگی کرتا ہے، اگرچہ زیادہ تر کوانٹم کمپیوٹرز اب بھی تجرباتی مرحلے میں ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news کوانٹم کمپیوٹرز گوگل ولو.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کوانٹم کمپیوٹرز گوگل ولو کوانٹم کمپیوٹرز کے مطابق ولو ایرر کریکشن
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔