پاسپورٹ میں جعلسازی کی روک تھام کیلئے اہم قدم اُٹھانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
سٹی 42 : وزیر داخلہ محسن نقوی نے اعلان کیا ہے کہ پاسپورٹ میں جعلسازی کی روک تھام کے لیے نئے سکیورٹی فیچرز متعارف کروائے جائیں گے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے بیجنگ پبلک سکیورٹی پاسپورٹ بیورو کا دورہ کیا، ڈائریکٹر جنرل ِSUN YU نے آمد پر اُن کا استقبال کیا۔ محسن نقوی نے بیورو کے مختلف حصوں کا دورہ کیا اور چین کے پاسپورٹ اور امیگریشن پالیسی اور درخواست سے طباعت تک پاسپورٹ کے اجراء کے تمام مراحل کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔
لاہور میں 20 سال بعد بسنت، شہر کو تین زونز میں تقسیم کر کے سکیورٹی انتظامات سخت
وزیر داخلہ نے چین کے امیگریشن نظام کی افادیت اور مؤثر طریقہ کار کو سراہا اور کہا کہ پاکستان نے بھی پاسپورٹ اور امیگریشن کا ایک تیز رفتار اور جامع نظام تیار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یجنگ ماڈل کی طرز پر پاکستان بھی امیگریشن کا جدید نظام وضع کر رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔