پوپ لیو نے جمعہ کے روز اپنے سالانہ غیر ملکی پالیسی خطاب میں سفارتی مقاصد کے حصول کے لیے فوجی طاقت کے استعمال کی سخت مذمت کی اور کہا کہ دنیا میں مکالمے اور اتفاقِ رائے پر مبنی سفارتکاری کی جگہ طاقت پر مبنی حکمتِ عملی لے رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: پوپ لیو کی یورپ میں پھیلتے اسلاموفوبیا پر کڑی تنقید، لبنان میں امن کی اپیل

پوپ لیو، جو پہلے امریکی نژاد پوپ ہیں، نے کہا کہ عالمی تنازعات کے تناظر میں بین الاقوامی اداروں کی کمزوری ایک سنجیدہ تشویش کا باعث ہے۔ ویٹیکن میں موجود 184 سفیروں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘جنگ دوبارہ مقبول ہو رہی ہے اور جنگ کے لیے جنون بڑھ رہا ہے۔’

وینیزویلا کے عوام کی مرضی کا احترام کرنے پر زور

پوپ لیو نے وینیزویلا کے صدر نکولس مادورو کی امریکی افواج کے ہاتھوں گرفتاری کا حوالہ دیتے ہوئے عالمی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ وینیزویلا کے عوام کی مرضی کا احترام کریں اور وہاں کے شہریوں کے انسانی اور شہری حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں۔

یہ پوپ لیو کا پہلا ایسا خطاب تھا جسے پوپ کا ‘اسٹیٹ آف دی ورلڈ’ خطاب کہا جاتا ہے، جو انہوں نے پوپ فرانسس کے انتقال کے بعد دیا۔ اس موقع پر امریکا اور وینیزویلا کے سفیر بھی موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیے: پوپ لیو کی پہلے غیرملکی دورے کے دوران استنبول کی مشہور سلطان احمد مسجد آمد

پوپ لیو، جو پہلے امریکی کارڈینل رابرٹ پریووسٹ تھے، کئی دہائیوں تک پیرو میں مشنری خدمات انجام دیتے رہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں امریکی صدر کا نام لیے بغیر کچھ پالیسیوں، بالخصوص امیگریشن سے متعلق فیصلوں پر ماضی میں تنقید کا پس منظر بھی رکھتے ہیں۔

تقریباً 43 منٹ کے خطاب میں پوپ لیو نے اس بار نسبتاً سخت لہجہ اختیار کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مغربی ممالک میں آزادیِ اظہار تیزی سے محدود ہو رہی ہے اور ایک ایسا طرزِ گفتگو فروغ پا رہا ہے جو بظاہر شمولیت کے نام پر اختلاف رکھنے والوں کو خارج کر دیتا ہے۔

پوپ لیو نے یورپ اور امریکا میں عیسائیوں کو درپیش ‘نرم مگر واضح مذہبی امتیاز’ پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا پوپ لیو جنگ خطاب عیسائیت وینزویلا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا پوپ لیو عیسائیت وینزویلا وینیزویلا کے پوپ لیو نے انہوں نے

پڑھیں:

ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ

امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔

امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔

ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔

مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔

انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔

مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔

ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو

امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔

امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • بلاول کل چلاس جبکہ آصفہ بھٹو ہنزہ میں خطاب کریں گی
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار