پشاور یونیورسٹی شدید مالی بحران کا شکار، صوبائی حکومت ناکام ہوئی وفاق کے حوالے کی جائے، مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
پشاور:
جوائنٹ ایکشن کمیٹی پشاور یونیورسٹی نے کہا ہے کہ یونیورسٹی شدید مالی بحران کا شکار ہے، صوبائی حکومت مالی اور انتظامی طور پر ناکام ہوچکی ہے لہٰذا وفاق کے حوالے کردیا جائے۔
پشاور یونیورسٹی کے اساتذہ انتظامی افسران کی جوائنٹ ایسوسی ایشن کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس کے اعلامیے کے مطابق ڈاکٹر ذاکراللہ جان کی سربراہی میں منعقدہ اجلاس میں یونیورسٹی کے ملازمین میں پائی جانے والی مایوسی اور اضطراب کا اظہار کیا گیا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ اجلاس کے شرکا نے یونیورسٹی انتظامیہ اور صوبائی حکومت کی جانب سے تنخواہوں اور پنشن کی بروقت ادائیگی یقینی بنانے میں مسلسل ناکامی پر شدید احتجاج کیا اور جامعیہ کے بڑھتے ہوئے مالی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
اجلاس میں متفقہ طور پر قرارداد منظور کی گئی اور کہا گیا کہ صوبائی حکومت مالی اور انتظامی طور پر پشاور یونیورسٹی کے معاملات چلانے میں مکمل ناکام رہی ہے۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے پشاور یونیورسٹی کو وفاق کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ یونیورسٹی اور خیبرپختونخوا کے عوام کے بہترین مفاد میں یہ فیصلہ کیا جائے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کو خبردار کیا گیا کہ اگر ملازمین کے جائز مطالبات بالخصوص تنخواہوں اور پنشن کا فوری اجرا کا مطالبہ بغیر کسی تاخیر کے پورا نہیں کیا گیا تو تحریک کو مزید تیز کیا جائے گا اور تعلیمی اور انتظامی سرگرمیوں کا بائیکاٹ کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پشاور یونیورسٹی صوبائی حکومت
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔