ترکی بھی سعودی، پاکستان دفاعی معاہدے میں شمولیت کا خواہاں، بلومبرگ
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
ترکی بھی سعودی، پاکستان دفاعی معاہدے میں شمولیت کا خواہاں، بلومبرگ WhatsAppFacebookTwitter 0 9 January, 2026 سب نیوز
جدہ(سب نیوز )بلومبرگ کے مطابق، ترکی سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی اتحاد میں شمولیت کا خواہاں ہے۔ معاملے سے باخبر افراد کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے مشرقِ وسطی اور اس سے باہر طاقت کے توازن میں نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے۔یہ دفاعی معاہدہ ابتدائی طور پر ستمبر میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان طے پایا تھا، جس میں کہا گیا ہے کہ کسی ایک ملک کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کو تمام اتحادی ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ شق نیٹو کے آرٹیکل 5 سے مماثلت رکھتی ہے، جس میں ترکی امریکہ کے بعد سب سے بڑی فوجی طاقت رکھتا ہے۔
شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ذرائع نے بلومبرگ کو بتایا کہ مذاکرات آخری مراحل میں ہیں اور معاہدہ طے پانے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ماہرین کے مطابق، یہ توسیع شدہ دفاعی اتحاد منطقی ہے کیونکہ ترکی کے مفادات خطے نہ صرف خطے بلکہ جنوبی ایشیا بلکہ مشرق وسطی اور حتی کہ افریقہ میں بھی سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ ملتے ہیں۔ترکی اس معاہدے کو ایک ایسے ذریعہ کے طور پر دیکھتا ہے جو سکیورٹی اور ہتھیاروں کے توازن کو مضبوط کر سکتا ہے، خاص طور پر جب امریکہ کی قابل اعتماد حیثیت پر سوالات اٹھتے ہیں، جس کے تینوں ممالک کے ساتھ مضبوط عسکری تعلقات ہیں، اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نیٹو میں وابستگی پر شکوک ہیں۔
سٹریٹیجسٹ نِہات علی اوزکان، جو انقرہ کی تھنک ٹینک ٹیپا سے وابستہ ہیں، کے مطابق، سعودی عرب مالی طاقت لاتا ہے، پاکستان کے پاس ایٹمی صلاحیت، بیلسٹک میزائل اور انسانی وسائل موجود ہیں، جبکہ ترکی کے پاس عسکری تجربہ اور دفاعی صنعت کی ترقی ہے۔اوزکان نے کہا جب امریکہ خطے میں اپنے اور اسرائیل کے مفادات کو ترجیح دیتا ہے، تو بدلتے ہوئے حالات اور علاقائی تنازعات کے اثرات ممالک کو مجبور کر رہے ہیں کہ وہ نئے طریقے اپنائیں تاکہ دوست اور دشمن کی شناخت کی جا سکے۔
ترکی کے وزیرِ دفاع نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ پاکستان کی وزارتِ اطلاعات اور سعودی حکام بھی اس ضمن میں فوری طور پر تبصرے کے لیے دستیاب نہیں۔اگر ترکی اس اتحاد میں شمولیت کا معاہدہ کرتا ہے، تو یہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں نئے دور کا آغاز ہوگا، کیونکہ یہ دونوں سابق حریف ہیں جنہوں نے کشیدگی کے کئی سالوں کے بعد تعلقات کا صفحہ پلٹ دیا ہے اور اب اقتصادی و دفاعی تعاون کو فروغ دے رہے ہیں۔ اس ہفتے ترکی کے وزیرِ دفاع کے مطابق انقرہ میں دونوں ممالک کے درمیان پہلی بحری میٹنگ بھی ہوئی۔
ترک اور سعودی حکام ایران کے خطے پر حاری ہونے پر بھی پرانے خدشات رکھتے ہیں، تاہم وہ تہران کے ساتھ براہِ راست تصادم کے بجائے مصالحتی رویے کو ترجیح دیتے ہیں۔ دونوں ممالک شام میں ایک مستحکم سنی قیادت والی حکومت اور فلسطینی ریاست کے قیام کی بھی حمایت کرتے ہیں۔ترکی اور پاکستان کے درمیان دیرینہ عسکری تعلقات قائم ہیں۔ انقرہ، پاکستان نیوی کے لیے بحری جنگی جہازیں بنا رہا ہے اور متعدد F-16 لڑاکا طیاروں کو اپ گریڈ کر چکا ہے۔ ترکی دونوں ممالک کے ساتھ ڈرون ٹیکنالوجی بھی شیئر کر رہا ہے اور اب چاہتا ہے کہ وہ ترکی کے ففتھ جنریشن کے کان کے لڑاکا طیارے کے پروگرام میں بھی شامل ہوں۔یہ سہ فریقی دفاعی بات چیت پاکستان اور انڈیا کے درمیان مئی میں ہونے والے چار روزہ فوجی تصادم کے بعد ہونے والے فائر کے تناظر میں ہو رہی ہے، جس میں دونوں ایٹمی ہتھیار رکھنے والے پڑوسیوں نے لڑائی بند کی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیر خارجہ اسحاق ڈار دورہ سعودی عرب کیلئے آج رات روانہ ہوں گے وزیر خارجہ اسحاق ڈار دورہ سعودی عرب کیلئے آج رات روانہ ہوں گے کینسر کے مریضوں کیلئے بڑی خبر، مفت ادویات کی فراہمی کیلئے حکومت نجی کمپنی سے معاہدہ امریکی پالیسیاں عالمی نظام کو تباہ کر رہی ہیں؛ دنیا کو لٹیرے سے بچانا ہے؛ جرمن صدر تمام اہم اقتصادی فیصلوں کو قومی اقتصادی حکمتِ عملی سے ہم آہنگ ہونا چاہیے،اسحاق ڈار کراچی کی تاریخ کا بڑا جلسہ کریں گے، عوام بھرپور تیاری کریں: سہیل آفریدی ایران کرائے کے فوجیوں کو برداشت نہیں کرے گا: آیت اللہ خامنہ ایCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: میں شمولیت کا
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔