بالائی علاقوں میں برفباری کے دوران کونسے ضروری احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا چاہیے؟
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
ملک کے پہاڑی علاقوں بشمول مری اور گلگت بلتستان میں برفباری کا آغاز ہوچکا ہے اور بعض علاقوں میں برف پڑتے ہیں مواصلات کے نظام اور بجلی کی ترسیل میں تعطل آجاتا ہے۔
برف باری اگرچہ خوبصورت منظر پیش کرتی ہے، تاہم شدید برفانی طوفان جان و مال کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ تیز ہواؤں اور بھاری برف باری سے عمارتوں کو نقصان، بجلی کی بندش، برفانی تودوں کا خطرہ اور سفری نظام متاثر ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ملک کے شمالی علاقوں میں شدید سردی، برفباری کے بعد یخ بستہ ہواؤں کا راج
اس دوران متعلقہ حکام شہریوں کو ہدایت کرتے ہیں کہ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں اور اندرونی دروازے بند رکھیں۔ ماہرین کے مطابق برفانی طوفان کے دوران بجلی کے اچانک جھٹکوں سے بچنے کے لیے غیر ضروری برقی آلات ان پلگ کرنا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق اگر باہر جانا ناگزیر ہو تو عمارتوں، درختوں، دیواروں یا باڑ کے قریب چلنے سے گریز کریں کیونکہ گرنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ طوفان کے دوران مقامی ریڈیو، ٹی وی اور سرکاری ویب سائٹس پر موسم کی تازہ ترین وارننگز پر نظر رکھیں۔ برف پگھلنے کے بعد سیلاب کی صورت میں عمارت کے بلند ترین حصے میں چلے جائیں، تاہم اٹاری میں جانے سے اجتناب کریں کیونکہ پانی پھنسنے کا خطرہ ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: نیو ایئر پر مری میں برفباری، انتظامیہ کے سخت حفاظتی اقدامات
شدید برفباری کے دوران تمام جانوروں کو اندر محفوظ جگہ پر رکھیں اور ان کے لیے خوراک، بستر اور صاف پانی کا انتظام یقینی بنائیں۔ پالتو جانوروں کے لیے گھر کے اندر محفوظ جگہ بنانا نہ بھولیں۔
سفر کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر ضروری سفر مؤخر کر دیا جائے اور ممکن ہو تو گھر سے کام کیا جائے۔ اگر سفر ضروری ہو تو راستوں، بند سڑکوں اور تاخیر کی معلومات پہلے حاصل کریں۔ گاڑی کے وائپرز، ٹائروں، ٹائر چین اور اسکرین واش کی جانچ کریں اور گرم کپڑے، کمبل، خوراک، پانی، ٹارچ اور مکمل چارج موبائل ساتھ رکھیں۔
ڈرائیونگ کے دوران آہستہ رفتار رکھیں، مناسب فاصلہ برقرار رکھیں، کم گیئر استعمال کریں اور پھسلن سے بچنے کے لیے سنو چین کا استعمال کریں۔ بجلی بند ہونے کی صورت میں گھروں کو گرم رکھنے کے لیے تہہ دار کپڑے پہنیں، چولہے یا اوون کو ہیٹر کے طور پر استعمال نہ کریں، اور پائپوں کو جماؤ سے بچانے کے لیے کیبنٹس کھول کر رکھیں۔
یہ بھی پڑھیے: بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں بارشیں کہیں برفباری، کیا خشک سالی کا خاتمہ ہو پائے گا؟
ماہرین طوفان سے پہلے گھروں کی تیاری پر زور دیتے ہیں، جیسے باہر رکھے ڈھیلے سامان کو محفوظ کرنا، چھت اور باڑ چیک کرنا، نالیاں صاف کرنا، اہم دستاویزات اکٹھی کرنا، موبائل اور پاور بینکس چارج کرنا اور خشک خوراک و ادویات ذخیرہ کرنا۔
یہ احتیاطی اقدامات برفانی طوفان کے دوران آپ کی اور آپ کے اہل خانہ کی حفاظت یقینی بنا سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
واشنگٹن(ڈیلی پاکستان آن لائن)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو نئی دھکمی دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا تو امریکہ اس کے جواب میں ایران کا ایک پل یا ایک پاور پلانٹ تباہ کر دے گا۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹر مپ نے لکھا کہ آج سے اگر اسلامی جمہوریہ ایران آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی بھی دوسرے ہتھیار سے حملہ کرتا ہے تو امریکہ اس کے بدلے میں ایران کا ایک پل یا ایک پاور پلانٹ تباہ کرے گا، جن میں تہران کے اندر یا اس کے قریب واقع تنصیبات بھی شامل ہو سکتی ہیں۔ خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہو۔ گزشتہ ہفتے ایک انٹرویو میں بھی انہوں نے کہا تھا کہ اگر ایران مذاکرات کی میز پر نہیں آیا تو امریکا اس کے تمام پل تباہ کر دے گا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :