ملک کے پہاڑی علاقوں بشمول مری اور گلگت بلتستان میں برفباری کا آغاز ہوچکا ہے اور بعض علاقوں میں برف پڑتے ہیں مواصلات کے نظام اور بجلی کی ترسیل میں تعطل آجاتا ہے۔

برف باری اگرچہ خوبصورت منظر پیش کرتی ہے، تاہم شدید برفانی طوفان جان و مال کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ تیز ہواؤں اور بھاری برف باری سے عمارتوں کو نقصان، بجلی کی بندش، برفانی تودوں کا خطرہ اور سفری نظام متاثر ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ملک کے شمالی علاقوں میں شدید سردی، برفباری کے بعد یخ بستہ ہواؤں کا راج

اس دوران متعلقہ حکام شہریوں کو ہدایت کرتے ہیں کہ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں اور اندرونی دروازے بند رکھیں۔ ماہرین کے مطابق برفانی طوفان کے دوران بجلی کے اچانک جھٹکوں سے بچنے کے لیے غیر ضروری برقی آلات ان پلگ کرنا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق اگر باہر جانا ناگزیر ہو تو عمارتوں، درختوں، دیواروں یا باڑ کے قریب چلنے سے گریز کریں کیونکہ گرنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ طوفان کے دوران مقامی ریڈیو، ٹی وی اور سرکاری ویب سائٹس پر موسم کی تازہ ترین وارننگز پر نظر رکھیں۔ برف پگھلنے کے بعد سیلاب کی صورت میں عمارت کے بلند ترین حصے میں چلے جائیں، تاہم اٹاری میں جانے سے اجتناب کریں کیونکہ پانی پھنسنے کا خطرہ ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: نیو ایئر پر مری میں برفباری، انتظامیہ کے سخت حفاظتی اقدامات

شدید برفباری کے دوران تمام جانوروں کو اندر محفوظ جگہ پر رکھیں اور ان کے لیے خوراک، بستر اور صاف پانی کا انتظام یقینی بنائیں۔ پالتو جانوروں کے لیے گھر کے اندر محفوظ جگہ بنانا نہ بھولیں۔

سفر کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر ضروری سفر مؤخر کر دیا جائے اور ممکن ہو تو گھر سے کام کیا جائے۔ اگر سفر ضروری ہو تو راستوں، بند سڑکوں اور تاخیر کی معلومات پہلے حاصل کریں۔ گاڑی کے وائپرز، ٹائروں، ٹائر چین اور اسکرین واش کی جانچ کریں اور گرم کپڑے، کمبل، خوراک، پانی، ٹارچ اور مکمل چارج موبائل ساتھ رکھیں۔

ڈرائیونگ کے دوران آہستہ رفتار رکھیں، مناسب فاصلہ برقرار رکھیں، کم گیئر استعمال کریں اور پھسلن سے بچنے کے لیے سنو چین کا استعمال کریں۔ بجلی بند ہونے کی صورت میں گھروں کو گرم رکھنے کے لیے تہہ دار کپڑے پہنیں، چولہے یا اوون کو ہیٹر کے طور پر استعمال نہ کریں، اور پائپوں کو جماؤ سے بچانے کے لیے کیبنٹس کھول کر رکھیں۔

یہ بھی پڑھیے: بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں بارشیں کہیں برفباری، کیا خشک سالی کا خاتمہ ہو پائے گا؟

ماہرین طوفان سے پہلے گھروں کی تیاری پر زور دیتے ہیں، جیسے باہر رکھے ڈھیلے سامان کو محفوظ کرنا، چھت اور باڑ چیک کرنا، نالیاں صاف کرنا، اہم دستاویزات اکٹھی کرنا، موبائل اور پاور بینکس چارج کرنا اور خشک خوراک و ادویات ذخیرہ کرنا۔

یہ احتیاطی اقدامات برفانی طوفان کے دوران آپ کی اور آپ کے اہل خانہ کی حفاظت یقینی بنا سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کے دوران کے لیے

پڑھیں:

فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان

پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘  کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔

فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔

گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔

رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  •   مٹی کا طوفان ، تیز بارش,2خواتین سمیت5 افراد جاں بحق
  • سیاستدان امیر دوستوں کو مراعات دینا، غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں: بلاول
  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار