پروفیسر شوہب عنایت ملک نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں کی پولرائزیشن انتہائی بدقسمتی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ نیشنل میڈیکل کمیشن (این ایم سی) کی جانب سے شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسی لینس، کاکریال میں "ایم بی بی ایس" کورس (50 نشستیں) کے لئے تعلیمی سال 2025ء 2026ء کا لیٹر آف پرمیشن واپس لینے کے فیصلے کے ساتھ ہی میڈیکل کالج میں داخلوں کا عمل منسوخ ہو گیا، جس سے بالخصوص کشمیر سے تعلق رکھنے والے 42 ایسے طلبہ متاثر ہوئے جنہوں نے نیٹ (انڈر گریجویٹ) امتحان کامیابی سے پاس کیا تھا۔ این ایم سی کے مطابق چند روز قبل ادارے میں کی گئی اچانک جانچ کے دوران کم از کم معیارات کی عدم تعمیل سے متعلق منفی نکات سامنے آئے، جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔ تاہم شری ویشنو دیوی سنگرش سمیتی، جو مسلم طلبہ کے داخلے کی مخالفت کر رہی تھی، نے اس فیصلے کو اپنی تحریک کی کامیابی قرار دیتے ہوئے بدھ کے روز جموں میں مٹھائیاں تقسیم کیں اور اونچی آواز میں موسیقی بجا کر جشن منایا۔

جموں یونیورسٹی کے ماہرین تعلیم نے تعلیمی اداروں کو مذہب کی بنیاد پر پولرائز کرنے اور میڈیکل کالج کی بندش پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یونیورسٹی آف جموں کے انسٹی ٹیوٹ آف میوزک اینڈ فائن آرٹس (آئی ایم ایف اے) کے پرنسپل اور شعبہ اردو کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ پروفیسر شوہب عنایت ملک نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں کی پولرائزیشن انتہائی بدقسمتی ہے۔ انہوں نے کہا میڈیکل کالج کا قیام کسی بھی خطے کے لئے ایک بڑی کامیابی ہوتا ہے، لوگ برسوں سے میڈیکل کالج کے لئے جدوجہد کرتے ہیں، مگر یہاں تعلیمی اداروں پر ہندو-مسلم سیاست کی جا رہی ہے جو سماج کے لئے نقصان دہ ہے۔

پروفیسر سوہب عنایت ملک نے مزید کہا کہ یہ میڈیکل کالج جموں اور کٹرہ کے لئے ایک ترقیاتی قدم تھا، مگر اس کے منسوخ ہونے سے ترقی کا ایک پورا دور رک گیا ہے۔ چند تنظیموں کی جانب سے کالج کی بندش پر جشن منانے کے بارے میں انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ایسے لوگوں پر ہنسنے کے سوا کچھ نہیں کیا جا سکتا، یہ ان کی نادانی کی عکاسی کرتا ہے۔ اسی طرح جموں یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر چمن لال بگت نے کہا کہ تعلیم ہر ایک شہری کا بنیادی حق ہے اور کسی کو بھی اس سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم روشنی ہے، ترقی ہے اور انسان کی سوچ کو جِلا بخشتی ہے، جن طلبہ نے نیٹ جیسے قومی سطح کے امتحان میں کامیابی حاصل کی، انہیں داخلہ ملا تھا، ایسے میں ادارے کی بندش منفی سوچ کا مظہر ہے جو نہ ملک کے مفاد میں ہے اور نہ ہی ترقی کے لئے بہتر۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: تعلیمی اداروں کہا کہ تعلیم میڈیکل کالج کے لئے

پڑھیں:

 کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر

اسلام آباد،اوورسیز چیمبر آف کامرس سروے (overseas chamer commerce)میں بتایا گیا کہ پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور ہوگیا، 70 سے 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر ہوئے۔

سروے میں بتایا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9 فیصد پوائنٹس کمی سے مثبت 13 فیصد رہ گیا، خدمات کے شعبے میں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔

اوورسیز چیمبر سروے کے مطابق مینوفیکچرنگ کے شعبے میں کاروباری اعتماد 7 پوائنٹس کم ہوگیا، صرف ریٹیل سیکٹر میں کاروباری اعتماد 3 پوائنٹس اضافے سے مثبت 20 فیصد ہوگیا۔

مزید پڑھیں:سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع

سروے میں یہ بھی بتایا گیا کہ نئی سرمایہ کاری انڈیکس 10 پوائنٹس کمی سے صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس