تعلیمی اداروں کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنا افسوسناک ہے، ماہرین تعلیم
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
پروفیسر شوہب عنایت ملک نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں کی پولرائزیشن انتہائی بدقسمتی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ نیشنل میڈیکل کمیشن (این ایم سی) کی جانب سے شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسی لینس، کاکریال میں "ایم بی بی ایس" کورس (50 نشستیں) کے لئے تعلیمی سال 2025ء 2026ء کا لیٹر آف پرمیشن واپس لینے کے فیصلے کے ساتھ ہی میڈیکل کالج میں داخلوں کا عمل منسوخ ہو گیا، جس سے بالخصوص کشمیر سے تعلق رکھنے والے 42 ایسے طلبہ متاثر ہوئے جنہوں نے نیٹ (انڈر گریجویٹ) امتحان کامیابی سے پاس کیا تھا۔ این ایم سی کے مطابق چند روز قبل ادارے میں کی گئی اچانک جانچ کے دوران کم از کم معیارات کی عدم تعمیل سے متعلق منفی نکات سامنے آئے، جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔ تاہم شری ویشنو دیوی سنگرش سمیتی، جو مسلم طلبہ کے داخلے کی مخالفت کر رہی تھی، نے اس فیصلے کو اپنی تحریک کی کامیابی قرار دیتے ہوئے بدھ کے روز جموں میں مٹھائیاں تقسیم کیں اور اونچی آواز میں موسیقی بجا کر جشن منایا۔
جموں یونیورسٹی کے ماہرین تعلیم نے تعلیمی اداروں کو مذہب کی بنیاد پر پولرائز کرنے اور میڈیکل کالج کی بندش پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یونیورسٹی آف جموں کے انسٹی ٹیوٹ آف میوزک اینڈ فائن آرٹس (آئی ایم ایف اے) کے پرنسپل اور شعبہ اردو کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ پروفیسر شوہب عنایت ملک نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں کی پولرائزیشن انتہائی بدقسمتی ہے۔ انہوں نے کہا میڈیکل کالج کا قیام کسی بھی خطے کے لئے ایک بڑی کامیابی ہوتا ہے، لوگ برسوں سے میڈیکل کالج کے لئے جدوجہد کرتے ہیں، مگر یہاں تعلیمی اداروں پر ہندو-مسلم سیاست کی جا رہی ہے جو سماج کے لئے نقصان دہ ہے۔
پروفیسر سوہب عنایت ملک نے مزید کہا کہ یہ میڈیکل کالج جموں اور کٹرہ کے لئے ایک ترقیاتی قدم تھا، مگر اس کے منسوخ ہونے سے ترقی کا ایک پورا دور رک گیا ہے۔ چند تنظیموں کی جانب سے کالج کی بندش پر جشن منانے کے بارے میں انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ایسے لوگوں پر ہنسنے کے سوا کچھ نہیں کیا جا سکتا، یہ ان کی نادانی کی عکاسی کرتا ہے۔ اسی طرح جموں یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر چمن لال بگت نے کہا کہ تعلیم ہر ایک شہری کا بنیادی حق ہے اور کسی کو بھی اس سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم روشنی ہے، ترقی ہے اور انسان کی سوچ کو جِلا بخشتی ہے، جن طلبہ نے نیٹ جیسے قومی سطح کے امتحان میں کامیابی حاصل کی، انہیں داخلہ ملا تھا، ایسے میں ادارے کی بندش منفی سوچ کا مظہر ہے جو نہ ملک کے مفاد میں ہے اور نہ ہی ترقی کے لئے بہتر۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تعلیمی اداروں کہا کہ تعلیم میڈیکل کالج کے لئے
پڑھیں:
مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
اسلام آباد، منیلا (خبر نگار خصوصی) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے آسیان ریجنل فورم کے ذریعے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پْرعزم ہے۔ اسحاق ڈار نے 33 ویں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر کثیرالجہتی تعاون ناگزیر ہے۔ جموں و کشمیر کے تنازعے کا منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کی حمایت جاری رکھے گا، جبکہ عالمی برادری کو حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ غزہ کی انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے۔انہوں نے دہشتگردی کو عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دے چکا ہے اور ہر قسم کی دہشتگردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، جبکہ افغانستان میں امن سے علاقائی تجارت، روابط اور ترقی کو فروغ ملے گا۔ نائب وزیراعظم نے جنوبی بحیرہ چین کے تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک چین پالیسی کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو ترقی پذیر ممالک کے لیے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ و سینیٹر اسحاق ڈار نے عمان ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق فلپائن میں آسیان ریجنل فورم کی سائیڈ لائنز پر ملاقات ہوئی، دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعاون کی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ملاقات کے دوران اعلیٰ سطح تبادلوں، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے فلپائن میں مختلف ملکوں کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔ وزرائے خارجہ نے امریکہ ایران کے درمیان ثالثی پر پاکستان کے کردار کو سراہا اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے مذاکرات پر زور دیا، اسحاق ڈار نے برطانیہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ برائے خارجہ سے ملاقات کی دونوں رہنماؤں نے پاک برطانیہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں خطے کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونٹسن پیٹرز سے ملاقات کی۔ دونوں ملکوں نے تجارت، سرمایہ کاری اور کھیل کے شعبے میں تعاون پراتفاق کیا۔ ملاقات میں خطے اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے آسٹریلیا کے وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کی جس میں مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار آسیان ریجنل فورم میں شرکت کے بعد کرغزستان روانہ ہو گئے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اجلاس 23 اور 24 جولائی کو ہوگا، اسحاق ڈار اجلاس کے موقع پر رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ سے دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے۔؎