پاکستان، چین کی پولیس میں تعاون بڑھانے کیلئے محسن نقوی کا بیجنگ پولیس کالج دورہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
اسلام آباد(اپنے سٹاف رپورٹر سے )وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بیجنگ پولیس کالج کا دورہ کیا اور کالج کے ہائی ٹیک ٹریننگ کے مختلف سیکشن دیکھے۔محسن نقوی نے بیجنگ پولیس کی جانب سے گاڑیوں کے ذریعے ملزمان کو پکڑنے کا زبردست مظاہرہ دیکھا اور بیجنگ پولیس کی پیشہ وارانہ مہارت اور تربیت کے شاندار معیار کو سراہا۔انہوں نے اعلیٰ کارکردگی کے بہترین مظاہرے پر گاڑیوں کے خصوصی سکواڈ کو بھرپور داد دی۔اس موقع پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ وہیکلز سکواڈ کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں اور بہترین تربیت دیکھ کر بہت متاثر ہوا ہوں، نیشنل پولیس اکیڈمی کے تمام اے ایس پیز ایک ماہ کی ٹریننگ کیلئے بیجنگ پولیس کالج آئیں گے، نیشنل پولیس اکیڈمی اور بیجنگ پولیس کالج کے درمیان تعاون کو بڑھایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی پولیس افسران کو بھی جدید تقاضوں کے مطابق تعلیم اور پیشہ وارانہ تربیت دی جائے گی، اس ضمن میں نیشنل پولیس اکیڈمی اور بیجنگ پولیس کالج کے درمیان تعاون کے لئے معاہدہ کریں گے۔محسن نقوی نے ڈرائیونگ ٹیسٹ کی جدید سیمولئیٹر مشین چلائی۔وزیر داخلہ کو صدر بیجنگ پولیس کالج نے سیمولٹیرز اور دیگر ذرائع سے ہائی ٹیک ٹریننگ کے بارے میں بریف کیا، انہیں جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے مظاہروں، تشدد کے واقعات اور دیگر جرائم سے نمٹنے کے بارے بریفنگ دی گئی۔بیجنگ پولیس کالج کے صدر وو وائی نے وزیر داخلہ محسن نقوی کو ٹیکنالوجی بیسڈ تعلیمی و عملی تربیت بارے آگاہ کیا۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ بیجنگ پولیس کالج میں تعلیم اور پیشہ وارانہ تربیت کے ساتھ اے ائی کی ٹریننگ بھی دی جاتی ہے، 12 فیکلٹی ہیں اور فیکلٹی ممبران کی تعداد 400 سے زائد ہے جس میں 50 فیصد پی ایچ ڈی ہیں۔وفاقی سیکرٹری داخلہ خرم آغا، ڈی جی نیشنل پولیس اکیڈمی محمد ادریس، ڈی جی نیشنل سائبر کرائمز انویسٹی گیشن سید خرم علی، آئی جی اسلام آباد پولیس علی ناصر رضوی اور چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا بھی اس موقع پر موجود تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: نیشنل پولیس اکیڈمی بیجنگ پولیس کالج محسن نقوی نے وزیر داخلہ کالج کے
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔