مذاکرات شروع نہ ہونے کی ذمہ دار پی ٹی آئی ہے،طارق فضل چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک)وفاقی حکومت نے مذاکراتی عمل شروع نہ ہونے کا ذمہ دار پی ٹی آئی کو قرار دے دیا، وفاقی وزیرپارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کہتے ہیں اسپیکر قومی اسمبلی کی سطح پر مذاکرات کا آغاز ہو جائے تو بات چیت کا دائرہ کار مرکزی قیادت کی سطح تک وسیع ہوسکتا ہے ۔ پی ٹی آئی مذاکرات کے لئے وقت اور جگہ کا تعین کرے ، حکومت تیار ہے۔
تفصیلات کے مطابق طارق فضل چوہدری نے سماء سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات مذاکرات کے آغاز میں رکاوٹ ہیں، پی ٹی آئی کا ایک گروپ حکومت،دوسرا اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات چاہتا ہے، پی ٹی آئی کی خواہش کا وزیراعظم اور حکومتی ٹیم نے مثبت جواب دیا، ہم پی ٹی آئی سے مذاکرات کے حق میں ہیں ۔
وزیر پارلیمانی امور نے کہا کہ پی ٹی آئی مذاکرات کے لئے وقت اور جگہ کا تعین کرے، مذاکرات میں دو اور دو چار کا فارمولا نہیں ہوتا ، اسپیکر قومی اسمبلی نیوٹرل فورم ہے ، مذاکرات شروع ہوجائیں تو مرکزی قیادت کی سطح پر جاسکتے ہیں، اپوزیشن لیڈر کی تقرری نہ ہونا مذاکرات نہ کرنے کے بہانے ہیں ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مذاکرات کے پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔
سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔