یمن کی علیحدگی پسند تنظیم سدرن ٹرانزیشنل کونسل نے تحلیل ہونے کا اعلان کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
یمن کی مرکزی جنوبی علیحدگی پسند تنظیم سدرن ٹرانزیشنل کونسل (STC) نے سعودی عرب میں ہونے والے مذاکرات کے بعد خود کو تحلیل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
تنظیم کے ارکان کے مطابق یہ فیصلہ جنوبی یمن میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے جاری بات چیت کے نتیجے میں کیا گیا۔
ایس ٹی سی کے بعض ارکان اس وقت ریاض میں موجود ہیں جہاں جمعے کے روز جنوبی یمن میں بدامنی کے خاتمے سے متعلق مذاکرات جاری ہیں۔
تنظیم نے سعودی عرب کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات اور پیش کردہ حل کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ جنوبی یمن کے عوام کی ضروریات سے ہم آہنگ ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی میں کمی آ سکتی ہے، جو اس وقت سامنے آئی تھی جب ایس ٹی سی جس کے بارے میں ریاض کا کہنا ہے کہ اسے ابوظہبی کی حمایت حاصل ہے، نے دسمبر میں سعودی حمایت یافتہ یمنی سرکاری افواج کے خلاف کارروائی کی تھی۔
ادھر جمعرات کے روز سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد نے دعویٰ کیا کہ ایس ٹی سی کے سربراہ عیدروس الزبیدی ریاض میں متوقع امن مذاکرات میں شرکت سے گریز کرتے ہوئے صومالی لینڈ کے راستے متحدہ عرب امارات فرار ہو گئے۔
اتحاد نے یو اے ای پر الزام عائد کیا کہ اس نے الزبیدی کو ملک سے خفیہ طور پر نکالنے میں مدد فراہم کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سدرن ٹرانزیشنل کونسل یمن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سدرن ٹرانزیشنل کونسل
پڑھیں:
میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
جنوبی کوریا(southkorea) میں ایک معروف ریسٹورنٹ کے مالک کے خلاف میٹھے پکوانوں کی سجاوٹ کے لیے چیونٹیاں استعمال کرنے پر قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی کورین استغاثہ نے عدالت سے ریسٹورنٹ کے مالک کو ایک سال قید اور تقریباً 13 ہزار 510 امریکی ڈالر جرمانے کی سزا دینے کی استدعا کی ہے۔
ریسٹورنٹ مالک نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ اس نے سوئٹ ڈشز کی ٹاپنگ کے لیے محدود پیمانے پر چیونٹیاں استعمال کیں، اس حوالے سے گاہکوں کو پہلے ہی آگاہ کر دیا جاتا تھا۔
مزیدپڑھیں:ورلڈ کپ فاتح ہسپانوی فٹبالرز کو وزن کے برابر ٹماٹر انعام میں مل گئے
تفتیشی حکام کے مطابق گزشتہ چار برسوں کے دوران امریکا اور تھائی لینڈ سے درآمد کی گئی تقریباً 49 ہزار چیونٹیاں مختلف پکوانوں، خصوصاً میٹھے ڈشز، میں استعمال کی گئیں۔
رپورٹس کے مطابق جنوبی کوریا کے موجودہ قوانین کے تحت چیونٹیاں ان 10 کیڑوں میں شامل نہیں ہیں جنہیں انسانی خوراک کے طور پر استعمال کی اجازت حاصل ہے، اسی بنیاد پر ریسٹورنٹ مالک کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔
عدالت اس مقدمے کا فیصلہ 2 ستمبر کو سنائے گی، جس کے بعد یہ واضح ہوگا کہ ریسٹورنٹ مالک کو سزا دی جاتی ہے یا نہیں۔