امریکا: گزشتہ پانچ برسوں سے ناک سے غذا لینے والی خاتون
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
امریکا کی ایک خاتون نے ٹی وی پر اپنا کھانا پیس کر اسٹرا کی مدد سے ناک کے ذریعے کھا کر دنیا کو حیران کر دیا۔
’مائی اسٹرینج ایڈکشنز‘ کے ساتویں سیزن میں ورجینیا سے تعلق رکھنے والی کیتھرین نے بتایا کہ کمیونیٹی کالج تک ان کا اور کھانے کا تعلق نارمل تھا۔ اس کا آغاز دراصل ایک چیلنج کے طور پر ہوا تھا جب انہوں نے فلیورڈ فروٹ ڈرنک ناک سے پینے کی کوشش کی۔
انہوں نے بتایا کہ ایسا کرنے کے بعد وہ چکرا گئیں لیکن منہ سے مشروب پینے سے زیادہ ذائقہ دار تجربہ رہا، یہ بہت زبردست تھا۔ اس کے بعد سے تقریباً پانچ ہوگئے وہ اپنی تمام خوراکیں ناک سے لے رہی ہیں۔
مزید پڑھیںبیلاروس کی جانباز نے بلندی سے اسکائی جمپ کا ریکارڈ قائم کردیا
اس کا مطلب ہے کہ وہ پالک اور مشروم کو آملیٹ کے ساتھ بلینڈ کرتی ہیں، لیکوئیدائڈ پالک اور اسٹیک، کافی اور یہاں تک کہ تیکھا گواکامول بھی ناک سے نوش فرماتی ہیں۔
کیتھرین کے مطابق ایسا کرنے سے کوئی نقصان نہیں ہے۔ لیکن یہ عادت ان کو اپنے دوستوں اور خاندان والوں سے دور کر رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ناک سے
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔