شہر کے اندرون علاقوں میں جنگلی بندروں کے اچانک ظہور سے شہری خوفزدہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: شہر کے اندرون علاقوں میں جنگلی بندروں کے اچانک نمودار ہونے سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے، چوک ماہنہ، چاہ پیپل، فوارہ چوک، کھاری کھوئی، قلعہ ڈھکی سمیت متعدد علاقوں میں بندروں کی آزادانہ اچھل کود دیکھی گئی۔
علاقہ مکینوں کے مطابق بندر گھروں کی چھتوں اور بجلی کی تاروں پر پھلانگتے نظر آتے ہیں جبکہ ان کی حرکت کی ویڈیوز بھی منظر عام پر آ چکی ہیں، شہریوں نے بتایا کہ بندر گھروں سے سامان اٹھا کر فرار ہو جاتے ہیں اور کئی بچے بندروں کے حملوں کا بھی شکار ہو چکے ہیں۔
مقامی افراد نے شکایت کی کہ ایک ہفتے سے زائد وقت گزر جانے کے باوجود محکمہ وائلڈ لائف بندروں کو قابو میں کرنے میں ناکام رہا، جس کی وجہ سے شہری شدید ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔
علاقہ مکینوں نے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ وائلڈ لائف سے فوری نوٹس لینے اور بندروں کو پکڑنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔