Jasarat News:
2026-06-02@22:31:00 GMT

دورۂ بلوچستان میں وزیر اعظم کے اعلانات

اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے جمعرات کے روز ملک کے رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کا دورہ کیا اس دورہ میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحق ڈار اور وفاقی کابینہ کے اہم ارکان و مشیر بھی ان کے ہمراہ تھے۔ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں انہوں نے صوبائی گورنر، وزیر اعلیٰ، صوبائی کابینہ کے ارکان اور صوبے کے ممتاز سیاسی رہنمائوں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ بلوچستان میں قومی سلامتی، معاشی و ترقیاتی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے وفاق اور صوبے کو مل کر آگے بڑھنا ہو گا۔ ہم بڑے ترقیاتی منصوبوں، دانش اسکولوں اور زرعی اصلاحات کے ذریعے بلوچستان کو ترقی کے قومی دھارے میں شامل کر رہے ہیں۔ افواج پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں کی قربانیوں سے ملک کا دفاع مضبوط ہوا ہے۔ صوبہ خیبر اور بلوچستان میں دہشت گردی کے پس پشت خارجی ہاتھ ہے جو خوارجیوں کی پشت پناہی کر رہا ہے تاہم حکومت اور افواج پاکستان کا پختہ عزم ہے کہ دہشت گردی کے خاتمہ تک چین سے نہیں بیٹھا جائے گا۔ ملک کے جغرافائی لحاظ سے سب سے بڑے صوبے میں مشکلات کے باوجود موجودہ صوبائی حکومت بلوچستان کے عوام کی خدمت میں مصروف عمل ہے، جو خوش آئند امر ہے۔ خیبر پختون خوا کی طرح بلوچستان بھی دہشت گردی سے شدید متاثر ہوا ہے، تاہم دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے افواج پاکستان کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔ افواج پاکستان، پولیس، ایف سی، رینجرز، لیویز اور عام شہریوں کی قربانیاں تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی جائیں گی۔ فتنہ الخوارج کے خلاف جنگ جاری ہے اور بدقسمتی سے بعض ہمسایہ ممالک کی جانب سے دہشت گردوں کو معاونت دی جا رہی ہے جو انتہائی افسوسناک بات ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور افواج پاکستان دلجمعی اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی قیادت کر رہے ہیں جس طرح 6 مئی 2025ء کو بھارت کے خلاف جنگ میں پاکستان کی موثر قیادت کی اور دشمن کو سبق سکھایا وہ تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے این ایف سی ایوارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2010ء میں این ایف سی ایوارڈ کے وقت بلوچستان کے وزیر اعلیٰ نواب اسلم رئیسانی تھے، این ایف سی پر ہماری کئی نشستیں ہوئیں اور اس دور میں نواز شریف، آصف علی زرداری اور اس وقت کے وزاعظم یوسف رضا گیلانی اور تمام وزرائے اعلیٰ کے باہمی تعاون سے صوبوں کے درمیان وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا بڑا علاقہ ہے اور اس وقت وزیر اعلیٰ بلوچستان کا مطالبہ جائز تھا اور زیادہ فاصلے کی وجہ سے وسائل زیادہ استعمال ہونے تھے اور اس سلسلے میں پنجاب نے اپنے حصے میں سے سالانہ 11 ارب روپے بلوچستان کو دیے، جس پر انہیں دلی خوشی ہے اور یہ این ایف سی ایوارڈ گزشتہ 16 برس سے نافذ العمل ہے۔ نئے این ایف سی ایوارڈز کے لیے کمیٹیاں کام کر رہی ہے۔ جب بات بھائیوں اور خاندان کی ہو تو پھر حصوں پر نہیں بلکہ مل بیٹھ کر فیصلے کیے جاتے ہیں، اسی اتحاد اور اتفاق کے ساتھ وفاق کو مضبوط بنانے کے ساتھ صوبوں کے درمیان فاصلوں کو ختم کرنا ہو گا۔ کراچی سے چمن 4 رویہ روڈ کا منصوبہ شروع کر رہے ہیں، کوئٹہ کراچی شاہراہ کا سنگ بنیاد رکھا جا رہا ہے، کوئٹہ کراچی شاہراہ بہترین سڑک ہو گی جہاں ٹریفک حادثات میں کمی واقع ہو گی، یہ بھائی چارے اور قومی یکجہتی کی مثال ہے۔ بلوچستان میں ایک ہی وقت میں پانچ دانش اسکولز قائم کیے جا رہے ہیں، جہاں قلعہ سیف اللہ سے تربت تک غریب اور وسائل سے محروم گھرانوں کے بچے اور بچیاں معیاری تعلیم حاصل کریں گے اور مستقبل میں ملک کا نام روشن کریں گے۔ ترقی اور خوشحالی کے سفر کو مل کر آگے بڑھانا ہے اور مشاورت کے ذریعے تمام چیلنجز کا حل تلاش کیا جائے گا۔ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے جس قدر بڑا صوبہ ہے اس کی مشکلات، مسائل اور وہاں کے عوام کو در پیش چیلنج بھی اسی قدر بڑے ہیں جن کی وجہ سے بلوچ عوام میں پسماندگی کے آثار نمایاں اور احساس محرومی بھی فزوں تر ہے کیونکہ یہ صوبہ دیگر صوبوں سے خاصا پیچھے ہے جس کا احساس وہاں کے عوام میں شدت سے پایا جاتا ہے اور یہ پسماندگی اس کے باوجود ہے کہ صوبے کو اللہ تعالیٰ نے گیس، کوئلے، سونے اور تانبے جیسے قیمتی معدنی وسائل وافر مقدار میں عطا فرمائے ہیں تاہم جیسا کہ وزیر اعظم نے بھی اپنی گفتگو میں ذکر کیا ہے کہ صوبے میں دہشت گردی کا عفریت خطے کی تعمیر و ترقی کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ ہے جسے ہمارے ازلی دشمن ہمسایہ ملک کی باقاعدہ مادی، سیاسی اور سفارتی سرپرستی حاصل ہے البتہ ہمیں اس حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ ہمارے اس ہمسایہ دشمن نے قیام پاکستان سے آج تک اس مملکت خداداد کے وجود کو دل سے تسلیم نہیں کیا اور اسے جب بھی موقع ملا ہے اس نے وطن عزیز کی سالمیت کو نقصان پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی آج بھی اور آئندہ بھی ایسے کمینہ خصلت دشمن سے نقصان پہنچانے کے سوا کوئی توقع رکھنا عبث ہے اس لیے بہرحال اپنی سالمیت اور قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ہمیں تمام ممکنہ اقدامات کو بروئے کار لانا ہو گا۔ جو ہمارے قومی سلامتی کے ادارے کر بھی رہے ہیں تاہم اس موقع پر اس جانب توجہ دلانا بھی نا مناسب نہ ہوگا کہ خود ہمارے بعض اقدامات اور غلطیوں سے بھی دشمن کو فائدہ اٹھانے کا موقع ملا ہے جن کا سنجیدگی سے جائزہ لے کر مستقبل میں ان سے احتراز اور ازالہ کے لیے ٹھوس مثبت اقدامات لازم ہیں۔ وزیر اعظم نے بلوچ عمائدین سے گفتگو میں صوبے میں بعض ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کا اعلان بھی کیا اور صوبے کے پانچ مختلف علاقوں میں دانش، اسکولوں، چمن کراچی شاہراہ، این 25 اور ایک رہائشی منصوبے کا بھی افتتاح کیا جو یقینا خوش آئند اور قابل ستائش ہے البتہ اس ضمن میں اس حقیقت کو بھی پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ ماضی میں بھی بلوچستان کے لیے ایسے کئی خوش کن منصوبوں اور پیکجز کا اعلان کیا جاتا رہا ہے جن میں سے 2009ء میں اعلان کردہ ’’آغاز حقوق بلوچستان‘‘ اور کم و بیش پانچ برس قبل ’’بلوچستان ۔ تعمیر و ترقی کا جامع منصوبہ‘‘ نمایاں ہیں جن میں صوبے میں تیز رفتار ترقی کے خواب عوام کو دکھائے گئے مگر بدقسمتی سے صوبے کے عوام کے مسائل اور خطے کی پسماندگی کا حال آج بھی وہی ہے جو برسوں قبل تھا۔ اس زبوں حالی کے اسباب کی تفصیل میں جائے بغیر ہم وزیر اعظم اور صوبائی حکومت کے ذمے داران سے صرف اتنی گزارش کریں گے کہ وہ جو اعلانات بھی کریں اور جن ترقیاتی منصوبوں پر کام کا افتتاح کریں ان کی اپنی نگرانی میں تکمیل کو بھی یقینی بنائیں ورنہ محض اعلانات اور افتتاحی فیتے کاٹنے سے صوبے اور اس کے عوام کے مسائل حل نہیں ہوسکیں گے…!

اداریہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: افواج پاکستان بلوچستان میں قومی سلامتی ایف سی رہے ہیں کے عوام کہا کہ اور اس ہے اور

پڑھیں:

سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب

سٹی 42: گلگت بلتستان انتخابات کے سلسلے میں اسکردو میں پاکستان پیپلز پارٹی کے جلسے سے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کا منصوبہ دنیا کا سب سے بڑا ہاؤسنگ پراجیکٹ ہے، جبکہ حقیقی ترقی امیروں کو مزید مراعات دینے کے بجائے غریبوں کو روزگار اور مواقع فراہم کرنے سے ممکن ہے۔

 بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو ان کے آئینی اور جمہوری حقوق دینا ملکی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کو 18ویں ترمیم جیسے اختیارات دینے کی حامی ہے اور اسلام آباد کو یہاں کے عوام کے حقِ ملکیت کو تسلیم کرنا ہوگا۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

 چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ تھر کول منصوبے میں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو دی گئیں، جو ان کی جماعت کے عوام دوست وژن کا عملی ثبوت ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گلگت بلتستان کے دوروں کے حوالے سے وہ دیگر تمام سیاسی رہنماؤں سے زیادہ مرتبہ یہاں آ چکے ہیں۔

 خطاب کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے ملکی دفاعی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں شروع ہوا جبکہ میزائل پروگرام کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے آگے بڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے پاکستان میں غیر ملکی فوجی اڈوں کی موجودگی کا خاتمہ کیا تھا۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

 سماجی بہبود کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ہر صورت محفوظ رکھا جائے گا اور آئندہ بجٹ میں اس پروگرام کے فنڈز میں اضافے کی کوشش کی جائے گی۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی غریب اور پسماندہ طبقات کی نمائندہ جماعت ہے اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو جاری رکھے گی۔

 علاقائی اور عالمی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور جنگوں کے اثرات پوری مسلم دنیا اور عالمی معیشت پر مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے امن کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگوں کے خاتمے اور استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں کامیاب ہوں گی۔

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

 انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ امن، جمہوریت اور عوامی حقوق کی سیاست پر یقین رکھتی ہے اور آئندہ بھی عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

 بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آپ نے فیصلہ کرنا ہے ، عوام دوست یا عوام دشمن حکومت بنانی ہے ،ہماری غریب دوست اور ان کی عوام دشمن سیاست ہے ، میں نے سیلاب متاثرہ عوام کے لیے گھر بنا کر دیکھائے ۔ انھوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو روزگار دیں ،دوسری جماعتوں کی کوشش ہوتی ہے کہ کیسے لوگوں کو بے روز گار کریں ۔

 آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان

 گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کے سلسلے میں اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی طاقت کی بدولت آج کوئی بھی ملک پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو ایٹمی پروگرام کا تحفہ دیا، جبکہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے میزائل پروگرام کو آگے بڑھایا اور ملکی دفاع کو مزید مضبوط بنایا۔

لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز

 بلاول بھٹو زرداری نے سابق فوجی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مشرف دور میں غیر ملکی طاقتوں کو پاکستان کی سرزمین پر اڈے قائم کرنے کی اجازت دی گئی تھی، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ایسے تمام اڈوں کو بند کروا کر غیر ملکی افواج کو واپس بھیج دیا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ان کی جماعت پاکستان کو ہر شعبے میں مضبوط اور خودمختار دیکھنا چاہتی ہے۔ ان کے بقول پاکستان پیپلز پارٹی واحد سیاسی جماعت ہے جو ملک کو مزید مستحکم اور عوامی فلاح کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔

 انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوام کو معاشی ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں اور اسی سوچ کے تحت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) متعارف کرایا گیا، جس کے ذریعے غریب اور مستحق خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بی آئی ایس پی اسلام آباد یا کسی ایک علاقے کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کے عوام کا پروگرام ہے، تاہم بعض سیاسی عناصر اسے ختم کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

 انہوں نے اعلان کیا کہ چاہے گلگت بلتستان کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوں یا نہ ہوں، وزیراعظم آئندہ بجٹ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز میں اضافے کا اعلان کریں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد کو ریلیف فراہم کیا جا سکے،انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پیپلز پارٹی آئندہ بھی عوامی فلاح، معاشی استحکام اور قومی خودمختاری کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف