Jasarat News:
2026-07-24@05:29:43 GMT

دورۂ بلوچستان میں وزیر اعظم کے اعلانات

اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260110-03-2

 

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے جمعرات کے روز ملک کے رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کا دورہ کیا اس دورہ میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحق ڈار اور وفاقی کابینہ کے اہم ارکان و مشیر بھی ان کے ہمراہ تھے۔ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں انہوں نے صوبائی گورنر، وزیر اعلیٰ، صوبائی کابینہ کے ارکان اور صوبے کے ممتاز سیاسی رہنمائوں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ بلوچستان میں قومی سلامتی، معاشی و ترقیاتی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے وفاق اور صوبے کو مل کر آگے بڑھنا ہو گا۔ ہم بڑے ترقیاتی منصوبوں، دانش اسکولوں اور زرعی اصلاحات کے ذریعے بلوچستان کو ترقی کے قومی دھارے میں شامل کر رہے ہیں۔ افواج پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں کی قربانیوں سے ملک کا دفاع مضبوط ہوا ہے۔ صوبہ خیبر اور بلوچستان میں دہشت گردی کے پس پشت خارجی ہاتھ ہے جو خوارجیوں کی پشت پناہی کر رہا ہے تاہم حکومت اور افواج پاکستان کا پختہ عزم ہے کہ دہشت گردی کے خاتمہ تک چین سے نہیں بیٹھا جائے گا۔ ملک کے جغرافائی لحاظ سے سب سے بڑے صوبے میں مشکلات کے باوجود موجودہ صوبائی حکومت بلوچستان کے عوام کی خدمت میں مصروف عمل ہے، جو خوش آئند امر ہے۔ خیبر پختون خوا کی طرح بلوچستان بھی دہشت گردی سے شدید متاثر ہوا ہے، تاہم دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے افواج پاکستان کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔ افواج پاکستان، پولیس، ایف سی، رینجرز، لیویز اور عام شہریوں کی قربانیاں تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی جائیں گی۔ فتنہ الخوارج کے خلاف جنگ جاری ہے اور بدقسمتی سے بعض ہمسایہ ممالک کی جانب سے دہشت گردوں کو معاونت دی جا رہی ہے جو انتہائی افسوسناک بات ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور افواج پاکستان دلجمعی اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی قیادت کر رہے ہیں جس طرح 6 مئی 2025ء کو بھارت کے خلاف جنگ میں پاکستان کی موثر قیادت کی اور دشمن کو سبق سکھایا وہ تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے این ایف سی ایوارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2010ء میں این ایف سی ایوارڈ کے وقت بلوچستان کے وزیر اعلیٰ نواب اسلم رئیسانی تھے، این ایف سی پر ہماری کئی نشستیں ہوئیں اور اس دور میں نواز شریف، آصف علی زرداری اور اس وقت کے وزاعظم یوسف رضا گیلانی اور تمام وزرائے اعلیٰ کے باہمی تعاون سے صوبوں کے درمیان وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا بڑا علاقہ ہے اور اس وقت وزیر اعلیٰ بلوچستان کا مطالبہ جائز تھا اور زیادہ فاصلے کی وجہ سے وسائل زیادہ استعمال ہونے تھے اور اس سلسلے میں پنجاب نے اپنے حصے میں سے سالانہ 11 ارب روپے بلوچستان کو دیے، جس پر انہیں دلی خوشی ہے اور یہ این ایف سی ایوارڈ گزشتہ 16 برس سے نافذ العمل ہے۔ نئے این ایف سی ایوارڈز کے لیے کمیٹیاں کام کر رہی ہے۔ جب بات بھائیوں اور خاندان کی ہو تو پھر حصوں پر نہیں بلکہ مل بیٹھ کر فیصلے کیے جاتے ہیں، اسی اتحاد اور اتفاق کے ساتھ وفاق کو مضبوط بنانے کے ساتھ صوبوں کے درمیان فاصلوں کو ختم کرنا ہو گا۔ کراچی سے چمن 4 رویہ روڈ کا منصوبہ شروع کر رہے ہیں، کوئٹہ کراچی شاہراہ کا سنگ بنیاد رکھا جا رہا ہے، کوئٹہ کراچی شاہراہ بہترین سڑک ہو گی جہاں ٹریفک حادثات میں کمی واقع ہو گی، یہ بھائی چارے اور قومی یکجہتی کی مثال ہے۔ بلوچستان میں ایک ہی وقت میں پانچ دانش اسکولز قائم کیے جا رہے ہیں، جہاں قلعہ سیف اللہ سے تربت تک غریب اور وسائل سے محروم گھرانوں کے بچے اور بچیاں معیاری تعلیم حاصل کریں گے اور مستقبل میں ملک کا نام روشن کریں گے۔ ترقی اور خوشحالی کے سفر کو مل کر آگے بڑھانا ہے اور مشاورت کے ذریعے تمام چیلنجز کا حل تلاش کیا جائے گا۔ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے جس قدر بڑا صوبہ ہے اس کی مشکلات، مسائل اور وہاں کے عوام کو در پیش چیلنج بھی اسی قدر بڑے ہیں جن کی وجہ سے بلوچ عوام میں پسماندگی کے آثار نمایاں اور احساس محرومی بھی فزوں تر ہے کیونکہ یہ صوبہ دیگر صوبوں سے خاصا پیچھے ہے جس کا احساس وہاں کے عوام میں شدت سے پایا جاتا ہے اور یہ پسماندگی اس کے باوجود ہے کہ صوبے کو اللہ تعالیٰ نے گیس، کوئلے، سونے اور تانبے جیسے قیمتی معدنی وسائل وافر مقدار میں عطا فرمائے ہیں تاہم جیسا کہ وزیر اعظم نے بھی اپنی گفتگو میں ذکر کیا ہے کہ صوبے میں دہشت گردی کا عفریت خطے کی تعمیر و ترقی کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ ہے جسے ہمارے ازلی دشمن ہمسایہ ملک کی باقاعدہ مادی، سیاسی اور سفارتی سرپرستی حاصل ہے البتہ ہمیں اس حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ ہمارے اس ہمسایہ دشمن نے قیام پاکستان سے آج تک اس مملکت خداداد کے وجود کو دل سے تسلیم نہیں کیا اور اسے جب بھی موقع ملا ہے اس نے وطن عزیز کی سالمیت کو نقصان پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی آج بھی اور آئندہ بھی ایسے کمینہ خصلت دشمن سے نقصان پہنچانے کے سوا کوئی توقع رکھنا عبث ہے اس لیے بہرحال اپنی سالمیت اور قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ہمیں تمام ممکنہ اقدامات کو بروئے کار لانا ہو گا۔ جو ہمارے قومی سلامتی کے ادارے کر بھی رہے ہیں تاہم اس موقع پر اس جانب توجہ دلانا بھی نا مناسب نہ ہوگا کہ خود ہمارے بعض اقدامات اور غلطیوں سے بھی دشمن کو فائدہ اٹھانے کا موقع ملا ہے جن کا سنجیدگی سے جائزہ لے کر مستقبل میں ان سے احتراز اور ازالہ کے لیے ٹھوس مثبت اقدامات لازم ہیں۔ وزیر اعظم نے بلوچ عمائدین سے گفتگو میں صوبے میں بعض ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کا اعلان بھی کیا اور صوبے کے پانچ مختلف علاقوں میں دانش، اسکولوں، چمن کراچی شاہراہ، این 25 اور ایک رہائشی منصوبے کا بھی افتتاح کیا جو یقینا خوش آئند اور قابل ستائش ہے البتہ اس ضمن میں اس حقیقت کو بھی پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ ماضی میں بھی بلوچستان کے لیے ایسے کئی خوش کن منصوبوں اور پیکجز کا اعلان کیا جاتا رہا ہے جن میں سے 2009ء میں اعلان کردہ ’’آغاز حقوق بلوچستان‘‘ اور کم و بیش پانچ برس قبل ’’بلوچستان ۔ تعمیر و ترقی کا جامع منصوبہ‘‘ نمایاں ہیں جن میں صوبے میں تیز رفتار ترقی کے خواب عوام کو دکھائے گئے مگر بدقسمتی سے صوبے کے عوام کے مسائل اور خطے کی پسماندگی کا حال آج بھی وہی ہے جو برسوں قبل تھا۔ اس زبوں حالی کے اسباب کی تفصیل میں جائے بغیر ہم وزیر اعظم اور صوبائی حکومت کے ذمے داران سے صرف اتنی گزارش کریں گے کہ وہ جو اعلانات بھی کریں اور جن ترقیاتی منصوبوں پر کام کا افتتاح کریں ان کی اپنی نگرانی میں تکمیل کو بھی یقینی بنائیں ورنہ محض اعلانات اور افتتاحی فیتے کاٹنے سے صوبے اور اس کے عوام کے مسائل حل نہیں ہوسکیں گے…!

اداریہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: افواج پاکستان بلوچستان میں قومی سلامتی ایف سی رہے ہیں کے عوام کہا کہ اور اس کے لیے ہے اور

پڑھیں:

ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں

تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا

ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ بخیتار سیدوف کو پیش کردیں۔

مدثر ٹیپو کا کہنا تھا کہ یہ ان کے لیے اعزاز ہے کہ انہوں نے وزیرخارجہ سے ملاقات میں یہ اسناد پیش کیں۔

ازبک وزیر خارجہ بختیار سیدوف کا کہنا تھا کہ ملاقات میں مختلف امور پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار