data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

جب کھیل سیاست کا یرغمال بن جائے، جب اسپورٹس مین شپ کی جگہ تعصب لے لے، اور جب کرکٹ جیسے عالمی کھیل میں طاقت، غرور اور انتہا پسندی فیصلے کرنے لگے تو پھر یہ صرف ایک ٹورنامنٹ کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ یہ عالمی نظامِ کھیل کے اخلاقی دیوالیہ پن کی علامت بن جاتا ہے، ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے محض 33 دن قبل بنگلا دیش کا بھارت جانے سے انکار اسی بگڑتے ہوئے نظام کے خلاف ایک جرأت مندانہ احتجاج ہے، بھارتی کرکٹ بورڈ کی چودھراہٹ، آئی پی ایل کے نام پر کرکٹ کو تجارتی غلامی میں بدلنے کی روش، اور بڑھتی ہوئی ہندو انتہا پسندی نے آج نہ صرف پاکستان بلکہ بنگلا دیش کو بھی مجبور کر دیا ہے کہ وہ کھلاڑیوں کی عزت، جان اور وقار کو کسی ٹرافی سے زیادہ اہم سمجھے، مستفیض الرحمن جیسے عالمی معیار کے فاسٹ بولر کو محض انتہا پسند دباؤ پر آئی پی ایل سے نکال دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت میں اب کرکٹ کا فیصلے میدان میں کارکردگی پر نہیں بلکہ مذہبی اور سیاسی وفاداریوں پر ہو رہے ہیں۔

بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کا یہ کہنا کہ غلامی کے دن ختم ہو چکے ہیں محض ایک جملہ نہیں بلکہ دہائیوں کی محرومی، تضحیک اور امتیازی سلوک کے خلاف ایک اعلانِ بغاوت ہے، بھارت نے برسوں سے آئی سی سی پر اثر و رسوخ استعمال کر کے اپنے لیے سہولتیں پیدا کیں، میزبان ہونے کے نام پر قوانین کو موڑا، سیکورٹی کے نام پر پاکستان کو باہر رکھا، اور اب وہی رویہ بنگلا دیش کے سامنے بھی آ گیا ہے، پاکستان پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ وہ اپنی ٹیم کو ایسے ماحول میں نہیں لے جائے گا جہاں مذہبی جنون اور نفرت انگیز سیاست کھلے عام موجود ہو، اور اب بنگلا دیش کا ساتھ دینا اس بات کی دلیل ہے کہ مسئلہ صرف پاکستان کا مؤقف نہیں تھا بلکہ بھارت کا رویہ ہی مسئلہ ہے، آئی سی سی کی خاموشی ہمیشہ کی طرح طاقتور کے حق میں ہے، وہ ادارہ جو کھیل میں توازن اور انصاف کا ضامن ہونا چاہیے تھا آج لاجسٹکس اور شیڈول کا بہانہ بنا کر اصل مسئلے سے نظریں چرا رہا ہے۔

سوال یہ نہیں کہ ایک ماہ میں میچز سری لنکا منتقل ہو سکتے ہیں یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا آئی سی سی اپنے رکن ممالک کے کھلاڑیوں کی جان، عزت اور مساوی سلوک کی ضمانت دے سکتا ہے یا نہیں، بنگلا دیش نے بھارت میں آئی پی ایل کی نشریات روک کر واضح پیغام دے دیا ہے کہ معاشی دباؤ کے باوجود قومی غیرت پر سمجھوتا نہیں ہوگا۔ بھارت کا یہ دعویٰ کہ میچز منتقل کرنا ناممکن ہے دراصل اس کی ضد اور بالادستی کی عکاسی ہے، کیونکہ جب پاکستان کے میچز منتقل ہو سکتے ہیں تو بنگلا دیش کے کیوں نہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ بھارت خود کو کرکٹ کا مالک سمجھنے لگا ہے اور یہی سوچ عالمی کرکٹ کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے، اگر آج بنگلا دیش کو زبردستی بھارت بھیجا گیا تو کل کسی اور چھوٹے ملک کی باری ہوگی، اور پھر کرکٹ ایک کھیل نہیں بلکہ ایک طاقتور ملک کا ہتھیار بن جائے گی۔ ہندو انتہا پسندی محض سیاسی جلسوں تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے کھیل کے میدانوں، ڈریسنگ رومز اور فیصلوں پر بھی قبضہ جما لیا ہے، بنگلا دیشی حکام کا کھلاڑیوں کی سیکورٹی پر خدشات ظاہر کرنا بے بنیاد نہیں بلکہ حالیہ برسوں میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے واقعات، نفرت انگیز نعروں اور تشدد کے پس منظر میں ایک فطری خوف ہے، آئی سی سی اگر واقعی غیر جانبدار ادارہ ہے تو اسے بھارت کے بجائے کھیل کے مستقبل کا ساتھ دینا ہوگا، ورنہ یہ ورلڈ کپ تاریخ میں ایک ایسے ٹورنامنٹ کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس میں ٹرافی سے زیادہ تنازع جیت گیا۔

پاکستان اور بنگلا دیش کا سری لنکا میں کھیلنے کا فیصلہ دراصل ایشیائی کرکٹ میں ایک نئے اتحاد کی بنیاد بھی بن سکتا ہے، جہاں چھوٹے ممالک مل کر بڑی چودھراہٹ کو للکاریں، آج بنگلا دیش کا انکار کل نیپال، سری لنکا یا کسی اور کا سوال بن سکتا ہے، کرکٹ صرف بیٹ اور بال کا کھیل نہیں بلکہ اعتماد، احترام اور برابری کا نام ہے، اگر یہ تینوں چیزیں ختم ہو جائیں تو پھر ورلڈ کپ بھی محض ایک تماشا رہ جاتا ہے، بنگلا دیش نے یہ قدم اٹھا کر ثابت کیا ہے کہ وہ صرف میچ نہیں کھیلنا چاہتا بلکہ عزت کے ساتھ کھیلنا چاہتا ہے اور یہی پیغام عالمی کرکٹ کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہونا چاہیے۔

دلشاد عالم.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بنگلا دیش کا نہیں بلکہ

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان

تحریک انصاف کے رہنما شفیع جان نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کے علاوہ باقی تمام جماعتوں کو انتخابی مہم چلانے کی اجازت ہے، نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری بھی کیمپین کر رہے ہیں۔

ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اگر تحریک انصاف کا کوئی وزیر وہاں ہوتا تو الیکشن کمیشن حرکت میں آچکا ہوتا۔ الیکشن کمیشن کی یہ خاموشی ہمیں سمجھ نہیں آرہی۔

شفیع جان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے گلگت بلتستان ڈیموکریٹک موومنٹ سے الحاق کیا تو اُس کو بھی کینسل کر دیا گیا اور ہمارے اُمیدواروں کو آزاد ڈیکلیئر کر دیا گیا ۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام فیصلہ کر چکے ہیں، 7 جون کو تحریک انصاف کامیاب ہو گی۔ ہم اپنے ووٹ کو محفوظ بنانے کے مکینزم پر کام کر رہے ہیں۔

پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ فارم 47 کی ایک اور واردات کی تیاری کی جارہی ہے وہ ہم کرنے نہیں دیں گے۔ اس کے خلاف ہمیں اگر گلگت بلتستا ن بند کرنا پڑا تو یہ بھی کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا