جب کھیل میں انصاف مر جائے تو قومیں میدان نہیں، مؤقف چنتی ہیں
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260110-03-3
دلشاد عالم
جب کھیل سیاست کا یرغمال بن جائے، جب اسپورٹس مین شپ کی جگہ تعصب لے لے، اور جب کرکٹ جیسے عالمی کھیل میں طاقت، غرور اور انتہا پسندی فیصلے کرنے لگے تو پھر یہ صرف ایک ٹورنامنٹ کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ یہ عالمی نظامِ کھیل کے اخلاقی دیوالیہ پن کی علامت بن جاتا ہے، ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے محض 33 دن قبل بنگلا دیش کا بھارت جانے سے انکار اسی بگڑتے ہوئے نظام کے خلاف ایک جرأت مندانہ احتجاج ہے، بھارتی کرکٹ بورڈ کی چودھراہٹ، آئی پی ایل کے نام پر کرکٹ کو تجارتی غلامی میں بدلنے کی روش، اور بڑھتی ہوئی ہندو انتہا پسندی نے آج نہ صرف پاکستان بلکہ بنگلا دیش کو بھی مجبور کر دیا ہے کہ وہ کھلاڑیوں کی عزت، جان اور وقار کو کسی ٹرافی سے زیادہ اہم سمجھے، مستفیض الرحمن جیسے عالمی معیار کے فاسٹ بولر کو محض انتہا پسند دباؤ پر آئی پی ایل سے نکال دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت میں اب کرکٹ کا فیصلے میدان میں کارکردگی پر نہیں بلکہ مذہبی اور سیاسی وفاداریوں پر ہو رہے ہیں۔
بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کا یہ کہنا کہ غلامی کے دن ختم ہو چکے ہیں محض ایک جملہ نہیں بلکہ دہائیوں کی محرومی، تضحیک اور امتیازی سلوک کے خلاف ایک اعلانِ بغاوت ہے، بھارت نے برسوں سے آئی سی سی پر اثر و رسوخ استعمال کر کے اپنے لیے سہولتیں پیدا کیں، میزبان ہونے کے نام پر قوانین کو موڑا، سیکورٹی کے نام پر پاکستان کو باہر رکھا، اور اب وہی رویہ بنگلا دیش کے سامنے بھی آ گیا ہے، پاکستان پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ وہ اپنی ٹیم کو ایسے ماحول میں نہیں لے جائے گا جہاں مذہبی جنون اور نفرت انگیز سیاست کھلے عام موجود ہو، اور اب بنگلا دیش کا ساتھ دینا اس بات کی دلیل ہے کہ مسئلہ صرف پاکستان کا مؤقف نہیں تھا بلکہ بھارت کا رویہ ہی مسئلہ ہے، آئی سی سی کی خاموشی ہمیشہ کی طرح طاقتور کے حق میں ہے، وہ ادارہ جو کھیل میں توازن اور انصاف کا ضامن ہونا چاہیے تھا آج لاجسٹکس اور شیڈول کا بہانہ بنا کر اصل مسئلے سے نظریں چرا رہا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ ایک ماہ میں میچز سری لنکا منتقل ہو سکتے ہیں یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا آئی سی سی اپنے رکن ممالک کے کھلاڑیوں کی جان، عزت اور مساوی سلوک کی ضمانت دے سکتا ہے یا نہیں، بنگلا دیش نے بھارت میں آئی پی ایل کی نشریات روک کر واضح پیغام دے دیا ہے کہ معاشی دباؤ کے باوجود قومی غیرت پر سمجھوتا نہیں ہوگا۔ بھارت کا یہ دعویٰ کہ میچز منتقل کرنا ناممکن ہے دراصل اس کی ضد اور بالادستی کی عکاسی ہے، کیونکہ جب پاکستان کے میچز منتقل ہو سکتے ہیں تو بنگلا دیش کے کیوں نہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ بھارت خود کو کرکٹ کا مالک سمجھنے لگا ہے اور یہی سوچ عالمی کرکٹ کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے، اگر آج بنگلا دیش کو زبردستی بھارت بھیجا گیا تو کل کسی اور چھوٹے ملک کی باری ہوگی، اور پھر کرکٹ ایک کھیل نہیں بلکہ ایک طاقتور ملک کا ہتھیار بن جائے گی۔ ہندو انتہا پسندی محض سیاسی جلسوں تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے کھیل کے میدانوں، ڈریسنگ رومز اور فیصلوں پر بھی قبضہ جما لیا ہے، بنگلا دیشی حکام کا کھلاڑیوں کی سیکورٹی پر خدشات ظاہر کرنا بے بنیاد نہیں بلکہ حالیہ برسوں میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے واقعات، نفرت انگیز نعروں اور تشدد کے پس منظر میں ایک فطری خوف ہے، آئی سی سی اگر واقعی غیر جانبدار ادارہ ہے تو اسے بھارت کے بجائے کھیل کے مستقبل کا ساتھ دینا ہوگا، ورنہ یہ ورلڈ کپ تاریخ میں ایک ایسے ٹورنامنٹ کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس میں ٹرافی سے زیادہ تنازع جیت گیا۔
پاکستان اور بنگلا دیش کا سری لنکا میں کھیلنے کا فیصلہ دراصل ایشیائی کرکٹ میں ایک نئے اتحاد کی بنیاد بھی بن سکتا ہے، جہاں چھوٹے ممالک مل کر بڑی چودھراہٹ کو للکاریں، آج بنگلا دیش کا انکار کل نیپال، سری لنکا یا کسی اور کا سوال بن سکتا ہے، کرکٹ صرف بیٹ اور بال کا کھیل نہیں بلکہ اعتماد، احترام اور برابری کا نام ہے، اگر یہ تینوں چیزیں ختم ہو جائیں تو پھر ورلڈ کپ بھی محض ایک تماشا رہ جاتا ہے، بنگلا دیش نے یہ قدم اٹھا کر ثابت کیا ہے کہ وہ صرف میچ نہیں کھیلنا چاہتا بلکہ عزت کے ساتھ کھیلنا چاہتا ہے اور یہی پیغام عالمی کرکٹ کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہونا چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بنگلا دیش کا نہیں بلکہ
پڑھیں:
پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ تحریک انصاف کے بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں بات کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کے فارم 47 والے بیانیے کو مانا ہے اس کے بعد پیپلز پارٹی کو چاہیے کہ وہ تمام عہدوں سے استعفے دے اور ہمارے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھے۔
پروگرام میں شریک پیپلز پارٹی کے رہنما سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہم مسلم لیگ ن کے ساتھ پاکستان کی خاطر حکومت میں بیٹھے ہیں۔
ن لیگ کے بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ پیپلز پارٹی ان کے ساتھ ہی رہے گی اور اسی تنخواہ پر دونوں ایک دوسرے کے ساتھ چلتے رہيں گے۔