بھارت کے سابق رنجی کرکٹر خالہرنگ لالریمروتہ دوران میچ انتقال کر گئے
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
میزورم: بھارتی ریاست میزورم سے تعلق رکھنے والے 38 سالہ سابق فرسٹ کلاس کرکٹر خالہرنگ لالریمروتہ دوران میچ اچانک گرنے کے بعد دنیا سے رخصت ہوگئے۔ یہ افسوسناک واقعہ خالد میموریل سیکنڈ ڈویژن اسکریننگ ٹورنامنٹ کے ایک میچ کے دوران پیش آیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق 7 جنوری کو میچ کے دوران اچانک زمین پر گرنے کے بعد کرکٹر کو فوری طور پر طبی امداد دی گئی اور علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کر دی،انتقال کی خبر کے بعد اسٹیٹ کرکٹ ایسوسی ایشن نے احتراماً تمام طے شدہ میچز منسوخ کر دیے ہیں۔
واضح رہے کہ خالہرنگ لالریمروتہ سابق رنجی ٹرافی کرکٹر تھے اور انہوں نے میزورم کی نمائندگی میں 2 فرسٹ کلاس میچز اور 7 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے۔ پروفیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہ مقامی کرکٹ میں سرگرم رہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے بعد
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :