بی سی سی آئی نے مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل میں واپسی کی پیشکش کردی؟
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان افواہوں کو بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے صدر امین الاسلام بلبُل نے مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو دوبارہ انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں کھیلنے کی پیشکش کی ہے۔
امین الاسلام بلبُل نے واضح طور پر کہا ہے کہ اس حوالے سے بی سی سی آئی سے نہ کوئی تحریری اور نہ ہی زبانی رابطہ ہوا ہے۔
مستفیض الرحمان کے آئی پی ایل سے اخراج پر تنازعبنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو گزشتہ ماہ ہونے والی نیلامی میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز (کے کے آر) نے 9 کروڑ 20 لاکھ روپے میں خریدا تھا، تاہم بعد ازاں انہیں آئی پی ایل 2026 کے اسکواڈ سے نکال دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے آئی پی ایل سے نکالے گئے بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کا پی ایس ایل کھیلنے کا فیصلہ
اس فیصلے کے بعد بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان ایک غیر معمولی کرکٹ تنازع سامنے آیا، جس پر بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے شدید ناراضی کا اظہار کیا۔
بی سی سی آئی اور بی سی بی کے تعلقات میں کشیدگیمستفیض الرحمان کی آئی پی ایل سے علیحدگی کے بعد بی سی سی آئی اور بی سی بی کے درمیان متعدد معاملات پر اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔
بنگلہ دیش نے احتجاجاً ملک میں آئی پی ایل میچز کی نشریات پر تاحکمِ ثانی پابندی عائد کر دی ہے، جبکہ آئندہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے بھارت کا دورہ کرنے سے بھی انکار کر دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق مستفیض کو نکالنے کا فیصلہ بی سی سی آئی کے اعلیٰ ترین حلقوں سے آیا، جبکہ کئی حکام کو اس فیصلے سے قبل اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
بی سی بی صدر کا دوٹوک مؤقفبی سی بی صدر امین الاسلام بلبُل نے بنگلہ دیشی اخبار ’آجکر‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’مستفیض کی آئی پی ایل میں واپسی کے حوالے سے میری بی سی سی آئی سے نہ کوئی تحریری بات ہوئی ہے اور نہ زبانی۔ میں نے اپنے بورڈ کے کسی رکن سے بھی ایسی کوئی بات نہیں کی۔ اس خبر میں کوئی سچائی نہیں۔‘
تمیم اقبال کا مذاکرات پر زوربنگلہ دیش کے سابق کپتان تمیم اقبال نے بی سی بی پر زور دیا ہے کہ آئندہ ماہ بھارت میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کے فیصلے میں عوامی جذبات کے بجائے ہوش مندانہ حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔
تمیم اقبال نے کہا کہ ایسے فیصلوں کے اثرات آئندہ 10 برس تک محسوس کیے جا سکتے ہیں، اس لیے ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھایا جانا چاہیے۔
سیکیورٹی خدشات، میچز سری لنکا منتقل کرنے کی خواہشبنگلہ دیش نے 7 فروری سے شروع ہونے والے ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے بھارت کا دورہ کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر مطالبہ کیا ہے کہ ان کے میچز سری لنکا منتقل کیے جائیں۔
یہ بھی پڑھیے آئی پی ایل سےمستفیض الرحمان کا اخراج،بنگلہ دیش کا ٹورنامنٹ نشریات نہ دکھانے پر غور
تمیم اقبال نے اس حوالے سے کہا ’صورتحال اس وقت نازک ہے، لیکن بہت سے مسائل بات چیت کے ذریعے حل ہو سکتے ہیں، اگر تمام فریق ایک میز پر بیٹھیں۔‘
سخت حکومتی مؤقف اور بڑھتا بھارت مخالف رجحانبنگلہ دیش کے مشیر برائے کھیل آصف نذرالاسلام نے مقام کی تبدیلی کے معاملے پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاملہ قومی وقار سے جڑا ہوا ہے۔
واضح رہے کہ بنگلہ دیش کے سرکاری حلقوں میں بھارت مخالف جذبات میں بھی واضح اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ بی سی سی آئی کرکٹ کھیل مستفیض الرحمان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کرکٹ کھیل مستفیض الرحمان مستفیض الرحمان بنگلہ دیش کے تمیم اقبال آئی پی ایل کرکٹ بورڈ پی ایل سے
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :