سربراہ بنگلہ دیشی فضائیہ کا دورہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی: صدر لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) بنگلہ دیش ائیرفورس کے سربراہ ائیر چیف مارشل حسن محمود خان نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا دورہ کیا جو کہ نیشنل سیکورٹی اینڈ وار کورس 2010/11 کے سابق طالب علم ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق مہمان معزز نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں صدر این ڈی یو لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار سے ملاقات کی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات کے دوران فریقین نے دونوں ممالک کی افواج کے مابین عسکری روابط کی اہمیت کا اعادہ کیا اور خاص طور پر پیشہ ورانہ عسکری تربیت کے شعبے میں باہمی تعاون پر زور دیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دورہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان مضبوط تاریخی تعلقات کی نشاندہی کرتا ہے اور دفاعی تعاون اور مشترکہ تربیت کی گہرائی کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔