Jasarat News:
2026-07-24@01:45:13 GMT

طالبان کے بعد کیا ہوگا؟

اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سیاستدان اور صحافی میں دوستی بڑی مشکل ہے لیکن صحافی اور سفارت کار میں دوستی زیادہ مشکل نہیں۔ اس دوستی میں مشکل اْس وقت آتی ہے جب صحافی خبر کے پیچھے بھاگنے کے بجائے کسی کا سفیر بن جائے تو پھر وہ صحافی نہیں رہتا۔ کل شام ایک غیر ملکی سفارت کار مجھ سے پوچھ رہا تھا کہ پاکستان کے صحافیوں کے پاس خبریں کم اور افواہیں زیادہ ہوتی ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟ میں نے سفارت کار سے مودبانہ اختلاف کیا اور کہا کہ اچھے صحافیوں کے پاس آج بھی خبروں کی کمی نہیں لیکن وہ آپ کے ساتھ اصلی خبریں شیئر نہیں کرتے اور آپ کو اِدھر اْدھر کی افواہیں سنا کر فارغ کر دیتے میں۔ وجہ یہ ہے کہ صحافیوں اور سفارت کاروں میں اعتماد کا بحران پیدا ہو چکا ہے۔ یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر گزشتہ کچھ عرصے میں کئی غیر ملکی سفارت کاروں سے گفتگو ہوئی۔ بہت سے پاکستانی صحافیوں کو شکایت ہے کہ انہوں نے کسی سفارت کار کے ساتھ آف دی ریکارڈ گفتگو میں کوئی بات کہی اور اگلے ہی روز یہ بات وہاں پہنچ گئی جہاں سے صحافی کے لیے کئی مشکلات پیدا کی جا سکتی ہیں۔ ایسا بھی ہوا کہ کسی صحافی نے کوئی بات کی ہی نہیں لیکن اْس کے ساتھ کوئی غلط دعویٰ منسوب کر دیا گیا۔ یہاں غلطی کسی سفارت کار کی نہیں بلکہ اْس محفل میں موجود دوسرے صحافیوں کی تھی جو ایک سے زیادہ اداروں کے لیے رپورٹنگ کرتے ہیں۔ جس سفارت کار کے ساتھ یہ گفتگو ہو رہی تھی اس بے چارے کی نوکری آج کل خطرے میں پڑی ہوئی ہے۔ ان صاحب نے کافی دن پہلے اپنی حکومت کو بتایا تھا کہ پاکستان غزہ میں قیام امن کے لیے اپنی فوج بھیج دے گا۔ اس سفارت کار کا سورس ایک پاکستانی صحافی تھا جسے وہ حکومت کے بہت قریب سمجھتا تھا۔ جب ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار نے یہ واضح بیان دیدیا کہ پاکستان حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے اپنی فوج غزہ نہیں بھیجے گا تو یہ سفارت کار پریشان ہو گیا۔ اْس نے اپنے سورس سے پوچھا کہ تمہاری خبر غلط کیوں نکلی؟ سورس نے کہا کہ اْس نے تو یہ خبر سوشل میڈیا پر پڑھی تھی۔ سوشل میڈیا پر فیک نیوز اور فیک ویڈیوز کی یلغار نے کئی سمجھدار لوگوں کو سوشل میڈیا سے دور کرنا شروع کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا کہہ رہا تھا کہ ٹرمپ ونیزویلا کے بعد ایران پر حملہ کرے گا اور پاکستان ایران پر حملے کے لیے امریکا کو اڈے فراہم کرے گا۔ چھے جنوری کو اقوام متحدہ میں پاکستان نے ونیز ویلا کے خلاف ٹرمپ کے ایکشن کی مذمت کر کے ایک دفعہ پھر سوشل میڈیا کو غلط ثابت کر دیا ہے۔

ونیزویلا میں ٹرمپ نے جو کیا ہے اْس نے پوری دنیا کو ہلادیا ہے۔ اب اگر روسی صدر پیوٹن کے حکم پر یوکراین کے صدر زیلنسکی کو کہیں سے اغواء کر کے ماسکو پہنچا دیا جاتا ہے تو ٹرمپ کیا کر لیں گے؟ بھارتی پارلیمنٹ کے ایک مسلمان رکن اسدالدین اویسی نے اپنے وزیر اعظم مودی سے سے مطالبہ کیا ہے کہ جس طرح ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر کو اغوا کر کے نیو یارک پہنچا دیا تو آپ بھارت میں حملوں کے مبینہ ملزمان کو پاکستان سے اغواء کر کے دہلی کیوں نہیں لاتے؟ اویسی صاحب آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ ہیں۔ یہ تنظیم قیام پاکستان سے بہت سال پہلے قائد اعظم کے ایک ساتھی نواب بہادر یار جنگ نے قائم کی تھی۔ یہ تنظیم حیدر آباد دکن کے مسلمانوں کی سماجی فلاح و بہود کی ذمے دار تھی لیکن نواب صاحب کی وفات کے بعد سیاسی پلیٹ فارم میںبدل گئی۔ آج کل اسدالدین اویسی اس پلیٹ فارم سے خود کو بھارت کا وفادار ثابت کرنے کے لیے ایسے ایسے بیانات دیتے ہیں کہ کبھی ان پر ہنسی آتی ہے اور کبھی ترس۔ ایک غیر ملکی نشریاتی ادارے نے مجھے پوچھا کہ کیا اسدالدین اویسی کے بیان کے بعد آپ کو ایک اور پاک بھارت جنگ کا خطرہ نظر نہیں آرہا؟ میں نے جواب میں کہا خطرے میں تو اویسی صاحب نظر آتے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے تو واضح الفاظ میں بتا دیا ہے کہ آج کل بھارتی میڈیا پر یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ2026ء میں بھارت اور افغانستان سے پاکستان پر مشترکہ حملہ کیا جائے گا اور پاکستان حملہ آوروں کو سبق سکھانے کے لیے تیار بیٹھا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے افغان طالبان کے بارے میں جو لب و لہجہ اختیار کیا اس کے بعد ایک افغان صحافی نے مجھے پوچھا کہ کہیں پاکستان نے افغان طالبان کی قیادت کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اغواکرنے کا منصوبہ تو نہیں بنا لیا میں نے پوچھا کہ یہ کیسی بات کر رہے ہو؟ افغان صحافی نے بتایا کہ ایک طالبان مخالف رہنما اور احمد شاہ مسعود کے صاحبزادے احمد مسعود نے باقاعدہ بیان جاری کیا ہے کہ جس طرح ٹرمپ نے ونیزویلا کے صدر کو اغوا کیا ہے پاکستان بھی افغان طالبان کے لیڈر ملا ہیبت اللہ کو قندھار سے اغواء کر لے گا۔ یہ بیان میرے لیے حیران کن تھا۔ افغان صحافی نے پوچھا کہ اگر پاکستان فوجی کارروائی کے ذریعے افغان طالبان کی قیادت کو ختم کر دیتا ہے تو کیا پاکستان کا مسئلہ حل ہو جائے گا؟ کیا کابل میں ایک پاکستان دوست حکومت قائم ہو جائے گی؟ میں نے افغان صحافی سے پوچھا کہ اگر کابل سے طالبان کی حکومت ختم ہو جائے تو کیا ہوگا؟ اس نے جواب میں کہا کہ شمالی افغانستان احمد مسعود اور عبد الرشید دوستم کے حامیوں کے پاس چلا جائے گا۔ مشرقی افغانستان میں کہیں

طالبان اور کہیں داعش کا غلبہ قائم ہو جائے گا اور کابل میں خانہ جنگی شروع ہوجائے گی۔ داعش 2013 میں ابوبکر البغدادی نے عراق اور شام میں قائم کی تھی۔ 2015 میں طالبان کے ایک باغی حافظ سعید اورکزئی نے پاکستان اور افغانستان میں داعش کی شاخ قائم کی۔ داعش اور طالبان 2015ء سے ایک دوسرے پر حملے کر رہے ہیں۔ داعش کی طرف سے افغان طالبان کو پاکستان کا ایجنٹ قرار دیا جاتا رہا ہے اور اب پاکستان کی حکومت افغان طالبان کو بھارت کا ایجنٹ قرار دے رہی ہے۔ ایرانی حکومت داعش کو اسرائیل کی تخلیق سمجھتی ہے کیونکہ داعش کے جنگجو اسرائیل سے لڑنے کے بجائے ایران اور افغانستان کی طرف ہجرت کر رہے ہیں۔ داعش کو غزہ کی نہیں افغانستان کی فکر ہے۔ پاکستان نے داعش کے ایک افغان کمانڈر محمد شریف اللہ کو گرفتار کر کے پچھلے سال امریکا کے حوالے کیا تھا۔

حال ہی میں داعش کا ایک اور افغان رہنما سلطان عزیز عزام پاکستان میں گرفتار ہو چکا ہے جو اپنے ریڈیو ’’صدائے خلافت‘‘ پر افغان طالبان کو منافق قرار دیا کرتا تھا اور افغانوں کے ساتھ ساتھ پاکستانیوں کو بھی اپنی ریاست کے خلاف بغاوت پر اکساتا تھا۔ پاکستان کو چاہیے کہ سلطان عزیز عزام سے ہونے والی انویسٹی گیشن کی تفصیلات کو سامنے لائے تاکہ پتا چلے داعش کا اصل ماسٹر مائنڈ اسرائیل ہے یا کوئی مغربی ملک؟ پاکستان سمیت خطے کے تمام ممالک کو افغانستان کے بارے میں ایک مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ افغان طالبان کو بھی ثابت کرنا ہے کہ وہ بھارتی کنٹرول میں نہیں ہیں بصورت دیگر ان کے معاملات بہت بگڑ سکتے ہیں۔ دوسری طرف پاکستان کو بھی سوچنا ہوگا کہ اگر افغانستان سے طالبان کا کنٹرول ختم ہو جاتا ہے تو پھر کیا ہوگا؟ کیا دوبارہ خانہ جنگی کی صورت میں ایک دفعہ پھر لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان کی طرف نہیں دوڑیں گے؟ (بشکریہ: روزنامہ جنگ

حامد میر.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: افغان طالبان کو افغان صحافی سوشل میڈیا سفارت کار طالبان کے اور افغان صحافی نے جائے گا ہو جائے کے ساتھ دیا ہے کے بعد کے ایک کیا ہے

پڑھیں:

عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔

ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل