Jasarat News:
2026-06-03@01:12:52 GMT

طالبان کے بعد کیا ہوگا؟

اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سیاستدان اور صحافی میں دوستی بڑی مشکل ہے لیکن صحافی اور سفارت کار میں دوستی زیادہ مشکل نہیں۔ اس دوستی میں مشکل اْس وقت آتی ہے جب صحافی خبر کے پیچھے بھاگنے کے بجائے کسی کا سفیر بن جائے تو پھر وہ صحافی نہیں رہتا۔ کل شام ایک غیر ملکی سفارت کار مجھ سے پوچھ رہا تھا کہ پاکستان کے صحافیوں کے پاس خبریں کم اور افواہیں زیادہ ہوتی ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟ میں نے سفارت کار سے مودبانہ اختلاف کیا اور کہا کہ اچھے صحافیوں کے پاس آج بھی خبروں کی کمی نہیں لیکن وہ آپ کے ساتھ اصلی خبریں شیئر نہیں کرتے اور آپ کو اِدھر اْدھر کی افواہیں سنا کر فارغ کر دیتے میں۔ وجہ یہ ہے کہ صحافیوں اور سفارت کاروں میں اعتماد کا بحران پیدا ہو چکا ہے۔ یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر گزشتہ کچھ عرصے میں کئی غیر ملکی سفارت کاروں سے گفتگو ہوئی۔ بہت سے پاکستانی صحافیوں کو شکایت ہے کہ انہوں نے کسی سفارت کار کے ساتھ آف دی ریکارڈ گفتگو میں کوئی بات کہی اور اگلے ہی روز یہ بات وہاں پہنچ گئی جہاں سے صحافی کے لیے کئی مشکلات پیدا کی جا سکتی ہیں۔ ایسا بھی ہوا کہ کسی صحافی نے کوئی بات کی ہی نہیں لیکن اْس کے ساتھ کوئی غلط دعویٰ منسوب کر دیا گیا۔ یہاں غلطی کسی سفارت کار کی نہیں بلکہ اْس محفل میں موجود دوسرے صحافیوں کی تھی جو ایک سے زیادہ اداروں کے لیے رپورٹنگ کرتے ہیں۔ جس سفارت کار کے ساتھ یہ گفتگو ہو رہی تھی اس بے چارے کی نوکری آج کل خطرے میں پڑی ہوئی ہے۔ ان صاحب نے کافی دن پہلے اپنی حکومت کو بتایا تھا کہ پاکستان غزہ میں قیام امن کے لیے اپنی فوج بھیج دے گا۔ اس سفارت کار کا سورس ایک پاکستانی صحافی تھا جسے وہ حکومت کے بہت قریب سمجھتا تھا۔ جب ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار نے یہ واضح بیان دیدیا کہ پاکستان حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے اپنی فوج غزہ نہیں بھیجے گا تو یہ سفارت کار پریشان ہو گیا۔ اْس نے اپنے سورس سے پوچھا کہ تمہاری خبر غلط کیوں نکلی؟ سورس نے کہا کہ اْس نے تو یہ خبر سوشل میڈیا پر پڑھی تھی۔ سوشل میڈیا پر فیک نیوز اور فیک ویڈیوز کی یلغار نے کئی سمجھدار لوگوں کو سوشل میڈیا سے دور کرنا شروع کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا کہہ رہا تھا کہ ٹرمپ ونیزویلا کے بعد ایران پر حملہ کرے گا اور پاکستان ایران پر حملے کے لیے امریکا کو اڈے فراہم کرے گا۔ چھے جنوری کو اقوام متحدہ میں پاکستان نے ونیز ویلا کے خلاف ٹرمپ کے ایکشن کی مذمت کر کے ایک دفعہ پھر سوشل میڈیا کو غلط ثابت کر دیا ہے۔

ونیزویلا میں ٹرمپ نے جو کیا ہے اْس نے پوری دنیا کو ہلادیا ہے۔ اب اگر روسی صدر پیوٹن کے حکم پر یوکراین کے صدر زیلنسکی کو کہیں سے اغواء کر کے ماسکو پہنچا دیا جاتا ہے تو ٹرمپ کیا کر لیں گے؟ بھارتی پارلیمنٹ کے ایک مسلمان رکن اسدالدین اویسی نے اپنے وزیر اعظم مودی سے سے مطالبہ کیا ہے کہ جس طرح ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر کو اغوا کر کے نیو یارک پہنچا دیا تو آپ بھارت میں حملوں کے مبینہ ملزمان کو پاکستان سے اغواء کر کے دہلی کیوں نہیں لاتے؟ اویسی صاحب آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ ہیں۔ یہ تنظیم قیام پاکستان سے بہت سال پہلے قائد اعظم کے ایک ساتھی نواب بہادر یار جنگ نے قائم کی تھی۔ یہ تنظیم حیدر آباد دکن کے مسلمانوں کی سماجی فلاح و بہود کی ذمے دار تھی لیکن نواب صاحب کی وفات کے بعد سیاسی پلیٹ فارم میںبدل گئی۔ آج کل اسدالدین اویسی اس پلیٹ فارم سے خود کو بھارت کا وفادار ثابت کرنے کے لیے ایسے ایسے بیانات دیتے ہیں کہ کبھی ان پر ہنسی آتی ہے اور کبھی ترس۔ ایک غیر ملکی نشریاتی ادارے نے مجھے پوچھا کہ کیا اسدالدین اویسی کے بیان کے بعد آپ کو ایک اور پاک بھارت جنگ کا خطرہ نظر نہیں آرہا؟ میں نے جواب میں کہا خطرے میں تو اویسی صاحب نظر آتے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے تو واضح الفاظ میں بتا دیا ہے کہ آج کل بھارتی میڈیا پر یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ2026ء میں بھارت اور افغانستان سے پاکستان پر مشترکہ حملہ کیا جائے گا اور پاکستان حملہ آوروں کو سبق سکھانے کے لیے تیار بیٹھا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے افغان طالبان کے بارے میں جو لب و لہجہ اختیار کیا اس کے بعد ایک افغان صحافی نے مجھے پوچھا کہ کہیں پاکستان نے افغان طالبان کی قیادت کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اغواکرنے کا منصوبہ تو نہیں بنا لیا میں نے پوچھا کہ یہ کیسی بات کر رہے ہو؟ افغان صحافی نے بتایا کہ ایک طالبان مخالف رہنما اور احمد شاہ مسعود کے صاحبزادے احمد مسعود نے باقاعدہ بیان جاری کیا ہے کہ جس طرح ٹرمپ نے ونیزویلا کے صدر کو اغوا کیا ہے پاکستان بھی افغان طالبان کے لیڈر ملا ہیبت اللہ کو قندھار سے اغواء کر لے گا۔ یہ بیان میرے لیے حیران کن تھا۔ افغان صحافی نے پوچھا کہ اگر پاکستان فوجی کارروائی کے ذریعے افغان طالبان کی قیادت کو ختم کر دیتا ہے تو کیا پاکستان کا مسئلہ حل ہو جائے گا؟ کیا کابل میں ایک پاکستان دوست حکومت قائم ہو جائے گی؟ میں نے افغان صحافی سے پوچھا کہ اگر کابل سے طالبان کی حکومت ختم ہو جائے تو کیا ہوگا؟ اس نے جواب میں کہا کہ شمالی افغانستان احمد مسعود اور عبد الرشید دوستم کے حامیوں کے پاس چلا جائے گا۔ مشرقی افغانستان میں کہیں

طالبان اور کہیں داعش کا غلبہ قائم ہو جائے گا اور کابل میں خانہ جنگی شروع ہوجائے گی۔ داعش 2013 میں ابوبکر البغدادی نے عراق اور شام میں قائم کی تھی۔ 2015 میں طالبان کے ایک باغی حافظ سعید اورکزئی نے پاکستان اور افغانستان میں داعش کی شاخ قائم کی۔ داعش اور طالبان 2015ء سے ایک دوسرے پر حملے کر رہے ہیں۔ داعش کی طرف سے افغان طالبان کو پاکستان کا ایجنٹ قرار دیا جاتا رہا ہے اور اب پاکستان کی حکومت افغان طالبان کو بھارت کا ایجنٹ قرار دے رہی ہے۔ ایرانی حکومت داعش کو اسرائیل کی تخلیق سمجھتی ہے کیونکہ داعش کے جنگجو اسرائیل سے لڑنے کے بجائے ایران اور افغانستان کی طرف ہجرت کر رہے ہیں۔ داعش کو غزہ کی نہیں افغانستان کی فکر ہے۔ پاکستان نے داعش کے ایک افغان کمانڈر محمد شریف اللہ کو گرفتار کر کے پچھلے سال امریکا کے حوالے کیا تھا۔

حال ہی میں داعش کا ایک اور افغان رہنما سلطان عزیز عزام پاکستان میں گرفتار ہو چکا ہے جو اپنے ریڈیو ’’صدائے خلافت‘‘ پر افغان طالبان کو منافق قرار دیا کرتا تھا اور افغانوں کے ساتھ ساتھ پاکستانیوں کو بھی اپنی ریاست کے خلاف بغاوت پر اکساتا تھا۔ پاکستان کو چاہیے کہ سلطان عزیز عزام سے ہونے والی انویسٹی گیشن کی تفصیلات کو سامنے لائے تاکہ پتا چلے داعش کا اصل ماسٹر مائنڈ اسرائیل ہے یا کوئی مغربی ملک؟ پاکستان سمیت خطے کے تمام ممالک کو افغانستان کے بارے میں ایک مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ افغان طالبان کو بھی ثابت کرنا ہے کہ وہ بھارتی کنٹرول میں نہیں ہیں بصورت دیگر ان کے معاملات بہت بگڑ سکتے ہیں۔ دوسری طرف پاکستان کو بھی سوچنا ہوگا کہ اگر افغانستان سے طالبان کا کنٹرول ختم ہو جاتا ہے تو پھر کیا ہوگا؟ کیا دوبارہ خانہ جنگی کی صورت میں ایک دفعہ پھر لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان کی طرف نہیں دوڑیں گے؟ (بشکریہ: روزنامہ جنگ

حامد میر.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: افغان طالبان کو افغان صحافی سوشل میڈیا سفارت کار طالبان کے اور افغان صحافی نے جائے گا ہو جائے کے ساتھ دیا ہے کے بعد کے ایک کیا ہے

پڑھیں:

ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف

پاکستان کرکٹ ٹیم کے وائٹ بال ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے آسٹریلیا کے خلاف جاری ون ڈے سیریز میں استعمال ہونے والی اسپن فرینڈلی وکٹوں پر ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سنہ 2027 ورلڈ کپ کی تیاریوں کے لیے ٹیم کی حکمت عملی جامع تحقیق اور مختلف حالات کے جائزے پر مبنی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ون ڈے ٹیم کی تشکیل پر مسلسل کام جاری، ورلڈ کپ کو ہدف بنایا لیا، مائیک ہیسن

پاکستان نے 3 میچوں کی سیریز کے پہلے ون ڈے میں کم اسکور والے سنسنی خیز مقابلے کے بعد 0-1 کی برتری حاصل کر رکھی ہے تاہم بعض کرکٹ مبصرین نے سوال اٹھایا تھا کہ آیا سست اور اسپن بولنگ کے لیے سازگار وکٹیں ٹیم کو 2027 کے ورلڈ کپ کے لیے مؤثر تیاری فراہم کر سکیں گی یا نہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں مائیک ہیسن نے کہا کہ یہ تصور درست نہیں کہ جنوبی افریقا کی تمام وکٹیں تیز اور باؤنس والی ہوتی ہیں۔

’ورلڈ کپ 2027 کے لیے ٹیم کی تیاری: پاکستانی وکٹیں موزوں ہیں‘

انہوں نے لکھا کہ میں یہ باتیں سن رہا ہوں کہ پاکستان میں موجودہ وکٹیں جنوبی افریقہ میں ہونے والے ورلڈ کپ کی تیاری کے لیے موزوں نہیں ہیں لیکن حقیقت اس سے مختلف ہے۔

I've been hearing a bit of chatter about the pitches here in Pakistan not being the ideal preparation for the World Cup in South Africa. It’s actually a topic I talked about on the latest #PCB podcast.

Firstly the World Cup is jointly hosted in South Africa, Zimbabwe and…

— Mike Hesson (@CoachHesson) June 1, 2026

ہیسن نے یاد دلایا کہ سنہ 2027 کا آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ صرف جنوبی افریقا میں نہیں بلکہ زمبابوے اور نمیبیا میں بھی کھیلا جائے گا جہاں متعدد میدانوں پر اسپنرز کو نمایاں مدد ملتی ہے۔

مزید پڑھیے: ورلڈ کپ سے قبل پاور پلے اور مڈل اوورز میں بہتری ضروری ہے، ہیڈ کوچ مائیک ہیسن

انہوں نے کہا کہ زمبابوے اور نمیبیا میں ایسے کئی وینیوز موجود ہیں جہاں اسپن ایک اہم عنصر ہوتا ہے اور پاکستان کو وہاں بھی میچز کھیلنے ہیں۔

پاکستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ نے سال 2024 میں جنوبی افریقا کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پارل میں کھیلے گئے ون ڈے میچ میں بھی اسپن بولنگ نے اہم کردار ادا کیا تھا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جنوبی افریقہ کی تمام وکٹوں کو یکساں طور پر تیز اور باؤنس والی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ تاثر کہ جنوبی افریقا کی ہر وکٹ رفتار اور باؤنس کے لیے مشہور ہے حقیقت پر مبنی نہیں۔

مزید پڑھیں: دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری

نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے کوچ نے شائقین کو یقین دلایا کہ ٹیم مینجمنٹ نے ورلڈ کپ کے حوالے سے تفصیلی تحقیق کی ہے اور آئندہ 18 ماہ کے دوران مختلف حالات اور وکٹوں پر کھیلنے کی بھرپور تیاری کی جائے گی تاکہ پاکستان عالمی ایونٹ کے لیے ہر ممکن طور پر تیار ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاکستان کی اسپن فرینڈلی وکٹس پاکستان کی سلو وکٹس پاکستانی پچز پاکستانی وکٹس مائیک ہیسن ورلڈ کرکٹ کپ 2027

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی