Express News:
2026-06-02@22:27:56 GMT

ترقی کا قومی بیانیہ

اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT

پاکستان نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ دشمنی نہیں چاہتا لیکن ساتھ ہی واضح کردیا کہ دوطرفہ تعلقات میں کسی بھی بامعنی بہتری کا انحصار کابل کی جانب سے اس ٹھوس، قابل تصدیق اور تحریری یقین دہانی پر ہے۔

ان خیالات کا اظہار وزارت خارجہ کی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان نے کیا۔ دوسری جانب چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے قومی سلامتی کو درپیش کسی بھی خطرے کے خلاف پاک فوج کی زیرو ٹالرنس پالیسی پر زور دیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ ادارہ پیشہ ورانہ مہارت، یکسوئی اور عزم کے ساتھ ہمہ جہت چیلنجز کا مقابلہ کرے گا۔ جب کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بلوچستان میں قومی شاہراہ N-25 اور پانچ دانش اسکولوں کا سنگ بنیاد رکھ دیا اور کہا ہے کہ صوبے کو درپیش سیکیورٹی، معاشی اور ترقیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وفاق اور صوبے کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا، افواج پاکستان اور سیکیورٹی اداروں کی قربانیوں کے باعث ملک کا دفاع مضبوط ہوا ہے،2018ء کی طرح دوبارہ دہشت گردوں کا صفایا کریں گے۔

 افغانستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف نہ تو نیا ہے اور نہ ہی غیر منطقی۔ اسلام آباد بارہا اس بات کا اعادہ کر چکا ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ دشمنی نہیں چاہتا، نہ ہی افغان عوام کے خلاف کوئی منفی جذبات رکھتا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ یہ خواہش ظاہر کی ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات باہمی احترام، برابری اور امن پر مبنی ہوں، تاہم یہ خواہش اس وقت تک عملی شکل اختیار نہیں کر سکتی جب تک افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہوتی رہے۔ وزارت خارجہ کی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ترجمان کا یہ کہنا کہ دوطرفہ تعلقات میں کسی بھی بامعنی بہتری کا انحصار کابل کی جانب سے ٹھوس، قابل تصدیق اور تحریری یقین دہانی پر ہے، دراصل ریاستِ پاکستان کے عوامی جذبات اور زمینی حقائق کی ترجمانی ہے۔

یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی بڑی وارداتوں کے تانے بانے افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں سے جا ملتے ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان اور دیگر شدت پسند تنظیموں کو افغان سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں میسر رہی ہیں جہاں سے وہ پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرتی رہی ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ کابل کی جانب سے اب تک اس حوالے سے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات نظر نہیں آتے جس کے باعث اعتماد کی فضا قائم نہیں ہو پا رہی۔پاکستان کا یہ بھی واضح مؤقف ہے کہ اس کے تحفظات کی بنیاد سیاسی یا نظریاتی اختلاف نہیں بلکہ خالصتاً سیکیورٹی خدشات ہیں۔

اسلام آباد نے کبھی یہ نہیں کہا کہ وہ افغانستان کے داخلی نظام یا وہاں کی حکومت کے طرزِ حکمرانی پر اثر انداز ہونا چاہتا ہے۔ پاکستان صرف یہ چاہتا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو، جو کہ بین الاقوامی قوانین اور ہمسائیگی کے اصولوں کے عین مطابق مطالبہ ہے، اگر افغانستان واقعی ایک ذمے دار ریاست کے طور پر علاقائی امن میں کردار ادا کرنا چاہتا ہے تو اسے اس بنیادی ذمے داری کو تسلیم کرنا ہوگا۔

ان سیکیورٹی خدشات کے تناظر میں پاکستان کی عسکری قیادت کا کردار نہایت اہم اور فیصلہ کن ہو چکا ہے۔ چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج نے نہ صرف دہشت گردی کے خلاف اپنی زیرو ٹالرنس پالیسی کو دوٹوک انداز میں دہرایا ہے بلکہ عملی سطح پر بھی اس کا مظاہرہ کیا ہے۔ بنگلہ دیش کی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل حسن محمود خان کی جی ایچ کیو راولپنڈی میں آمد اور اعلیٰ عسکری قیادت سے ملاقات اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان خطے میں دفاعی تعاون اور عسکری سفارت کاری کو بھی انتہائی اہمیت دے رہا ہے۔

یہ ملاقات محض رسمی نوعیت کی نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک گہرا پیغام پوشیدہ ہے۔ جنوبی ایشیا اس وقت غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے جہاں ایک جانب طاقت کے توازن میں تبدیلی آ رہی ہے تو دوسری جانب غیر ریاستی عناصر اور ہائبرڈ وار جیسے خطرات بھی شدت اختیار کر رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کا دیگر دوست ممالک کے ساتھ عسکری روابط کو مضبوط کرنا ایک دانشمندانہ حکمت عملی ہے۔

پاک فوج کے بنیادی مشن، یعنی ملک کی خود مختاری، علاقائی سالمیت اور داخلی استحکام کے تحفظ کا اعادہ دراصل دشمن عناصر کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج نہ صرف مکمل طور پر چوکس ہیں بلکہ ہر قسم کے چیلنج سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔

لاہورگیریژن کے دورے کے دوران آپریشنل تیاری، تربیتی معیار اور جنگی صلاحیت میں اضافے کے اقدامات پر بریفنگ اس بات کی دلیل ہے کہ پاک فوج بدلتے ہوئے جنگی تقاضوں، جدید ٹیکنالوجی اور غیر روایتی خطرات کے مطابق خود کو مسلسل اپ گریڈ کر رہی ہے۔ یہ عسکری تیاری اس لیے بھی ناگزیر ہے کیونکہ پاکستان کو صرف سرحد پار دہشت گردی ہی نہیں بلکہ ہائبرڈ وار، پروپیگنڈا مہمات اور اندرونی انتشار پھیلانے کی سازشوں کا بھی سامنا ہے۔ دشمن عناصر جانتے ہیں کہ روایتی جنگ کے ذریعے پاکستان کو کمزور کرنا ممکن نہیں، اس لیے وہ معاشی دباؤ، نسلی و صوبائی تعصبات اور دہشت گردی جیسے ہتھکنڈوں کا سہارا لے رہے ہیں۔ ایسے میں ریاست کا مضبوط اور متحد مؤقف ہی ان سازشوں کو ناکام بنا سکتا ہے۔

 اسی تناظر میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کی بلوچستان میں حالیہ سرگرمیاں غیر معمولی اہمیت کی حامل ہیں۔ بلوچستان، جو رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا مگر ترقی کے اعتبار سے پسماندہ صوبہ ہے، طویل عرصے سے احساسِ محرومی اور بدامنی کا شکار رہا ہے۔ وزیراعظم کا یہ کہنا کہ بلوچستان کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے، محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک حقیقت پسندانہ اعتراف ہے کہ جب تک بلوچستان کو قومی ترقی کے دھارے میں شامل نہیں کیا جاتا، ملک مجموعی طور پر آگے نہیں بڑھ سکتا۔

قومی شاہراہ N-25 اور پانچ دانش اسکولوں کے سنگ بنیاد رکھنا اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ موجودہ حکومت بلوچستان کی ترقی کو محض نعروں تک محدود نہیں رکھنا چاہتی بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے صوبے کے مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبے نہ صرف معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیتے ہیں بلکہ صوبے کو ملک کے دیگر حصوں سے جوڑنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی طرح دانش اسکولوں کا قیام اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ تعلیم کے بغیر کسی بھی قوم یا خطے کی ترقی ممکن نہیں۔وزیراعظم کی جانب سے یہ بات بھی بالکل درست طور پر اجاگر کی گئی کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے پیچھے خارجی ہاتھ کارفرما ہے۔

یہ کوئی الزام نہیں بلکہ زمینی حقائق اور سیکیورٹی اداروں کی تحقیقات کا نچوڑ ہے۔ ہمسایہ ملک کی جانب سے خوارجی عناصر کی سرپرستی اور فتنہ الہندستان کی سرگرمیاں پاکستان کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن چکی ہیں۔ پاکستان نے بارہا عالمی برادری کو اس حوالے سے شواہد فراہم کیے ہیں مگر بدقسمتی سے بین الاقوامی سطح پر اس خطرے کی سنگینی کو وہ توجہ نہیں دی گئی جس کی ضرورت تھی۔

سیلاب متاثرین کے لیے گھروں کی تعمیر، عالمی بینک کی جانب سے 112 ارب روپے کی گرانٹ اور کچھی کینال منصوبے کی تکمیل جیسے اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ریاست مشکل حالات کے باوجود اپنے عوام کو تنہا نہیں چھوڑ رہی۔ کچھی کینال منصوبہ بلوچستان کی زرعی ترقی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی تکمیل سے نہ صرف زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ ہزاروں افراد کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

یہ وہ عملی اقدامات ہیں جو صوبے میں پائیدار امن کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان کا حالیہ بیانیہ واضح، مضبوط اور حقیقت پسندانہ ہے۔ افغانستان کے حوالے سے دوٹوک مؤقف، عسکری قیادت کی زیرو ٹالرنس پالیسی، علاقائی دفاعی روابط اور بلوچستان کی ترقی پر توجہ، یہ سب ایک ہی قومی حکمتِ عملی کے مختلف پہلو ہیں۔ پاکستان نے یہ پیغام واضح طور پر دے دیا ہے کہ وہ امن کا خواہاں ہے مگر کمزوری کی قیمت پر نہیں۔ ریاست نہ صرف اپنی سرحدوں کے دفاع کے لیے تیار ہے بلکہ اپنے عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لیے بھی سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی سطح پر اتحاد، اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور عوامی اعتماد کو مزید مضبوط کیا جائے۔ دشمن عناصر کی سب سے بڑی خواہش یہی ہے کہ پاکستان اندرونی اختلافات اور انتشار کا شکار ہو جائے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی قوم اور ادارے یکجا ہوئے ہیں، ملک نے ہر چیلنج پر قابو پایا ہے۔ موجودہ حالات میں بھی یہی راستہ پاکستان کو امن، استحکام اور ترقی کی منزل تک لے جا سکتا ہے اور ریاستی پالیسیوں میں یہی عزم اور تسلسل نظر آ رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: افغانستان کے بلوچستان کی پاکستان کا پاکستان نے کہ پاکستان پاکستان کے کی جانب سے نہیں بلکہ ہے کہ پاک ہیں بلکہ کا اعادہ حوالے سے کے ساتھ پاک فوج کی ترقی ترقی کے کسی بھی کے خلاف چیف ا ف ہیں کہ اس بات رہی ہے کے لیے

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد