Express News:
2026-07-24@02:33:04 GMT

ترقی کا قومی بیانیہ

اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT

پاکستان نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ دشمنی نہیں چاہتا لیکن ساتھ ہی واضح کردیا کہ دوطرفہ تعلقات میں کسی بھی بامعنی بہتری کا انحصار کابل کی جانب سے اس ٹھوس، قابل تصدیق اور تحریری یقین دہانی پر ہے۔

ان خیالات کا اظہار وزارت خارجہ کی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان نے کیا۔ دوسری جانب چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے قومی سلامتی کو درپیش کسی بھی خطرے کے خلاف پاک فوج کی زیرو ٹالرنس پالیسی پر زور دیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ ادارہ پیشہ ورانہ مہارت، یکسوئی اور عزم کے ساتھ ہمہ جہت چیلنجز کا مقابلہ کرے گا۔ جب کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بلوچستان میں قومی شاہراہ N-25 اور پانچ دانش اسکولوں کا سنگ بنیاد رکھ دیا اور کہا ہے کہ صوبے کو درپیش سیکیورٹی، معاشی اور ترقیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وفاق اور صوبے کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا، افواج پاکستان اور سیکیورٹی اداروں کی قربانیوں کے باعث ملک کا دفاع مضبوط ہوا ہے،2018ء کی طرح دوبارہ دہشت گردوں کا صفایا کریں گے۔

 افغانستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف نہ تو نیا ہے اور نہ ہی غیر منطقی۔ اسلام آباد بارہا اس بات کا اعادہ کر چکا ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ دشمنی نہیں چاہتا، نہ ہی افغان عوام کے خلاف کوئی منفی جذبات رکھتا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ یہ خواہش ظاہر کی ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات باہمی احترام، برابری اور امن پر مبنی ہوں، تاہم یہ خواہش اس وقت تک عملی شکل اختیار نہیں کر سکتی جب تک افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہوتی رہے۔ وزارت خارجہ کی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ترجمان کا یہ کہنا کہ دوطرفہ تعلقات میں کسی بھی بامعنی بہتری کا انحصار کابل کی جانب سے ٹھوس، قابل تصدیق اور تحریری یقین دہانی پر ہے، دراصل ریاستِ پاکستان کے عوامی جذبات اور زمینی حقائق کی ترجمانی ہے۔

یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی بڑی وارداتوں کے تانے بانے افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں سے جا ملتے ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان اور دیگر شدت پسند تنظیموں کو افغان سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں میسر رہی ہیں جہاں سے وہ پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرتی رہی ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ کابل کی جانب سے اب تک اس حوالے سے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات نظر نہیں آتے جس کے باعث اعتماد کی فضا قائم نہیں ہو پا رہی۔پاکستان کا یہ بھی واضح مؤقف ہے کہ اس کے تحفظات کی بنیاد سیاسی یا نظریاتی اختلاف نہیں بلکہ خالصتاً سیکیورٹی خدشات ہیں۔

اسلام آباد نے کبھی یہ نہیں کہا کہ وہ افغانستان کے داخلی نظام یا وہاں کی حکومت کے طرزِ حکمرانی پر اثر انداز ہونا چاہتا ہے۔ پاکستان صرف یہ چاہتا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو، جو کہ بین الاقوامی قوانین اور ہمسائیگی کے اصولوں کے عین مطابق مطالبہ ہے، اگر افغانستان واقعی ایک ذمے دار ریاست کے طور پر علاقائی امن میں کردار ادا کرنا چاہتا ہے تو اسے اس بنیادی ذمے داری کو تسلیم کرنا ہوگا۔

ان سیکیورٹی خدشات کے تناظر میں پاکستان کی عسکری قیادت کا کردار نہایت اہم اور فیصلہ کن ہو چکا ہے۔ چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج نے نہ صرف دہشت گردی کے خلاف اپنی زیرو ٹالرنس پالیسی کو دوٹوک انداز میں دہرایا ہے بلکہ عملی سطح پر بھی اس کا مظاہرہ کیا ہے۔ بنگلہ دیش کی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل حسن محمود خان کی جی ایچ کیو راولپنڈی میں آمد اور اعلیٰ عسکری قیادت سے ملاقات اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان خطے میں دفاعی تعاون اور عسکری سفارت کاری کو بھی انتہائی اہمیت دے رہا ہے۔

یہ ملاقات محض رسمی نوعیت کی نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک گہرا پیغام پوشیدہ ہے۔ جنوبی ایشیا اس وقت غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے جہاں ایک جانب طاقت کے توازن میں تبدیلی آ رہی ہے تو دوسری جانب غیر ریاستی عناصر اور ہائبرڈ وار جیسے خطرات بھی شدت اختیار کر رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کا دیگر دوست ممالک کے ساتھ عسکری روابط کو مضبوط کرنا ایک دانشمندانہ حکمت عملی ہے۔

پاک فوج کے بنیادی مشن، یعنی ملک کی خود مختاری، علاقائی سالمیت اور داخلی استحکام کے تحفظ کا اعادہ دراصل دشمن عناصر کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج نہ صرف مکمل طور پر چوکس ہیں بلکہ ہر قسم کے چیلنج سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔

لاہورگیریژن کے دورے کے دوران آپریشنل تیاری، تربیتی معیار اور جنگی صلاحیت میں اضافے کے اقدامات پر بریفنگ اس بات کی دلیل ہے کہ پاک فوج بدلتے ہوئے جنگی تقاضوں، جدید ٹیکنالوجی اور غیر روایتی خطرات کے مطابق خود کو مسلسل اپ گریڈ کر رہی ہے۔ یہ عسکری تیاری اس لیے بھی ناگزیر ہے کیونکہ پاکستان کو صرف سرحد پار دہشت گردی ہی نہیں بلکہ ہائبرڈ وار، پروپیگنڈا مہمات اور اندرونی انتشار پھیلانے کی سازشوں کا بھی سامنا ہے۔ دشمن عناصر جانتے ہیں کہ روایتی جنگ کے ذریعے پاکستان کو کمزور کرنا ممکن نہیں، اس لیے وہ معاشی دباؤ، نسلی و صوبائی تعصبات اور دہشت گردی جیسے ہتھکنڈوں کا سہارا لے رہے ہیں۔ ایسے میں ریاست کا مضبوط اور متحد مؤقف ہی ان سازشوں کو ناکام بنا سکتا ہے۔

 اسی تناظر میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کی بلوچستان میں حالیہ سرگرمیاں غیر معمولی اہمیت کی حامل ہیں۔ بلوچستان، جو رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا مگر ترقی کے اعتبار سے پسماندہ صوبہ ہے، طویل عرصے سے احساسِ محرومی اور بدامنی کا شکار رہا ہے۔ وزیراعظم کا یہ کہنا کہ بلوچستان کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے، محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک حقیقت پسندانہ اعتراف ہے کہ جب تک بلوچستان کو قومی ترقی کے دھارے میں شامل نہیں کیا جاتا، ملک مجموعی طور پر آگے نہیں بڑھ سکتا۔

قومی شاہراہ N-25 اور پانچ دانش اسکولوں کے سنگ بنیاد رکھنا اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ موجودہ حکومت بلوچستان کی ترقی کو محض نعروں تک محدود نہیں رکھنا چاہتی بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے صوبے کے مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبے نہ صرف معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیتے ہیں بلکہ صوبے کو ملک کے دیگر حصوں سے جوڑنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی طرح دانش اسکولوں کا قیام اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ تعلیم کے بغیر کسی بھی قوم یا خطے کی ترقی ممکن نہیں۔وزیراعظم کی جانب سے یہ بات بھی بالکل درست طور پر اجاگر کی گئی کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے پیچھے خارجی ہاتھ کارفرما ہے۔

یہ کوئی الزام نہیں بلکہ زمینی حقائق اور سیکیورٹی اداروں کی تحقیقات کا نچوڑ ہے۔ ہمسایہ ملک کی جانب سے خوارجی عناصر کی سرپرستی اور فتنہ الہندستان کی سرگرمیاں پاکستان کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن چکی ہیں۔ پاکستان نے بارہا عالمی برادری کو اس حوالے سے شواہد فراہم کیے ہیں مگر بدقسمتی سے بین الاقوامی سطح پر اس خطرے کی سنگینی کو وہ توجہ نہیں دی گئی جس کی ضرورت تھی۔

سیلاب متاثرین کے لیے گھروں کی تعمیر، عالمی بینک کی جانب سے 112 ارب روپے کی گرانٹ اور کچھی کینال منصوبے کی تکمیل جیسے اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ریاست مشکل حالات کے باوجود اپنے عوام کو تنہا نہیں چھوڑ رہی۔ کچھی کینال منصوبہ بلوچستان کی زرعی ترقی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی تکمیل سے نہ صرف زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ ہزاروں افراد کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

یہ وہ عملی اقدامات ہیں جو صوبے میں پائیدار امن کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان کا حالیہ بیانیہ واضح، مضبوط اور حقیقت پسندانہ ہے۔ افغانستان کے حوالے سے دوٹوک مؤقف، عسکری قیادت کی زیرو ٹالرنس پالیسی، علاقائی دفاعی روابط اور بلوچستان کی ترقی پر توجہ، یہ سب ایک ہی قومی حکمتِ عملی کے مختلف پہلو ہیں۔ پاکستان نے یہ پیغام واضح طور پر دے دیا ہے کہ وہ امن کا خواہاں ہے مگر کمزوری کی قیمت پر نہیں۔ ریاست نہ صرف اپنی سرحدوں کے دفاع کے لیے تیار ہے بلکہ اپنے عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لیے بھی سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی سطح پر اتحاد، اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور عوامی اعتماد کو مزید مضبوط کیا جائے۔ دشمن عناصر کی سب سے بڑی خواہش یہی ہے کہ پاکستان اندرونی اختلافات اور انتشار کا شکار ہو جائے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی قوم اور ادارے یکجا ہوئے ہیں، ملک نے ہر چیلنج پر قابو پایا ہے۔ موجودہ حالات میں بھی یہی راستہ پاکستان کو امن، استحکام اور ترقی کی منزل تک لے جا سکتا ہے اور ریاستی پالیسیوں میں یہی عزم اور تسلسل نظر آ رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: افغانستان کے بلوچستان کی پاکستان کا پاکستان نے کہ پاکستان پاکستان کے کی جانب سے نہیں بلکہ ہے کہ پاک ہیں بلکہ کا اعادہ حوالے سے کے ساتھ پاک فوج کی ترقی ترقی کے کسی بھی کے خلاف چیف ا ف ہیں کہ اس بات رہی ہے کے لیے

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی