ایران معاشی تباہی کے قریب ہے۔ امریکا وینز ویلا کی طرح ایران کی رجیم چینج کرنے کی کوشش کرے گا تو ایران میں علماء کی حکومت کو مضبوط کردے گا۔ حکومت کی مخالفت کرنے والے گروہ جن میں کمیونسٹ تودہ پارٹی بھی شامل ہے، امریکا کے خلاف مزاحمت کرے گی اور دنیا ایک دفعہ پھر دہشت گردی کا شکار ہوسکتی ہے۔ ایران پرگزشتہ سال امریکا اور اسرائیل کے حملے اور ایران پر لگائے جانے والی اقتصادی پابندیوں سے تیل پیدا کرنے والا یہ ملک شدید ماحولیاتی اور معاشی بحران کا شکار ہے۔
ایران میں تیل پیدا کرنے والے 10 ممالک میں ایک ہے۔ امریکا کی لگائی گئی پابندیوں سے پہلے روزانہ3.
گزشتہ سال سے ایران اور پڑوسی ممالک بدترین خشک سالی کا شکار ہیں۔ قطر سب سے زیادہ ماحولیاتی تبدیلیوں کا شکار ہوا۔ وہاں گزشتہ سال بارشیں نہیں ہوئیں جس کی بناء پر افراطِ زر بڑھ گیا اور اشیاء صرف کی قیمتوں میں 60 فیصد تک اضافہ ہوچکا ہے۔
ایران میں اس وقت پینے کا ایک لیٹر پانی 60 (Iranian Rial) کا ہوگیا ہے ۔ ایران میں اس وقت 28 فیصد آبادی غربت کی خط کے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ اس معاشی بدحالی میں مزید 40 فیصد افراد خط غربت کے نیچے چلے جائیں گے، اس مجموعی صورتحال میں ایرانی سکہ کی قیمت انتہائی کم ہوتی جا رہی ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ ایران میں افراطِ زر کی شرح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔
آئی ایم ایف کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران میں افراطِ زر 25 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ گزشتہ سال بنیادی اشیاء میں 92.4 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔ ایران کے بارے میں آنے والی حالیہ رپورٹوں کے مطابق ایک امریکی ڈالرکے بدلے 42000 ریال ملتے ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں ہزاروں ریال کا اضافہ ہوا ہے مگر حکومت قیمتیں کم کرنے اور تنخواہیں بڑھانے کی طاقت نہیں رکھتی۔ ایران میں ایک لیٹر دودھ 2000 ریال سے زیادہ میں بھی بڑی مشکل سے ملتا ہے۔
ایران میں پولیس کا ایک کام ان خواتین کو سزائیں دینا ہے جو ولایت فقہی کے علماء کے طے کردہ معیار سے ہٹ کر لباس پہنتی ہیں۔ اس پابندی کی بناء پر بہت سی خواتین کو مختصر اور طویل عرصے تک کے لیے سزائیں دی گئیں۔ دو سال قبل ایک کرد نژاد لڑکی Mahsa Amini کو تہران پولیس نے نقاب نہ پہننے پر گرفتارکرلیا تھا۔ مہشا کو پولیس ٹارچر کیمپ میں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس سے وہ جاں بحق ہوگئی۔ تہران کی خواتین نے کئی ماہ تک احتجاجی تحریک چلائی تھی۔ اس تحریک میں بائیں بازو کے گروہوں کے ارکان بھی شامل ہوگئے۔
اس وقت ایران کی حکومت کے بعض اہم وزراء حکومت کی خواتین کے بارے میں پالیسی میں تبدیلی کے حق میں تھے مگر سپریم لیڈر کے انتباہ کے بعد خاموشی چھاگئی تھی، مگر یہ خاموشی کسی نئے طوفان کا پیش خیمہ بننے جا رہی تھی، یوں موجودہ والا بننے کا عمل جاری رہا اور جب ایران کے عوام مکمل بدحالی کا شکار ہوئے تو نوجوانوں نے مہنگائی کے خلاف احتجاج شروع کردیا۔ حکومت نے صورتحال کی سنگینی کا اندازہ لگانے کے بجائے مزید سختی شروع کردی۔ ایران کی حکومت اپنے شہریوں کو ریلیف دینے پر آمادہ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کے تمام بڑے شہر اس احتجاج کی زد میں آگئے ہیں۔
ایران کی حکومت بھوکے لوگوں کے خلاف بے دریغ طاقت کا استعمال کررہی ہے جس کے نتیجے میں روزانہ مرنے والے مظاہرین کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ حکومت اور تاجروں میں ایک معاہدہ ہوا ہے جس کے بعد احتجاجی تحریک ختم ہوگئی ہے۔ حکومت نے متاثرہ خاندانوں کو روزانہ الاؤنس دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اگرچہ حکومت نے احتجاج کے خاتمے کا اعلان کیا ہے مگر ایران کے مختلف شہروں میں احتجاج جاری ہے اور احتجاج کرنے والوں پر پولیس کے تشدد میں مزید کمی نہیں آئی۔ حکومت نے کئی سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو گرفتار کیا ہے مگر حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت کے موجودہ اقدامات اس بڑے ہنگامہ کو نمٹنے کے لیے ناکافی ہیں۔
امریکا نے لاطینی امریکا کے ملک وینزویلا پر حملہ کرکے اس کے صدر کو ان کی اہلیہ سمیت اغواء کرکے استعماریت کی بدترین مثال قائم کی ہے۔ امریکا کے اس حملے سے 19ویں صدی میں برطانیہ، فرانس، ہالینڈ اور پرتگال وغیرہ کے ایشیائی اور افریقی ممالک میں حملوں اور ان کے حکمرانوں کو ہلاک کرنے اور پھر ان حملوں کو ان ممالک کے عوام کے مفاد میں قرار دے کر وہاں کی معدنیات اور قیمتی اثاثوں کو چرا کر اپنے ممالک کو خوشحال کرنے کی روایات تازہ ہوگئی، مگر امریکا کی اس کارروائی سے پورے خطے میں بدترین نتائج برآمد ہونگے۔ امریکا نے ایران کو بھی مظاہرین پر فائرنگ کرنے کے الزام میں سخت سزا کی دھمکی دی ہے۔ یہ وقت ہے کہ ایران کی حکومت اپنی پالیسی میں تبدیلی کرے۔ عوام کو بنیادی اشیاء کی فراہمی کے لیے دوست ممالک سے مدد لی جائے۔
…………
نوٹ:گزشتہ دنوں بلوچستان کے علاقہ خضدار کے ایک پسماندہ گاؤں کی ایک استاد ’’سلمیٰ کو سلام ‘‘کے عنوان سے میرا ایک کالم شائع ہوا تھا۔ حکومت بلوچستان نے اس آرٹیکل کی اشاعت کے بعد فوری طور پر بلوچستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے اکابرین کو ہدایت کی۔ بلوچستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے اکابرین نے سلمیٰ کے اسکول کو نئی عمارت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور سلمیٰ کو بھی 50 ہزار روپے ماہانہ مشاہرہ پر رکھ لیا گیا ہے۔ اس آرٹیکل سے بہت سارے لوگوں کے فائدہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ پرنٹ میڈیا آج بھی معاشرہ میں مثبت تبدیلیوں کے لیے کردار ادا کرسکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایران کی حکومت ہے کہ ایران ایران میں گزشتہ سال ایران کے حکومت نے تیل پیدا کا شکار کیا ہے کے لیے گیا ہے رہی ہے کے بعد
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔