پنجاب حکومت پراپرٹی اونر شپ ایکٹ میں ترمیم پر رضامند
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260110-08-20
لاہور (نمائندہ جسارت) پنجاب حکومت عدالتی اختیارات کی واپسی کے لیے پراپرٹی اونر شپ ایکٹ میں ترمیم لانے کے لیے رضامندی ظاہر کرتے ہوئے ایک قدم پیچھے ہٹنے پر تیار ہو گئی۔انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق نئی مجوزہ ترامیم میں ریٹائرڈ سیشن ججز پر مشتمل ٹربیونل ختم کرکے حاضر سروس ایڈیشنل سیشن ججز کو بطور ٹربیونل مقرر کرنے کی خدمات لی جائیں گی، قبضے سے متعلق ضلعی کمیٹیوں کو درخواستیں بھیجنے کا اختیار سول جج کو دیا جائے گا، کمیٹی براہ راست زیر التوا کیسز پر فیصلہ نہیں کر سکے گی۔ذرائع کے مطابق لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب پراپرٹی اونر شپ آرڈیننس کے خلاف آنے والی درجنوں درخواستوں کے بعد اس پر حکم امتناع جاری کر دیا تھا، پنجاب حکومت نے معاملے کو حل کرنے کے لئے اعلی سطح پر قانونی کمیٹی تشکیل دے دی تھی جس نے عدلیہ اور وکلا کے اعتراضات کے مطابق قانون میں ترامیم تیار کر لی ہیں۔ پنجاب حکومت کے ایک اعلیٰ سطح کے ذریعے نے بتایا ہے کہ مجوزہ ترامیم کے مطابق پراپرٹی اونر شپ ایکٹ کے تحت درخواست سنے جانے کا فیصلہ سول جج کرے گا، اس ترمیم کے بعد ایسے کیسز جو پہلے ہی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اور ان میں درخواست گزاروں نے ناجائز قبضہ کیے جانے کو درخواست کا حصہ بنایا ہے ایسی درخواستوں کو ضلعی کمیٹیوں کے پاس بھیجنے کا اختیار سول جج کے پاس ہوگا، یعنی درخواست براہ راست انتظامی کمیٹی کو نہیں دی جا سکے گی۔اس سے قبل کمیٹی کے کنوینیر کو درخواست دائر کرکے سول عدالت کو کیس کمیٹی کو واپس بھیجنے کا کہا گیا تھا جب کہ نئی ترمیم کے مطابق دونوں میں سے ایک فریق خود سول عدالت میں کیس کمیٹی کے پاس بھیجنے کی درخواست کرے گا جس کے بعد سول جج کے پاس اختیار ہوگا کہ وہ کیس کو کمیٹی کے پاس بھیجے گا یا نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پراپرٹی اونر شپ پنجاب حکومت کے مطابق سول جج کے پاس
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔