Jasarat News:
2026-07-24@05:00:13 GMT

پنجاب حکومت پراپرٹی اونر شپ ایکٹ میں ترمیم پر رضامند

اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260110-08-20

 

 

لاہور (نمائندہ جسارت) پنجاب حکومت عدالتی اختیارات کی واپسی کے لیے پراپرٹی اونر شپ ایکٹ میں ترمیم لانے کے لیے رضامندی ظاہر کرتے ہوئے ایک قدم پیچھے ہٹنے پر تیار ہو گئی۔انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق نئی مجوزہ ترامیم میں ریٹائرڈ سیشن ججز پر مشتمل ٹربیونل ختم کرکے حاضر سروس ایڈیشنل سیشن ججز کو بطور ٹربیونل مقرر کرنے کی خدمات لی جائیں گی، قبضے سے متعلق ضلعی کمیٹیوں کو درخواستیں بھیجنے کا اختیار سول جج کو دیا جائے گا، کمیٹی براہ راست زیر التوا کیسز پر فیصلہ نہیں کر سکے گی۔ذرائع کے مطابق لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب پراپرٹی اونر شپ آرڈیننس کے خلاف آنے والی درجنوں درخواستوں کے بعد اس پر حکم امتناع جاری کر دیا تھا، پنجاب حکومت نے معاملے کو حل کرنے کے لئے اعلی سطح پر قانونی کمیٹی تشکیل دے دی تھی جس نے عدلیہ اور وکلا کے اعتراضات کے مطابق قانون میں ترامیم تیار کر لی ہیں۔ پنجاب حکومت کے ایک اعلیٰ سطح کے ذریعے نے بتایا ہے کہ مجوزہ ترامیم کے مطابق پراپرٹی اونر شپ ایکٹ کے تحت درخواست سنے جانے کا فیصلہ سول جج کرے گا، اس ترمیم کے بعد ایسے کیسز جو پہلے ہی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اور ان میں درخواست گزاروں نے ناجائز قبضہ کیے جانے کو درخواست کا حصہ بنایا ہے ایسی درخواستوں کو ضلعی کمیٹیوں کے پاس بھیجنے کا اختیار سول جج کے پاس ہوگا، یعنی درخواست براہ راست انتظامی کمیٹی کو نہیں دی جا سکے گی۔اس سے قبل کمیٹی کے کنوینیر کو درخواست دائر کرکے سول عدالت کو کیس کمیٹی کو واپس بھیجنے کا کہا گیا تھا جب کہ نئی ترمیم کے مطابق دونوں میں سے ایک فریق خود سول عدالت میں کیس کمیٹی کے پاس بھیجنے کی درخواست کرے گا جس کے بعد سول جج کے پاس اختیار ہوگا کہ وہ کیس کو کمیٹی کے پاس بھیجے گا یا نہیں۔

نمائندہ جسارت.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پراپرٹی اونر شپ پنجاب حکومت کے مطابق سول جج کے پاس

پڑھیں:

نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی

راولپنڈی:

ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔

متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔

والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔

قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔

متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن