چین نے افغان حکومت سے پاکستان سے تعلقات بہتر کرنے کا مطالبہ کیا ہے، دی ڈپلومیٹ
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260110-08-25
بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک) چین نے افغان حکومت سے پاکستان سے تعلقات بہتر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔چین نے ایک بار پھر پاکستان کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اظہار کیا ہے۔ دی ڈپلومیٹ کے مطابق چین نے مسئلہ کشمیر کو سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل پر زور دیا ہے جب کہ افغان صورتحال پر بھی چین نے افغان طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جامع حکومت قائم کریں اور شدت پسندوں کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی کریں۔ چین نے پاکستان کے مؤقف کے مطابق افغان حکومت پر اعتدال پسندی اختیار کرنے اور پڑوسی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم رکھنے پر بھی زور دیا ہے۔عالمی جریدے کے مطابق چین خطے اور عالمی سطح پر پاکستان کی موجودہ پالیسیوں کی بھرپور حمایت کر رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے اور عالمی سطح پر پاکستان کی موجودہ پالیسیوں کی حمایت دراصل پاکستانی مؤقف کی بھرپور توثیق ہے، جب کہ پاکستان کی بہترین سفارت کاری اور دہشت گردی کے خلاف واضح اور دوٹوک مؤقف پر عالمی جریدہ دی ڈپلومیٹ نے بھی مہر ثبت کر دی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان کی کے مطابق چین نے کیا ہے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔