Express News:
2026-06-03@01:24:15 GMT

کلیات ڈاکٹر محمد اجمل

اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT

کلیات ڈاکٹر محمد اجمل کافی عرصے سے اسٹڈی میں پڑے ہوئے تھے۔چند دن قبل یہ کتاب اتفاقیہ طور پر سامنے آئی۔ ورق گردانی شروع کی۔ اس کو مرتب ڈاکٹر امجد طفیل نے کیا ہے اور خوب کیا ہے۔ یہ نسخہ دراصل اجمل صاحب کی بیش قیمت تحریریں ہیں ‘ جو جمع کی گئی ہیں۔ نفسیات ‘ تصوف اور ادب پر یہ مقالے کمال اہمیت کے حامل ہیں۔ اردو‘ میں اسقدر مشکل مضامین کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ہاں ‘ انگریزی زبان میں ان موضوعات پر بے حد لکھا گیا ہے۔ اب اس کتاب ‘ کے چیدہ چیدہ اقتباسات آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔

پیش لفظ میں امجد طفیل صاحب فرماتے ہیں: آج برسوں بعد جب میں ان کی اردو تحریروں کو کلیات کی شکل میں مرتب کر رہا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ یوں میں ان کے ساتھ اپنی رفاقت کو دائمی شکل دینا چاہتا ہوں۔

اس سے پہلے بھی ڈاکٹر محمد اجمل کی تحریریں دوبار شمیا مجید نے مرتب کر کے شائع کی ہیں۔ لیکن زیر نظر کلیات میں آپ کو بعض ایسی تحریریں بھی ملیں گی جو اس سے پہلے عرصہ دراز سے قارئین کی نظروں سے روپوش تھیں۔ مثلاً ڈاکٹر صاحب کی پہلی تصنیف ’’سقراط‘‘ مدت سے دستیاب نہیں تھی۔ اس کلیات میں اس کو سب سے پہلے جگہ دی گئی ہے۔ ان کی دوسری کتاب ’’تحلیلی نفسیات‘‘ کو مکمل اور مربوط شکل میں کلیات کا حصہ بنایا گیا ہے۔

شخصیت نامے میں کچھ یوںلکھا گیا ہے ۔ تصوف اور صوفیا ء سے ڈاکٹر اجمل کی دلچسپی عمر کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی گئی۔ انھوںنے مغرب کے جدید علوم کا مطالعہ دقعت نظر سے کیا تھالیکن ان کے قدم اپنی تہذیبی زمین پر بھی مضبوطی سے جمے ہوئے تھے۔ مذہب میں اور تصوف میں انھیں ایسے عناصر نظر آتے تھے جو جدید ذہن کومطمئن کر سکتے ہیں اور مادی دوڑ میں جتے انسان کو روحانی آسودگی بہم پہنچا سکتے ہیں۔ 

1975 میں سفر حجاز کے دوران ان کی ملاقات ایک نو مسلم صوفی ٹائیٹس بروک ہارٹ سے ہوئی اور ڈاکٹر اجمل نے ان سے بیعت کی خواہش کا اظہار کیا۔ بروک ہارٹ نے مسجد نبوی میں ان سے بیعت لی۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اصل بیعت خلیفہ لے گا۔ 1978میں جب انھیں جنیوا جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں سے سوئٹزرلینڈ گئے اور وہاں ’’شوآں‘‘ سے بیعت کے بعد دونوں ایک ہی سلسلہ سے منسلک ہونے کے باعث ایک دوسرے کے مزید قریب ہو گئے۔

سگمنڈ فرائیڈ کے متعلق ڈاکٹر اجمل رقم کرتے ہیں:اب ذرا فرائیڈ کے فلسفہ حیات کی طرف آئیے۔ اس کے نزدیک کوئی جامع اور پہلو دار نظریۂ حیات قائم کرنا سرے سے غلط ہے کیونکہ اس میں التباس کا دخل زیادہ ہو گا اور حقیقت اور صداقت کا کم ۔ انسان کے لیے بہترین طرز عمل یہی ہے کہ وہ سائنس کو اپنا نظریۂ حیات بنائے اور آہستہ آہستہ مشاہدات اور تجربات کو جمع کرتا جائے اور ان کی بنا پر ادھورے نظریے اور عارضی طور پر صحیح مفروضے بناتا چلا جائے۔

یہی ایک نجات کا راستہ ہے باقی رہا عام انسان تو وہ ابھی اس قدر ابتدائی حالت میں ہے کہ اس سے صحیح تصعید کی توقع رکھنا غلط ہے۔ سائنس کو نظریۂ حیات تو بنا لیا لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ یہاں بھی فرائیڈ سائنس سے مراد طبیعات اور کیمیا ہی لیتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ اگر وہ تصور سائنس میں معاشرتی علوم کو بھی شامل کرے تو کوئی نہ کوئی نظریۂ حیات استخراج ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ نفسیات میں مشاہدہ کی بنیاد کیا ہے؟ اس مشاہدہ کی سب سے لازمی صفت ہمدردی اور شاہد پر اعتماد ہے۔

علم اور مذہبی واردات میں کیا خوب لکھا ہے۔مذہب نہ تو فقط احساس ہے اور نہ ہی فقط خیال اور عمل بلکہ انسان کا مکمل اظہار ہے۔ عقل اور وجدان ایک ہی سرچشمہ سے ابھرتے ہیں‘ عقل حقیقت کو زمان و مکاں میں ڈھونڈتی ہے اور وجدان کی نگاہ دائمی حقیقت پر مرکوز ہوتی ہے۔ ایک حقیقت کو پارہ پارہ کر کے ہر پہلو کا علیحدہ علیحدہ جائزہ لیتی ہے۔

وجدان حال میں پوری حقیقت سے نشاط اندوز ہوتا ہے۔ دونوں کو اپنے احیاء کے لیے ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔ بقول برگسیاں ’’وجدان عقل کی ایک اعلیٰ صورت ہے۔‘‘ کانٹ نے اس معاملے میں غلطی کی کہ انھوں نے عقل اور وجدان میں خلیج حائل کی۔ خیال کے متعلق یہ کہنا کہ اس کی رسائی صرف محدود اشیاء تک ہوتی ہے اور وہ لامحدود کو نہیں پہنچ سکتا۔ یہ خیال کے متعلق ایک غلط فہمی ہے۔ اپنی گہری حرکت میں خیال’’ایک سریانی لامحدود‘‘ تک پہنچتا ہے جس کے خودارادی اظہار میں محدود تصورات محض چند لمحے بن جاتے ہیں۔ یہ کہنا زیادہ بجا ہو گا کہ محدود کے وجود ہی سے وہ علم ممکن ہے۔

تعلیم ہی سب کچھ ہے ۔ ڈاکٹر اجمل مضمون باندھتے ہیں۔یہ امر عرصہ سے مفکرین کے درمیان زیر بحث ہے کہ تعلیم کا دراصل مقصد کیا ہے؟ کیا ہم ایک بہتر طرز زندگی کی تخلیق چاہتے ہیں؟ یا ہمارے پاس احکام کا کوئی منشور موجود ہے جس پر ہم طلباء سے عملدرآمد کرانا چاہتے ہیں؟ کیا ہم ان کی قوت ارادی کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں تاکہ وہ اہلیت کے ساتھ کام کرنے کے قابل بن جائیں یا ہم آگہی کی دمک میں مکمل شخصیت کاارتقا چاہتے ہیں؟گوئٹے (Goethe) اور شلر کے درمیان مشہور خط وکتابت میں ان نکات پر بھی بحث ہوئی ہے۔ شلر (Sehiller) کا انداز فکر جمالیاتی ہے۔

تعلیم سے محض شخصیت کی دلربائی اور حسن چاہتا تھا۔ گوئٹے‘ جسے خود اپنی روح کے اندر کے اہرمن کاسامنا کرنا پڑتا تھا۔ ایک تعلیم یافتہ شخص سے حسن اور قوت ارادی کے امتزاج کا طالب تھا اصل اہمیت ’’کیسے‘‘ کی ہے صرف ’’کیا‘‘ کی نہیں۔ میں کیا کہہ رہا ہوںکہ نسبت میں کیسے کہہ رہا ہوں‘ زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ اگر دوران گفتگو میں لڑکھڑا جاؤں تو دھیما لہجہ اور دبے ہوئے ’’اگر‘‘ اور ’’مگر ‘‘ زور دار آواز میں ادا کیے ہوئے الفاظ سے عموماً زیادہ معنی خیز ہوتے ہیں۔ ’’کیا‘‘ اسی وقت اہمیت حاصل کر سکتا ہے جب اسے ذاتی سیاق و سباق سے حاصل کیا جائے۔ وہ لوگ جو ’’کیسے‘‘ پر زور دیتے ہیں‘ غیر ضروری ’’کیوں ‘‘ کے خلاف ہیں۔

تقدیر اور ذمے داری:فکر کی تاریخ میں واحد الوجود کے نظریے کو ہیگل سے زیادہ کسی نے تقویت نہیں دی۔ اور یہ اسی کی لگائی ہوئی بیل تھی‘ جس کو انگلستان میں گرین اور بریڈلے نے منڈھے چڑھایا۔ اس نظریے کا لب لباب یہ ہے کہ کثرت میں وحدت ہے۔ دنیا کا تنوع ایک ہی قسم کے مختلف پہلوؤں سے بنتا ہے۔ یہ جو ہمیں قدم قدم پر بوقلمونی نظر آتی ہے اور ہر نگاہ میں ایک نیا جلوہ پیدا ہوتا ہے ‘ ان میں علیحدہ علیحدہ حقیقت تو ہے‘ مگر تھوڑی‘ پوری اور دائمی حقیقت ’’قطعی‘‘ کی ہے۔

ان چھوٹی موٹی‘ دیکھنے سننے کی چیزوں میں نہیں ۔ اس نظریے کا ایک فوری نتیجہ یہ ہے کہ انسان کی انفرادیت خدا کی ہستی میں سما جاتی ہے اور اس کی نیکی اور گناہ کی ذمے داری بھی خدا کی ذمے داری بن جاتی ہے۔ ولیم جیمز ’’جبریت‘‘ اور ’’وحدت الوجود‘‘ میں کوئی فرق نہیں کرتا کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ یہ دونوں نظریے ایک ہی طرح انسان کی ذمے داری کو ختم کر دیتے ہیں‘ اس نے جبریت کے خلاف ایک ‘‘دوبدھا‘ تراشی ہے۔

قومی تشخص اور ثقافت:ہمارے ہاں اکثر باتیں تجریدی سطح پر ہوتی ہیں۔ یہ جو ایک سوال اٹھا تھا کہ ہمارے ہاں (Exclude) کرنے کی عادت کیوں ہے یعنی فلاں مجھ سے اتفاق نہیں کرتا یا تھوڑا سا اختلاف رکھتا ہے۔ اس لیے (Excluded) ہے‘ جیسے یہ اشفاق صاحب نے کہا تھا کہ مجھے اعلان کر دینا چاہیے کہ آدھا تیتر آدھا بیٹر ہے میں سمجھتا ہوں کہ اس میں ہم سب ہیں۔ یہ اعلان اس لیے نہیں ہو سکتا کہ ابھی تک ذہن صاف نہیں ہوئے ابھی تک زمین میں پیوست ہو کے آسمان تک پہنچنے والی بات پیدا نہیں ہوئی۔ اس وقت ہماری ثقافت کو اس کیفیت کی ضرورت ہے۔ ضرورت ہے ہماری ثقافت میں مختلف علامتوں کی ضرورت ہے‘ ہماری ثقافت کو اسلامی نقطہ نظر کی، مولانا جلال الدین رومیؒ کے نقطہ نظر کی، میں سمجھتا ہوں ضرورت ہے بچے کی علامت کی۔

یہ (Future) اور اس کے ساتھ امیدوں سے تعلق کا معاملہ ہے۔ پھر بچے کی علامت کے علاوہ ہم خاص طور پر یہ بھی دیکھیں گے کہ یہ جو اصناف کا فرق ہے ہم اسے کس طریقے سے دیکھتے ہیں‘ یہ کیسے ہماری ثقافت پر اثر انداز ہو رہا ہے؟ یہ ساری باتیں اسی صورت ممکن ہیں کہ ان سوالوں کے جوابات کو شعوری طور پر اپنے ذہن میں رکھیں اور اپنے ملک سے اور اس کے لوگوں سے آگہی پیدا کریں۔ کمال کتاب ہے۔ موضوعات ‘ خیال‘ وجدان اور حد درجہ مشکل نکات پر لکھی گئی ایک حد درجہ قیمتی کوشش ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ہماری ثقافت ڈاکٹر اجمل چاہتے ہیں ضرورت ہے ہوتا ہے کے ساتھ ہے اور ایک ہی کیا ہے

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی