مسجد نبوی میں 8335 طلبہ وطالبات کا حفظ قرآن
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مدینہ منورہ (انٹرنیشنل ڈیسک) مسجد نبوی میں 2025 ء کے دوران قرآنی تعلیم کے حلقوں میں 8335 طلبہ وطالبات نے قرآن کریم حفظ کیا۔ جاری اعداد وشمار کے مطابق قرآن کریم و سنت نبوی کلاسوں سے فارغ ہونے والے 2 لاکھ طلبہ کو اسناد جاری کی گئیں،جب کہ 2 لاکھ نئے طلبہ رجسٹرکیے گئے۔ مسجد نبوی کے حلقوں میں 170 ممالک کے طلبہ مستفیض ہوئے اور ایک لاکھ 86 ہزار سنت نبوی اور علمی نصوص کے لائسنس جاری کیے گئے۔ سنت نبوی اورعلمی نصوص کے شعبہ حفظ سے 25 ہزار طلبہ و طالبات فراغ التحصیل ہوئے ہیں۔ورچوئل قرآنی تعلیم پروگرام میں 40 ہزار طلبہ و طالبات کی رجسٹریشن کی گئی اور 3 ہزار سے زیادہ تعلیمی حلقوں کا بندوبست کیا گیا، ان حلقوں کی نگرانی کے لیے 1500 مرد وخواتین اساتذہ کو متعین کیا گیا۔ یومیہ بنیادوں پر طلبہ میں 30 لاکھ سے زیادہ خوراک کے پیکٹ تقسیم کیے تاکہ دوران تعلیم طلبہ کی خوراک کی ضروریات کو پورا کیا جائے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسجد نبوی میں علوم دینی سے سالانہ بنیادوں پر دنیا کے مختلف ملکوں سے آنے والے زائرین اور حجاج بھی فیض یاب ہوتے ہیں۔ دروسِ قرآن کے حلقوں سے سالانہ 12لاکھ عمرہ زائرین و حجاج مستفیض ہوتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مسجد نبوی
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔